ColumnQadir Khan

اسلام آباد مذاکرات: عارضی امن ، مستقل خطرہ

اسلام آباد مذاکرات: عارضی امن ، مستقل خطرہ

تحریر : قادرخان یوسف زئی

عالمِ عرب اور فارس کی سرحدوں پر چھائی بارود کی بو اب سفارت خانوں کے بند کمروں، راہداریوں اور اعلیٰ سطحی اجلاسوں تک پہنچ چکی ہے۔ اسلام آباد کے ایوانِ اقتدار میں ہونے والا یہ حالیہ طویل سفارتی اجلاس، جو جنگ کے گہرے اور تاریک بادلوں کے سائے میں مسلسل 21گھنٹے تک جاری رہا، محض ایک رسمی ملاقات یا روایتی سفارتی نشست نہیں تھی۔ درحقیقت، یہ اس گہری، پیچیدہ اور انتہائی اعصاب شکن ’’ پس پردہ سفارت کاری‘‘ کا نقطہ عروج تھا جہاں مشرق وسطیٰ کے مستقبل، عالمی معیشت کی بقا اور بین الاقوامی امن کی بساط بچھائی جا رہی ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے درمیان ہونے والی یہ نشست کئی لحاظ سے غیر معمولی، تاریخی اور تہلکہ خیز تھی، کیونکہ 1979ء کے انقلاب کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ دونوں حریف اتنے اعلیٰ سطح پر براہ راست ایک ہی کمرے میں آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ تاہم، مشرقِ وسطیٰ کی بساط کا یہ ایک پرانا اور مسلمہ اصول ہے کہ کوئی بھی زیرک کھلاڑی اپنے تمام پتے میز پر نہیں دکھاتا۔

یاد رہے کہ اس جنگ کے باقاعدہ آغاز اور آبنائے ہرمز کی بندش، جس سے دنیا بھر کی تیل اور گیس کی ترسیل کا تقریباً بیس فیصد حصہ گزرتا ہے، نے عالمی منڈی میں ایک ایسا تہلکہ مچا رکھا ہے جس کے اثرات دنیا بھر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں ہونے والا معمولی اضافہ پاکستان کے لئے بھی تجارتی خسارے میں کئی ارب ڈالر کا اضافہ کر سکتا ہے۔ مزید برآں، خلیجی ممالک میں مقیم لاکھوں پاکستانیوں کا روزگار اور وہاں سے آنے والی لگ بھگ چالیس ارب ڈالر کی سالانہ ترسیلاتِ زر، جو کہ پاکستان کی معیشت کی اصل شہ رگ ہیں، اس تنازعے کے طول پکڑنے کی صورت میں شدید خطرے سے دوچار ہو جائیں گی۔ پاکستان کی قیادت اچھی طرح جانتی ہے کہ اگر یہ جنگ بندی ناکام ہوئی تو اس کے شعلے کسی نہ کسی شکل میں ان کے اپنے دامن تک بھی ضرور پہنچیں گے۔

جے ڈی وینس جس مسودے اور شرائط کو لے کر اب واشنگٹن واپس گئے ہیں، وہ امریکی بالادستی کے زعم اور انتہائی سخت گیر مطالبات کا پلندہ ہے۔ امریکہ کا بنیادی، حتمی اور واحد مطالبہ یہ ہے کہ ایران اپنے جوہری ہتھیاروں کے حصول کے تمام ارادوں اور صلاحیتوں کو نہ صرف مکمل طور پر ترک کر دے، بلکہ اس کی ناقابلِ واپسی اور قابلِ تصدیق ضمانت بھی فراہم کرے۔ جے ڈی وینس کے بقول ان کی یہ ’’ حتمی اور بہترین پیشکش‘‘ ایران کے لیے ایک نادر موقع ہے، مگر تہران کی نظر میں یہ کسی باعزت معاہدے سے زیادہ بندوق کی نوک پر ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہے۔ ایران نے بجا طور پر ان شرائط کو ضرورت سے زیادہ، غیر قانونی اور صریحاً ناقابل قبول قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ تہران کا اپنا ایک واضح اور دو ٹوک موقف ہے۔ اسے ہر صورت میں اپنی بقا کے لیے فوری معاشی ریلیف، قطر اور دیگر ممالک میں موجود اپنے اربوں ڈالر کے منجمد اثاثوں کی غیر مشروط بحالی، اور سخت ترین امریکی پابندیوں کا مکمل خاتمہ درکار ہے۔ ایران جانتا ہے کہ آبنائے ہرمز پر اس کی جغرافیائی گرفت اس کا سب سے بڑا تزویراتی ہتھیار ہے جس کے ذریعے وہ عالمی معیشت کی شہ رگ کو دبا کر اپنی شرائط منوا سکتا ہے۔ جنوبی کوریا اور جاپان جیسی بڑی معیشتوں کی چیخیں اس امر کی گواہ ہیں کہ آبنائے ہرمز کی بندش محض خطے کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمی سطح پر کساد بازاری اور سپلائی چین کی تباہی کا پیش خیمہ ہے۔ وہ یہ بھی واضح کر چکا ہے کہ لبنان میں حزب اللہ کے خلاف جاری اسرائیلی جارحیت کو روکے بغیر کسی بھی قسم کی حتمی علاقائی جنگ بندی کا تصور محض دیوانے کا خواب ہے۔

