ColumnRoshan Lal

اگر عمران حکومت جاری رہتی؟ ۔۔ روشن لعل

روشن لعل

 

گزشتہ ہفتے ’’ایکسپورٹڈحکومت ‘‘کے عنوان سے لکھا گیا کالم پڑھنے کے بعد کچھ دوستوں نے سوال کیا کہ موجودہ حکومت کوبرملا ’’ امپورٹڈ‘‘ کہنے والے عمران خان نے خود جو حکومت کی ، کیا اسے لفظ ‘‘امپورٹڈ‘‘ کے برعکس ’’ایکسپورٹڈ‘‘ کہا جاسکتا ہے ۔ اس سوال کا مختصر جواب ’’نہیں ‘‘ دیا گیا۔ سوال کا جواب نفی میں دیئے جانے کی یہ توجیہہ پیش کی گئی کہ عمران خان کے جس عہد حکومت کو ’’ ایکسپورٹڈ ‘‘ کہا جاسکتا تھا اسے شروع کرنے کا موقع انہیں سر توڑ کوششوںکے باوجود بھی نہیں مل سکا۔ یہ جواب مکمل ہونے کے باوجود اس میں سے مزید دو سوال پیدا ہوئے۔ پہلا سوال یہ تھا کہ عمران خان نے جو حکومت کی اگر اسے ’’ایکسپورٹڈ‘‘ نہیں کہا جاسکتا تو پھر کونسا نام دیا جاسکتا ہے ۔ اس ضمن میں ابھرنے والا دوسرا سوال یہ ہے کہ سر توڑ کوششوں کے باوجود بھی عمران خان کو جو ’’ایکسپورٹڈ‘‘ حکومت قائم کرنے کا موقع نہیں مل سکا اس کافرضی خاکہ کیا ہو سکتا ہے۔
پہلے سوال کے جواب کیلئے دیکھنا ہوگا کہ جس موجودہ حکومت کو عمران خان ’’ امپورٹڈ ‘‘ کہتے ہیں اس کا طرز حکمرانی کیا ہے اور عمران خود کیسے حکومت کرتے رہے ۔ جہاں تک موجودہ حکومت کے طرز حکمرانی کا تعلق ہے تو اب تک اس کے کھاتے میں کوئی ایسا کام نظر نہیں آتا جو عمران خان نے اپنے دور حکومت میں نہ کیا ہو۔ عمران خان آئی ایم ایف سے قرض لینے کی بجائے خود کشی کرنے جیسے اعلان کے بعد بھی اگر اس ادارے سے قرض لینے والوں کی قطار میں کھڑے ہوئے تو موجود حکومت بھی قرضوں کی بقایا قسطیں وصول کرنے کی کوششیں کرتی نظر آ رہی ہے ۔ کہا جاتا ہے عمران خان آنکھیں بند کر کے آئی ایم ایف کی شرطوں کو مانتے چلے گئے،اس ضمن میں موجودہ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ مزید قرض کیلئے عمران خان کی تسلیم کی ہوئی شرطوں کے مطابق عمل کرنے پر مجبور ہے ۔عمران خان آئی ایم ایف کی سفارشات کے تحت پاکستانی عوام کو مسلسل مہنگائی کی چکی میں پیستے رہے، اس تسلسل میں بھی موجودہ حکومت بڑی تندہی کے ساتھ عمران خان کی پیروکاری کر رہی ہے ۔ عمران خان نے قرض دینے والوں کا ہر مطالبہ مانتے ہوئے پاکستانی اداروں میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے نمائندوں کواعلیٰ ترین عہدوں پر تعینات کیا، گو کہ وہ ملازم اب ان عہدوں پر نظر نہیں آرہے مگر یہ بات طے ہے کہ اگر آئی ایم ایف نے اصرار کیا تو موجودہ حکومت کو اس معاملے میں بھی عمران خان کی ہی پیروی کرنی پڑے گی۔عمران خان نے آئی ایم ایف کی سفارش
پر سٹیٹ بنک آف پاکستان کو خود مختار ادارہ بنایا ،موجودہ حکومت سادہ قانون سازی کر تے ہوئے اس ادارے کو دوبارہ وزارت خزانہ کے ماتحت کر سکتی تھی مگر ایسا کرنے کی بجائے یہ ادارہ عمران خان کی پالیسی کے مطابق چلانے میں ہی عافیت سمجھی گئی ہے۔ عمران خان نے ایک ٹیلیفون کال پر اپنا ملائیشیا کا دورہ منسوخ کر دیا تھا شاید ا سی بات کو مد نظر رکھ کر موجودہ حکومت بیرونی دنیا میں کسی کے ساتھ ایسے تعلقات قائم کرنے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتی جو ٹوٹنے سے پہلے ایک ٹیلیفون کال کا دبائو بھی نہ برداشت کر سکتے ہوں۔ مذکورہ باتوں جیسی کئی مزید مثالوں کے ذریعے یہ ثابت کیا جاسکتا ہے کہ موجودہ حکومت اصل میں اسی راستے پر چل رہی ہے جو عمران خان نے اپنے چار سالہ دور حکومت کے دوران استوار کیا۔ اگر عمران خان اپنے استوار کیے ہوئے راستے پر چلنے والی حکومت کو ’’ امپورٹڈ‘‘ کہہ سکتے ہیں تو پھر کیسے مانا جاسکتا ہے کہ ان کی اپنی حکومت ’’ امپورٹڈ‘‘ نہیں تھی۔ اگر عمران خان موجودہ حکومت کو امپورٹڈ کہنے پر بضد ہیں تو یہ بات بلاجھجھک کہی جاسکتی ہے کہ ان کی اپنی حکومت بھی عین اسی طرح ’’ امپورٹڈ‘‘ ہی تھی۔
