CM RizwanColumn

ڈیل نہ ہو سکی، وقت خریدو  

ڈیل نہ ہو سکی، وقت خریدو

تحریر : سی ایم رضوان

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایران امریکہ مذاکرات کے سلسلے میں اسلام آباد میں ایرانی وفد کے ساتھ 21گھنٹے کی بات چیت کے بعد کوئی معاہدہ طے کئے بغیر واپس چلے گئے۔ جانے سے پہلے نیوز کانفرنس میں وقتی طور پر بات چیت ناکام ہونے کا اعلان کرنے کے فوراً بعد وہ ایئر فورس ٹو پر سوار ہو گئے۔ کہا کہ ہم امریکہ واپس جا رہے ہیں، کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا۔ تاریخ یہ لکھے گی کہ ایران امریکہ جنگ بندی کے بعد اسلام آباد میں 11اپریل 2026ء کو مذاکرات ناکام ہونے کے بعد امریکی وفد واپس لوٹ گیا۔ تاریخ میں یہ بھی پہلے سے لکھا ہوا ہے کہ اس نوعیت کے مذاکرات ایک دو روز یا حتیٰ کہ چند ہفتوں میں بھی نتیجہ خیز نہیں ہوتے لیکن جنگ کے مقابلے میں مکالمے کی آپشن پر آ جانا ہی دراصل جنگ کی شکست اور مکالمے کی جیت ہوتی ہے۔ اختلاف رائے یا حقوقِ و فرائض کی بحث بہرحال تعمیری اور جائز ہوتی ہے۔ یہ تفصیل لکھتے ہوئے ہمیں گزشتہ روز کی گئی اپنے دیرینہ ہم خیال دوست غلام شبیر کی وہ باتیں یاد آئیں۔ وہ بھی ایران امریکہ مذاکرات کے حوالے سے یہی تبصرہ کر رہے تھے کہ ماضی میں امریکہ ویتنام جنگ کے خاتمے کے بعد مستقل جنگ بندی کے لئے مذاکرات دو سال تک جاری رہے تھے۔ ان دو سالوں میں متعدد بار ڈیڈ لاک بھی آئے اور امید اور ناامیدی کی فضائیں بھی قائم ہوتی رہیں۔ بالآخر دنیا میں سپاہی کا رول ادا کرنے کی شوقین سپر پاور بھی مستقل جنگ بندی پر متفق ہو گئی تھی۔ بہرحال گزشتہ روز ہمارے مذکورہ دوست غلام شبیر کے ساتھ ساتھ دیگر مشترکہ دوست انجینئر عبد الرزاق، راشد حبیب اور حکیم محمد عارف، معروف تاجر رہنما اور عہدیدار چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری رانا محمد اکرم کی والدہ محترمہ کی نماز جنازہ میں شرکت کے بعد ایک نجی محفل میں اکٹھے ہوئے تھے۔ قبل ازیں نماز جنازہ کے بعد والدہ محترمہ کے لئے دعائے مغفرت اور رانا محمد اکرم سے اظہار تعزیت کیا گیا کہ ماں جیسی ہستی کا دنیا سے رخصت ہو جانا بڑی کمی ہوتی ہے جس کا متبادل نہیں ہوتا۔ بر سبیل تذکرہ مذکورہ نجی محفل میں دنیا کے موجودہ حالات پر گفتگو اسی ایک نقطہ پر مکمل ہوئی کہ تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر پہنچی ہوئی دنیا کو پاکستانی قیادت نے حیرت انگیز طور پر تباہی سے بچا کر مکالمے، مذاکرات کی میز اسلام آباد میں فراہم کر کے ایک قابل قدر کارنامہ انجام دیا ہے جو کہ تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ بلاشبہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں کو کامیابی بھی ملنی چاہئے کہ اسی میں دنیا بھر کا بھلا ہے۔جہاں تک ایران، امریکہ مذاکرات کا تعلق ہے تو اس حوالے سے یہ امر قابل ذکر ہے کہ اگرچہ فی الحال ڈیل کے امکانات کم لگ رہے ہیں، لیکن دروازہ بند نہیں ہوا۔ وقتی طور پر ایران نے چند ایک امریکی شرائط قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے کیونکہ دونوں فریق ابھی تک اپنے چند مطالبات کے نفاذ کے حوالے سے ایک دوسرے سے قدرے دور ہیں لیکن ساتھ ہی یہ امر بھی باعث تسکین ہے کہ اکثر دوطرفہ مطالبات تسلیم شدہ ہیں۔ ڈیل ہو سکتی ہے یا نہیں۔ اس حوالے سے حوصلہ افزا امکان ابھی باقی ہے۔ یعنی امریکہ ابھی بھی بات چیت کے لئے تیار ہے۔ لیکن امریکہ چاہتا ہے کہ ایران مستقبل میں ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کی گارنٹی دے۔ اسی طرح آبنائے ہرمز کھولنے اور لبنان پر اسرائیل کے حملوں کا معاملہ بھی حل طلب ہے۔ جے ڈی وینس نے اس ضمن میں بھی خبردار کیا ہوا ہے کہ اگر ایران نے ہمیں کھیلنے کی کوشش کی تو مذاکراتی ٹیم زیادہ خوش آمدید نہیں کیے گی۔ یہ مذاکرات جے ڈی وینس کے سیاسی مستقبل کے لئے ایک بڑا اہم موقع ہے کہ وہ ان مذاکرات کے نتیجے میں ایک کامیاب ڈیل سے اپنا سیاسی قد بڑھانا چاہتے ہیں، اس لئے وہ دوبارہ کوشش کر سکتے ہیں۔ لہٰذا یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اگرچہ فوری ڈیل کا امکان کم ہے لیکن جنگ بندی قائم ہے اور دونوں طرف سے مکمل انکار ابھی تک سامنے نہیں آیا۔ کل کلاں اگر ایران امریکہ کی بنیادی شرائط پر مان جائے تو دوبارہ مذاکرات ہو سکتے ہیں۔ ورنہ تعطل برقرار رہے گا۔ ایران کے شرائط ماننے کے امکانات فی الحال 50۔50سے بھی کم لگ رہے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ ایران میں سخت گیر حلقے بہت

