پاکستان

ملک کو تباہ کرنے والا 5 سال بعد اہل اور معمولی غلطی پر تاحیات نااہل؟

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے تاحیات نااہلی کیس میں سوال اٹھایا کہ پورے ملک کو تباہ کرنے والا پانچ سال بعداہل ہوجاتاہے اور معمولی غلطی ہوجائے تو تاحیات نااہل۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں آرٹیکل62ون ایف کےتحت تاحیات نااہلی کیس کی سماعت شروع ہوگئی، چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی سربراہی میں7رکنی لارجربینچ سماعت کررہا ہے۔

بینچ میں جسٹس منصورعلی شاہ،جسٹس یحییٰ آفریدی،جسٹس امین الدین خان ، جسٹس جمال مندوخیل،جسٹس محمدعلی مظہر،جسٹس مسرت ہلالی شامل ہیں۔

سماعت کے آغاز میں چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن سے متعلق تمام کیسز آئندہ ہفتے ریگولربینچ میں مقرر ہوں گے، اس کیس میں انفرادی لوگوں کے مقدمات نہیں سنیں گے، انفرادی لوگوں کے الیکشن معاملات آئندہ ہفتےسنیں گے، ہو سکتاہےتب تک ہمارااس کیس میں آرڈربھی آچکا ہو۔

جہانگیر ترین کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ اس عدالت کےسامنےبنیادی سوال اسی عدالت کے سابقہ فیصلے کا ہے، اس عدالت نے پبلک نوٹس جاری کیااس پرآیاہوں، جس پر جسٹس منصورعلی شاہ استفسار کیا کہ آپ کے مطابق نااہلی کاڈکلیریشن سول کورٹ سے آئے گا؟

مخدوم علی خان نے بتایا کہ جی،ڈکلیریشن سول کورٹ سےآئےگا، سول کورٹ فیصلےپرکسی کاکوئی بنیادی آئینی حق تاعمرختم نہیں ہوتا، کامن لاسےایسی کوئی مثال مجھےنہیں ملی، کسی کایوٹیلٹی بل بقایاہوجب اداہوجائےتووہ اہل ہوجاتاہے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا سول کورٹ نااہلی کی ڈکلیریشن دےسکتی ہے؟ تو مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ سول کورٹ ایساڈکلیریشن نہیں دےسکتا، کونسی سول کورٹ ہےجو کسی کوواجبات باقی ہونےپرکہہ دے یہ صادق وامین نہیں۔

جسٹس منصورعلی شاہ نے سوال کیا کہ کیاقانون سازی سے ڈکلیریشن پر نااہلی کی مدت متعین کی جا سکتی ہے؟ جہانگیر ترین کے وکیل نے بتایا کہ آئین میں کورٹ آف لاکی بات ہے جس میں سول اور کرمنل دونوں عدالتیں آتی ہیں، کل جسٹس مسرت ہلالی نے پوچھا آرٹیکل 62 اور63 الگ الگ رکھنے کی وجہ کیا تھی، اہلیت اور نااہلی کو الگ الگ رکھا گیا ہے۔

جسٹس میاں محمدعلی نے استفسار کیا آرٹیکل62 کا اطلاق الیکشن سےپہلےہی ہوتا ہےیابعدمیں بھی ہو سکتاہے؟

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ ہم خودکوآئین کی صرف ایک مخصوص جزتک محدودکیوں کررہےہیں، ہم آئینی تاریخ کو، بنیادی حقوق کو نظر اندازکیوں کر رہےہیں، آئین پر جنرل ایوب سے لیکر تجاوز کیاگیا، مخصوص نئی جزئیات داخل کرنےسےکیاباقی حقوق لےلیےگئے؟ ہم پاکستان کی تاریخ کو بھول نہیں سکتے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ پورے ملک کو تباہ کرنے والا 5سال بعداہل ہوجاتاہے، صرف کاغذات نامزدگی میں غلطی ہو جائےتوتاحیات نااہل؟ صرف ایک جنرل نے یہ شق ڈال دی توہم سب پابندہوگئے؟ خودکومحدودنہ کریں بطورآئینی ماہرہمیں وسیع تناظرمیں سمجھائیں۔

مخدوم علی خان نے دلائل میں کہا کہ آرٹیکل 62 اور 63 کو ایک دوسرے سے الگ نہیں پڑھا جاسکتا، دونوں آرٹیکلز کو بنیادی حقوق والے آرٹیکل 17 سے الگ بھی نہیں پڑھا جا سکتا، جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ کہا گیا کہ سادہ قانون سازی سے آئین میں دی چیز نہیں بدلی جا سکتی، ہم مگر آئینی ترمیم کو بھی کالعدم کر دیتے ہیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کیا پاکستانی ارکان پارلیمنٹ دنیا میں سب سے بہترین ہیں؟ تو مخدوم علی خان نے جواب میں کہا کہ ظاہر ہے ایسا نہیں ہے، جس پر جسٹس قاضی فائز عیسی کا کہنا تھا کہ تو پھر ہم نے اپنے ارکان کی اہلیت کا جو پیمانہ رکھا دنیا میں کہیں اور ہے؟ تو وکیل نے کہا کہمیرے علم میں نہیں کہ دنیا میں کہیں ایسا ہو۔

جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے میں آئین کو 18ویں ترمیم کے بعد سے دیکھ رہا ہوں،ہمیں تشریح کیلئے آئین میں دیے ٹولز پر ہی انحصار کرنا ہے۔