یہ تلخ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ خطہ اس وقت کسی مستقل امن یا پائیدار حل کی طرف ہرگز نہیں بڑھ رہا، بلکہ یہ ایک انتہائی کمزور، کھوکھلی اور عارضی مفاہمت کی طرف جا رہا ہے جسے محض وقتی ضرورت کے تحت کھڑا کیا گیا ہے۔ اس خونی کھیل اور سفارت کاری کی بساط پر جو کچھ کھویا جا رہا ہے، وہ کوئی تجریدی تصور نہیں بلکہ عام انسانوں کی زندگیاں، معصوم شہریوں کا لہو، اور دہائیوں کی محنت سے کھڑا کیا گیا انفراسٹرکچر ہے۔ ایران میں ہونے والی وسیع پیمانے پر تباہی، اسرائیل کے حملوں میں مرنے والے ہزاروں افراد، اور پورے خطے پر منڈلاتے معاشی خاتمے کے بادل اس امر کی گواہی دے رہے ہیں کہ جب عالمی طاقتیں اپنے مفادات کی بدمستی میں ٹکراتی ہیں، تو تباہی صرف ان کے مدمقابل کی نہیں ہوتی، بلکہ وہ پوری انسانیت اور نظام کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

جے ڈی وینس کا صحافیوں سے گفتگو میں یہ کہنا کہ معاہدے کا نہ ہونا امریکہ سے زیادہ ایران کے لیے بری خبر ہے، درحقیقت امریکی تکبر اور فوجی طاقت کے اندھے زعم کو ظاہر کرتا ہے۔ لیکن عالمی سیاست کے زمینی حقائق اس کھوکھلے تکبر سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور گھمبیر ہیں۔ ان مذاکرات کے پس پردہ صرف امریکہ اور ایران ہی نہیں، بلکہ چین اور روس جیسی ابھرتی ہوئی عالمی قوتیں بھی خاموشی سے سرگرم ہیں، جو اس تنازع اور اس سے پیدا ہونے والے خلا کو اپنے طویل المدتی اسٹریٹجک مقاصد اور عالمی اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے نہایت مہارت سے استعمال کر رہی ہیں۔ بیجنگ کا سفارتی کردار اور ماسکو کی انٹیلی جنس معاونت دراصل امریکہ کی لیے ایک کھلا چیلنج ہے کہ وہ اب مشرق وسطیٰ کا تنہا چوہدری نہیں رہا۔

آج جو عارضی جنگ بندی اور سفارتی سرگرمی ہمیں نظر آ رہی ہے، وہ محض ایک خاموش طوفان کا درمیانی وقفہ ہے۔ اگر وائٹ ہائوس اپنے ہٹ دھرمی پر مبنی موقف میں عملی لچک پیدا نہیں کرتا، جے ڈی وینس کا مسودہ محض ایک الٹی میٹم تک محدود رہتا ہے، اور دوسری جانب ایران کو وہ سانس لینے کی جگہ اور معاشی ریلیف نہیں ملتا جس کا وہ شدت سے تقاضا کر رہا ہے، تو پھر تہران کا یہ ’’ جزوی پیش رفت‘‘ کا بیانیہ درحقیقت ریت کی ایک ایسی دیوار ثابت ہوگا جو حالات کی ذرا سی تلخی اور مفادات کے ٹکرائو سے زمین بوس ہو جائے گی۔ جنگ اور امن کے درمیان اس وقت جو ایک انتہائی باریک لکیر کھینچی گئی ہے، وہ کسی بھی لمحے ٹوٹ سکتی ہے۔ امن کی یہ موجودہ فضا، جس پر دنیا عارضی طور پر سکھ کا سانس لے رہی ہے، دراصل ایک بھیانک سراب کے سوا کچھ نہیں۔ آج جو خاموشی مشرق وسطیٰ پر محیط نظر آ رہی ہے، اگر اس کی بنیادوں میں سیاسی بلوغت، سفارتی لچک، پابندیوں کے خاتمے اور بقائے باہمی کا ٹھوس سیمنٹ نہیں ڈالا گیا، تو یہ سکون بہت جلد ایک نئے، وسیع اور کہیں زیادہ ہولناک طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ یہ عارضی جنگ بندی سفارتی ہنر مندی سے زیادہ تھکاوٹ اور خوف کا نتیجہ ہے، جو سفارتی ناکامی کی اگلی ہی آندھی سے ریزہ ریزہ ہو جائے گی، اور پھر جو طوفان اٹھے گا، وہ نہ صرف مشرق وسطیٰ کو بلکہ پوری دنیا کے نازک معاشی اور سیاسی ڈھانچے کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر دے گا۔

جواب دیں

Back to top button