طاقتور ہیں۔ گو کہ مذاکرات میں ایرانی وفد کی قیادت پارلیمنٹ اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہی تھے، جو کہ نسبتاً سیاسی ذہن کے حامل ہیں مگر ساتھ ہی وفد میں نسبتاً سخت گیر ایرانی حکام بھی شامل تھے۔ یہ لوگ امریکہ کے سامنے جھکنے کو سیاسی خود کشی سمجھتے ہیں۔ اس حوالے سے ماضی کا تجربہ تو یہی کہتا ہے کہ ایران سمجھتا ہے کہ امریکہ معاہدے کر کے مکر جاتا ہی۔ ٹرمپ پہلے بھی 2018ء میں ایٹمی ڈیل سے نکل چکے ہیں، تو ایران کو نئی گارنٹیوں پر بھروسہ نہیں۔ ایران کا یہ بھی کہنا ہے کہ جنگ بندی میں اسرائیل کا لبنان پر حملے بند کرنا بھی شامل تھا، جبکہ وینس نے کہا کہ ہم نے ایسا وعدہ کبھی نہیں کیا۔ جب تک یہ نقطہ حل نہیں ہوتا، ایران لچک نہیں دکھائے گا۔ ساتھ ہی دو ممکنہ وجوہات ایسی ہیں کہ جن کی بنیاد پر ایران امریکی شرائط کو مان بھی سکتا ہے ایک وجہ اس کا معاشی دبائو ہے کیونکہ ایک بڑی جنگ اور طویل معاشی پابندیوں سے ایران کی معیشت بری طرح متاثر ہو چکی ہے۔ آبنائے ہرمز بند رکھنے سی دنیا کے ساتھ ساتھ خود ایران کو بھی نقصان ہو رہا ہے۔ اب اگر جنگ بندی مستقل نہ ہوئی، حالات مزید خراب ہوئے تو ایران مذاکرات پر مجبور ہو سکتا ہے۔ دوبارہ جنگ کی صورت میں بھی امریکہ نے ایران کا ایٹمی پروگرام تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہوا ہے۔ یعنی دوبارہ جنگ سے بچنے کے لئے ایران محدود شرائط مان سکتا ہے، لیکن مکمل سرنڈر نہیں کرے گا۔ ہمارا اندازہ یہی ہے کہ آئندہ مذاکرات اگر ہوئے تو ایران امریکہ کی مکمل شرائط نہیں مانے گا۔ خاص طور پر مستقبل میں کبھی ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کی ناجائز گارنٹی جیسی بات۔ البتہ کوئی درمیانی راستہ نکل سکتا ہے۔ بالفرض اگر امریکہ ایران کا لبنان والا ایشو مان لے۔ ایران کو پابندیوں میں نرمی ملے۔ کوئی تیسرا ملک جیسے پاکستان یا چین ضامن بنے تو یہ ڈیل ہو سکتی ہے۔ گو کہ بیانات کی حد تک ابھی دونوں فریق ’’ ہم جیتے‘‘ والی پوزیشن پر ہیں، اس لئے فوری بریک تھرو مشکل ہے۔ بات چیت دوبارہ شروع ہونے میں ہفتے یا مہینے بھی لگ سکتے ہیں۔