دوران سماعت چیف جسٹس کا ریمارکس میں کہنا تھا کہ آئین نے نہیں کہا تھا نااہلی تاحیات ہے یہ ہم نے کہا، پاکستان کی تاریخ کو فراموش نہیں کیا جاسکتا، ہم نےکیس میں پبلک نوٹس جاری کیا مگر کوئی ایک جماعت بھی فریق نہیں بنی، پاکستان کے عوام کا کسی کو خیال نہیں ہے۔

وکیل مخدوم علی خان نے بتایا کہ الیکشن ٹریبونل پورے الیکشن کو بھی کالعدم قرار دے سکتا ہے، الیکشن میں کرپٹ پریکٹس کی سزا 2 سال ہے، جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کوئی فراڈ کرتا ہے تو اس کا مخالف ایف آئی آر درج کرتا ہے، کیا سزا تاحیات ہوتی ہے۔

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے ریمارکس میں مزید کہا کہ جب آئین نے خود طے کیا نااہلی اتنی ہے تو ٹھیک ہے، نیب قانون میں بھی سزا 10 سال کرائی گئی، آئین وکلا کیلئے نہیں عوام پاکستان کیلئے ہے، آئین کو آسان کریں، آئین کو اتنا مشکل نہ بنائیں کہ لوگوں کا اعتماد ہی کھو دیں، ۔فلسفیانہ باتوں کی بجائے آسان بات کریں، چیف جسٹس

چیف جسٹس پاکستان نے سوال کیا کہ یہاں نااہلی کی مدت تاحیات کیسے ہوئی،الیکشن کاغذات میں یہ بھی پوچھا جاتا ہے آپ کے پاس کتنے گرام سونا ہے، آپ گھر جا کر سونا تولیں گے پھر بتائیں گے، آپ اگر وہ انگوٹھی بھول گئے جو بیوی نے پہن رکھی ہے تو تاحیات نااہل ؟ آپ لائیو ٹی وی پر ہیں عوام کیلئے اس کی منطق تو واضح کریں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے بھی سوال کیا کہ نااہلی مدت 5 سال طے کرنے کا معاملہ عدالت میں آیا، کیا ہم سیکشن 232(3)کو ریڈڈاؤن کرسکتے ہیں، کیاعدالت کہہ سکتی ہےپارلیمنٹ سیکشن 232 تین کوایسےطے کرےکہ سول کورٹ سے ڈگری ہوئی توسزا 5 سال ؟

جہانگیر ترین کے وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ 185 کے تحت اپیلیں سن رہا ہے، سیکشن232 تین کو اگلا پارلیمنٹ ختم کر سکتا ہے،عدالت نے طے کرنا ہے کہ سمیع اللہ بلوچ کیس درست تھا یا نہیں،سمیع اللہ بلوچ کیس کالعدم قرار دیا گیا تو قانون کا اطلاق ہوگا۔

جس پر جسٹس محمد علی مظہر کا کہنا تھا کہ سیکشن 232 دو کوکیسے کالعدم قرار دیں وہ تو سامنےہےہی نہیں تو وکیل نے کہا کہ تاحیات نا اہلی کا اصول عدالتی فیصلے سے طے ہوا، جسٹس یحیحیٰ آفریدی نے ریمارکس دیئے میرے خیال میں فیصلے میں تاحیات کا ذکر نہیں ہے، جس پر وکیل مخدوم علی خان نے بتایا کہ فیصلے میں کہا گیا جب تک ڈکلیئریشن رہےگی نااہلی رہے گی۔

جسٹس امین الدین خان نے استفسار کیا کہ عدالت ڈکلیریشن کی ہی تشریح کردےتوکیامسئلہ حل ہوجائےگا؟ وکیل نے بتایا کہ ماضی کا حصہ بنے ہوئے ڈیکلریشن کاعدالت دوبارہ کیسےجائزہ لےسکتی ہے؟ جومقدمات قانونی چارہ جوئی کےبعدحتمی ہوچکےانہیں دوبارہ نہیں کھولاجاسکتا۔

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے پارلیمنٹ کہہ چکا ہے نا اہلی 5سال ہو گی ، کیاسمیع اللہ بلوچ کیس میں اٹارنی جنرل کو نوٹس گیاتھا؟ ریکارڈ منگوا لیں ، جسٹس منصور علی شاہ استفسار کیا کہ ڈیکلریشن حتمی ہوچکاہےتو الیکشن پر اس کے اثرات کیا ہوں گے؟ دو عدالتی معاون کےمطابق سمیع اللہ بلوچ فیصلے کو بے اثر کر دیا گیا۔

جس پر وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ صرف سمیع اللہ بلوچ فیصلے کو دیکھے، یہاں پر سیکشن232تین چیلنج ہی نہیں، تاحیات نااہلی کافیصلہ برقراررہاتو5سال نااہلی کاقانون کالعدم ہوسکتاہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیاتاحیات نااہلی کےفیصلےکیلئےاٹارنی جنرل کومعاونت کانوٹس گیا تھا؟ مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ ریکارڈ کے مطابق اٹارنی جنرل کی حاضری لگی ہوئی ہے، تو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ حاضری ہونااورمعاونت کیلئے باضابطہ نوٹس ہوناالگ چیزہے، وکیل نے کہا کہ نااہلی کا حتمی ڈیکلریشن موجودہوتوکوئی ٹربیونل یاسول عدالت ختم نہیں کرسکتی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button