حالیہ دنوں میں جو آڈیو ز لیک ہوئی ہیں ان سے یہ بات بڑی حد تک واضح ہوچکی ہے کہ عمران حکومت کے خلاف کوئی بیرونی سازش نہیں ہوئی تھی بلکہ اصل سازش ان کا وہ بیانیہ تھا جو انہوں نے اپنی حکومت کے آئینی طریقے سے خاتمے کو غلط رنگ دینے کیلئے پیش کیا۔ عمران خان کے مخالف سیاسی اتحاد نے جب ان کی حکومت ختم کرنے کیلئے آئینی عمل شروع کیا تو عمران نے اپنے تراشے ہوئے سازش کے بیانیے کی آڑ لے کرپہلے تو اپنی حکومت بچانے کی کوشش کی مگر جب یہ کوشش کامیاب نہ ہوئی تو قومی اسمبلی کو غیر آئینی طریقے سے توڑ کر نئے انتخابات کے انعقاد کا حربہ استعمال کیا ۔ہر حربہ آزمانے کے باوجود بھی عمران خان کو ابھی تک مطلوبہ کامیابی نہ مل سکی۔ عمران خان کے حربے کامیاب ہونے کی صورت میں اگر انہیں مزید حکومت کرنے یا نئی حکومت بنانے کا موقع مل جاتا تو اس حکومت کیلئے ایسا کوئی امکان پیدانہ ہو پاتا جس سے اسے آئی ایم ایف، امریکہ یا یورپی یونین سے کسی قسم کا قرض، مددیا تعاون مل سکتا۔بیرونی امداد ملنے کا امکان نہ ہونے کی ایک وجہ تو عمران خان کے وہ افعال بنتے جن کا ارتکاب انہوں نے آئی ایم ایف سے کیے گئے معاہدوں کی خلاف ورزی کر کے کیااور دوسری وجہ ان کے وہ بیانات کو ٹھہرائے جاتے جن میں انہوں نے اپنی حکومت کے خاتمے کیلئے امریکہ پر سازش کا الزام عائد کیا۔یوں اگر عمران خان کو یہاں بیرونی دنیا سے ملنے والے روایتی تعاون سے عاری حکومت بنانے کا موقع مل جاتا تو اس فرضی حکومت کیلئے ’’ ایکسپورٹڈ‘‘ جیسا نام استعمال کیا جاسکتا تھا۔ عمران خان نے اپنی حکومت کے خاتمے کو جس طرح اپنے روس کے دورے اور امریکی سازش کے بیانیے سے جوڑا اور بیرون ملک مقیم اپنے پیروکاروں کو اس بیانیے کے وسیع تر ابلاغ کا موقع فراہم کیا اس کے بعد پھر یہی امکان باقی رہ جاتا ہے کہ اگر ’’ایکسپورٹڈ حکومت‘‘ بن جاتی تو روس کے علاوہ اسے کہیں سے بھی تعاون کی امید نہ ہوتی ۔ ایسی صورتحال میں روس کس حد تک ہماری مددکرپاتا اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یوکرین سے جنگ شروع کرنے کے بعد روس اس وقت دنیا کا سب سے زیادہ مسائل میں گھرا ہوا ملک بن چکا ہے ۔ اپنی چھیڑی ہوئی جنگ نے روس کو جس قسم کے مسائل سے دوچار کیا ہے اس کا ذکر کسی دوسرے کالم میں کیا جائے گا ۔ اس وقت یہاں صرف یہ بتایا جارہا ہے کہ جنگ کی وجہ سے روس نہ صرف خارجی طور پر دن بدن تنہائی کا شکار ہوتا چلا جارہا ہے بلکہ داخلی طور پر بھی شدیدقسم کے انتشار سے دوچار نظر آرہا ہے۔
عمران خان نے اپنی پیروکاروں کو اس روس کے تعاون سے پاکستان کی بدحالی دور کرنے کے خواب دکھائے جو اس وقت جنگ کی وجہ سے خود شدید مسائل میں گھرا ہوا ہے ۔ قصہ مختصر یہ کہ آئی ایم یف کے تعاون اور روایتی بیرونی امداد کی دستیابی کے باوجود بھی جب موجودہ حکومت پاکستان کے حالات کو بد سے بدتر ہونے سے روک نہیں پا رہی تو سوچا جاسکتا ہے کہ اگر عمران خان کی کوششوں سے ان کی’’ایکسپورٹڈ حکومت‘‘ بن جاتی تو کیا کوئی ایسی صورت پیدا ہو پاتی کہ ان کی ناعاقبت اندیش پالیسیوں کے باوجود بھی ہم بدترین سیلاب کے بعد بدترین قحط سے محفوظ رہ پاتے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button