ایک سوال جو عام آدمی کے نزدیک بڑی اہمیت رکھتا ہے وہ یہ ہے کہ اب ایران کو جھکنا چاہیے یا ڈٹ جانا چاہیے۔

(باقی صفحہ5پر ملاحظہ کیجئے)

 

یہ ایک پیچیدہ سوال اور مشکل فیصلہ ہے۔ کیونکہ ایسے راستوں کے اپنے فائدے اور نقصان ہوتے ہیں۔ اس سوال کا کوئی ایک متعین اور ’’ صحیح‘‘ جواب ہمارے پاس تو نہیں ہے۔ البتہ یہ اس امر پر منحصر ہے کہ ایران اپنی ترجیح کس چیز کو دیتا ہے۔ فوری ریلیف یا طویل المدتی موقف۔ اگر ایران جھک جائے یعنی امریکی شرائط مان لے تو اسے معاشی ریلیف ملے گا۔ پابندیاں نرم ہوں گی، تیل کی برآمد کھلے گی، آبنائے ہرمز سے تجارت بحال ہوگی۔ اس کے عوام کو مہنگائی سے کچھ سکون ملے گا۔ دوسرا یہ کہ اس کے سر سے جنگ ٹل جائے گی۔ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ دوبارہ بڑی جنگ کا خطرہ کم ہو جائے گا۔ ملک مزید تباہی سے بچ جائے گا۔ سفارتی تنہائی ختم ہو گی۔ دنیا کے ساتھ تعلقات بہتر ہوں گے، مزید سرمایہ کاری بھی آ سکتی ہے۔ لیکن اس کمپرومائز کی صورت میں کچھ نقصان بھی ہوں گے۔ اندرونی کمزوری کا تاثر ابھرے گا۔ ایران کے اندر موجود طاقتور اور سخت گیر حلقے اور عوام کی ایک بڑی تعداد اسے عظیم ایران کا سرنڈر سمجھے گی۔ حکومت کی عوام کی نظر میں ساکھ کو دھچکا لگے گا۔ مستقبل کے لئے ایک شرمناک مثال قائم ہو جائے گی۔ یعنی ایرانی حکومت نے اگر آج دبائو میں آ کر مان لیا تو کل کو امریکہ مزید شرائط رکھے گا۔ امریکی بلیک میلنگ کا دروازہ کھل جائے گا۔ مہلک علاقائی اثرات مرتب ہوں گے۔ ایران کے اتحادی جیسے حزب اللہ، حوثی، شامی گروپس کا مورال گرے گا۔ مشرق وسطیٰ میں ایران کا اثر کم ہو جائے گا۔ بصورت دیگر اگر ایران ڈٹ جائے یعنی امریکی شرائط نہ مانے تو فائدے یہ ہوں گے کہ ایک تو دنیا اور اس کے اتحادیوں کو اس کی خودمختاری کا پیغام ملے گا۔ دنیا کو نظر آئے گا کہ ایران دبا میں نہیں آیا۔ اندرونی طور پر حکومت کی پوزیشن مضبوط ہو گی۔ اس کی بارگیننگ پاور بڑھے گی۔ مزاحمت کا لمبا کھیل کھیل کر ایران امریکہ سے بہتر شرائط نکلوا سکتا ہے۔ جتنا دیر کرے گا، امریکہ اتنا نرم ہو سکتا ہے۔ کل کلاں اسے علاقائی لیڈری بھی مل سکتی ہے۔ آنے والے دنوں میں ایران مزاحمتی محور کا لیڈر بن کر رہے گا۔ امریکہ مخالف ملکوں میں ہیرو بنے گا۔ لیکن ساتھ ہی اس ڈٹ جانے کے نقصان یہ ہوں گے کہ اس کو مزید معاشی تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پابندیاں مزید سخت ہوں گی۔ تیل بیچنا مشکل ہو گا، ایرانی کرنسی مزید گرے گی، عوام کا غصہ بڑھے گا کہ ان کی قیادت نے امریکی غصے کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے۔ اگر ایران ڈٹا رہا اور مزاحمت کی روش جاری رکھتے ہوئے میں نہ مانوں کی رٹ جاری رکھی تو اسرائیل، امریکہ دوبارہ حملہ کر سکتے ہیں۔ جس سے ایران میں پہلے ہی معاشی حالات سے لوگ تنگ ہیں۔ لمبی کشیدگی سے اندرونی مسائل بڑھ سکتے ہیں۔ ان حالات میں ایران کے لئے درمیانی راستہ کیا ہو سکتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اکثر ملک نہ تو مکمل جھکتے ہیں۔ نہ مکمل ڈٹتے ہیں۔ قوی امکان ہے کہ ایران ممکنہ طور پر یہ کرے گا کہ وہ علامتی لچک دکھائے گا کچھ چھوٹی شرائط مان لے گا۔ جیسے کہ IAEAکو محدود معائنہ کی اجازت دینا، تاکہ دنیا کو یہ لگے کہ بات ہو رہی ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ وقت خریدے یعنی ان مذاکرات کو لمبا کھینچے، اس دوران اپنی معیشت کو سنبھالنے کی کوشش کرے اور چین، روس سے مدد لے۔ اپنی دفاعی اور جنگی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے والے اقدامات کرے اور ساتھ ہی اپنی بنیادی سرخ لکیر نہ چھوڑے۔ ایٹمی پروگرام مکمل ختم یا اسرائیل کو تسلیم کرنے جیسی بات کبھی نہیں مانے۔ اس بحث کا خلاصہ یہی ہے کہ ایرانی حکومت کا مقصد اگر عوام کو فوری ریلیف دینا ہے تو اسی کچھ جھکنا پڑے گا۔ کچھ ڈٹ جانا چاہیے۔ اگر مقصد 20سال بعد بھی آزاد خارجہ پالیسی رکھنا ہے تو ڈٹنا پڑے گا۔ ان دونوں صورتوں کی اپنی اپنی قیمت ہے۔ اگر سوال یہ کیا جائے کہ ایران کے لئے اس وقت سب سے بڑی ترجیح کیا ہونی چاہیے۔ معیشت بچانا یا سیاسی مقف بچانا۔ ہمارا مشورہ تو ایران کے لئے یہی ہو گا کہ وہ فوری طور پر وقت خریدے اور اس وقت میں اپنے مسائل کو حل کرے اور آئندہ چیلنجز کے لئے خود کو تیار کرے۔

سی ایم رضوان

جواب دیں

Back to top button