تازہ ترینخبریںدنیا سےروس یوکرائن جنگ

یوکرین کا روس سے کریمیا واپس لینے کے لیے جنگ کا اعلان

یوکرین نے روس سے کریمیا واپس لینے کے لیے جنگ کا اعلان کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق یوکرین جنگ کے شعلے مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا، یوکرینی صدر نے کریمیا واپس لینے کے لیے روس کے خلاف بھرپور جنگی مشن کا اعلان کر دیا۔

صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ کریمیا کو طاقت کے ذریعے واپس لے کر 2023 میں خطے کا دورہ کریں گے۔

ادھر روس پر یوکرینی حملوں میں اضافہ ہونے لگا ہے، ایک اور حملے میں ایک روسی شہری ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے ہیں، بلگورود کے گورنر نے کہا کہ روس کے بلگورود خطے میں حملے کے نتیجے میں 14 گھر اور انفرا اسٹرکچر تباہ ہو گیا۔ دوسری جانب نیٹو کے یورپی ملک کوسوو میں موجود مشن نے جنگی مشقیں شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

این بی سی نیوز نے جمعہ کو رپورٹ کیا کہ بائیڈن انتظامیہ کے ایک اہل کار نے گزشتہ ماہ کانگریس کے کئی ارکان کو ایک بریفنگ میں بتایا تھا کہ یوکرین کے پاس اب کریمیا کو روس سے چھڑانے کی فوجی صلاحیت ہے۔ اہل کار سے مبینہ طور پر پوچھا گیا کہ کیا یوکرین جزیرہ نما کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کرے گا، جسے روس نے 2014 سے اپنے قبضے میں رکھا ہے، تو جواب دیا گیا کہ اس کے پاس ایسا کرنے کی صلاحیت ہے۔

تاہم، ایک اور امریکی اہل کار نے خبردار کیا کہ کریمیا میں یوکرین کی کوشش پیوٹن کو جوہری ہتھیاروں کے استعمال پر مجبور کر سکتی ہے، جیسا کہ وہ پہلے بھی دھمکی دے چکے ہیں۔ ایک اور امریکی اہل کار نے این بی سی کو بتایا کہ انھیں یقین نہیں ہے کہ کریمیا میں یوکرین کا حملہ قریب ہے۔

روئٹرز کے مطابق صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اتوار کے روز کہا کہ روس اور بیلاروس کے ساتھ ہماری سرحد کی حفاظت کرنا ہماری مستقل ترجیح ہے، اور یوکرین روس اور اس کے اتحادی بیلاروس کے ساتھ تمام ممکنہ دفاعی حالات کے لیے تیار ہے۔

زیلنسکی نے اپنے خطاب میں مغربی ممالک سے ایک نئی اپیل بھی کی کہ وہ یوکرین کو مؤثر فضائی دفاع فراہم کریں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی فورسز نے مشرقی یوکرین کے قصبے باخموت پر قبضہ کر رکھا ہے، جہاں حال ہی میں شدید ترین لڑائی دیکھی گئی۔

واضح رہے کہ بیلاروس روس کے قریبی اتحادیوں میں سے ایک ہے، اس نے ماسکو کے 24 فروری کو یوکرین پر حملے کے لیے اپنی سرزمین کو لانچ پیڈ کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دی تھی، تاہم وہ براہ راست لڑائی میں شامل نہیں ہوا، لوکاشینکو بارہا کہہ چکے ہیں کہ ان کا اپنے ملک کی فوجیں یوکرین بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button