دنیا

پاکستانی انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات تک نئی حکومت کو تسلیم نہ کریں، امریکی اراکینِ کانگرس کا صدر بائیڈن کو خط

امریکہ میں دو درجن سے زائد اراکینِ کانگرس نے صدر جو بائیڈن اور سیکریٹری خارجہ انٹونی بلنکن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان میں بننے والی نئی حکومت کو اس وقت تک تسلیم نہ کریں جب تک عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات نہ ہو جائیں۔

اس خط کی کاپی امریکی ریاست ٹیکساس سے منتخب رُکنِ کانگرس گریگ کاسار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کی جس پر مزید 30 اراکینِ کانگرس کے دستخط بھی موجود ہیں۔

امریکی صدر جو بائیڈن اور سیکریٹری خارجہ انٹونی بلنکن کو لکھے گئے خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ‘پاکستان میں نئی حکومت کو تسلیم نہ کیا جائے جب تک انتخابات میں مداخلت کی تفصیلی، شفاف اور مستند تحقیقات نہیں ہوجاتیں۔’

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ ‘پاکستانی حکام ان لوگوں کو رہا کریں جنہیں سیاسی تقاریر یا سرگرمیوں پر گرفتار کیا گیا ہے اور محکمہ خارجہ کے حکام کو ذمہ داری سونپی جائے کہ وہ ایسے تمام مقدمات کی تفصیلات جمع کریں اور ان لوگوں کی رہائی کا مطالبہ کریں۔’

امریکی اراکینِ کانگرس خط میں مزید کہتے ہیں کہ ‘پاکستانی حکام پر واضح کیا جائے کہ امریکی قانون انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں اور جمہوریت کو نقصان پہنچانے والوں کا احتساب کرتا ہے۔’

اس خط میں سابق وزیراعظم عمران خان کو حال ہی میں سُنائی گئی سزاؤں اور انتخابات کے دن 8 فروری کو انٹرنیٹ اور موبائل فون سروسز بند کرنے کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔

امریکی اراکینِ کانگرس اپنے خط کے آخر میں لکھتے ہیں کہ ‘پاکستان امریکہ کا دیرینہ اتحادی ہے اور ہم خطے میں استحکام اور دہشتگری کے انسداد کی کاوشوں میں دونوں ممالک کے تعلقات کو تسلیم کرتے ہیں۔’

‘یہ امریکہ کے مفاد میں ہے کہ پاکستان میں جمہوریت پنپتی رہے اور انتخابات کے نتائج پاکستانی لوگوں کے مفاد کے عکاس ہوں نہ کہ پاکستانی اشرافیہ اور فوج کے۔’

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button