پاکستان کے خلاف سازشیں کون کرتا ہے؟

پاکستان کے خلاف سازشیں کون کرتا ہے؟
تحریر : روشن لعل
پاکستان کی معیشت غیر مستحکم ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔ پاکستان کی غیر مستحکم معیشت کو اکثر بیرونی سازشوں کا شاخسانہ قرار دیا جاتا ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں کہ وطن عزیز کے معاشی نظام سمیت ،سماجی اور سیاسی نظام بھی غیر مستحکم ہیں۔ کیا یہ مان لیا جائے کہ ہماری معیشت کی طرح سیاست اور معاشرت کے غیر مستحکم ہونے کے ذمہ دار بھی بیرونی سازشی عناصر ہیں۔ اگرچہ پاکستان کے اکثر مبصر ملکی معیشت غیر مستحکم ہونے کے لیے بیرونی سازشوںکو ذمہ دار قرار دیتے رہتے ہیں لیکن ان کے پاس اپنے دعووں کی تصدیق کے لیے ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہوتے۔ ٹھوس ثبوت نہ ہونے کے باوجود ایسے مبصروں کی بیان بازی کو چاہے وقتی طور پر ہی سہی مگر اکثر سچ مان لیا جاتا ہے ۔بیرونی سازش کے جس الزام کو یہاں سب سے زیادہ وقتی قبولیت حاصل ہوئی وہ عمران خان نے لگایا تھا۔ سابق وزیر اعظم عمران خان نے 2022ء میں اپنی حکومت گرانے کے لیے امریکہ پر سازش کرنے کا جو الزام لگایا اسے پاکستان میں وسیع پیمانے پر درست تسلیم کیا گیا تھا۔ عمران خان ، موقع ملنے کے باوجود اس الزام کو اپنے خیر خواہ ججوں کی عدالتوں میں بھی درست ثابت نہیں کر سکے تھے۔ عمران خان نے اپنے خلاف سازش کا الزام عائد کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ ان کی حکومت گرانے کے ساتھ معاشی بحالی کی ٹرین کو بھی پٹڑی سے اتار دیا گیا ہے۔ عجیب بات ہے کہ جس عمران خان نے معاشی بحالی کو روکنے کے لیے بیرونی سازشوں کو قصور وار ٹھہرایا تھا گزشتہ دنوں اسی عمران خان کے بچوں پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ وہ ملکی معیشت کو نقصان پہنچانے کے لیے سازش کے تحت یورپی یونین کو اکسا رہے ہیں کہ پاکستان کو حاصل جی ایس پی کی سہولت واپس لے لی جائے۔
ملکی معیشت کی شکست و ریخت کا تمام تر ملبہ بیرونی عناصر پر گرانے والے تو یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ غیر ملکی طاقتوں نے اپنی سازشوں کے ذریعے پاکستان کو قرضوں کے جال میں پھنسایا ہوا ہے۔ اسی قسم کا ایک بیانیہ یہ بھی ہے کہ بیرونی سازشوں کی وجہ سے ہی وہ پاک چین اقتصادی راہداری (CPEC)دس برس گزرنے کے بعد بھی پاکستانی معیشت کے لیے بار آور ثابت نہ ہو سکی جس کے آغاز پر اسے گیم چینجر کہا گیا تھا۔ صرف سی پیک سے وابستہ خواب پورے نہ ہونے کی ذمہ داری ہی بیرونی سازشوں پر نہیں ڈالی جاتی بلکہ ملک میں طویل عرصہ سے جاری دہشت گردی کی پشت پناہی کا الزام بھی غیر ملکی سازشی عناصر پر عائد کر دیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں کبھی کبھی یہ انکشاف بھی سامنے آجاتا ہے کہ ملک میں مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے کے لیے بیرونی سازشی عناصر ہی ہمارے محب وطن تاجروں کو اکساتے رہتے ہیں اور یہی عناصر مقامی اشرافیہ کا ملک لوٹ کر بٹورا ہوا کالا دھن ، قیمتی زرمبادلہ کی شکل میں ہنڈی کے ذریعے بیرون ملک منتقل کرنے کے لیے سہولت کاری کرتے رہتے ہیں۔
جن مبینہ بیرونی کی سازشوں کا سطور بالا میں خلاصہ بیان کیا گیا ہے ، ان کا ذکر، امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر مسلط کردہ جنگ کے دوران مسلسل سننے کو مل رہی ہے۔ تکرار سے کیے جارہے اس ذکر کے ساتھ یہ موقف بھی سامنے آرہا ہے کہ اگر بیرونی عناصر نے پاکستان کو معاشی طور پر ناکام بنانے کے لیے سازشیں نہ کی ہوتیں تو اپنے بہترین جغرافیائی محل وقوع کی بدولت ہمارا ملک بہت پہلے دنیا کی ایک مستحکم اور قابل رشک معاشی طاقت بن چکا ہوتا۔
اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ کچھ مخصوص بیرونی عناصر پاکستان کو معاشی طور پر غیرمستحکم کرنے، یہاں عرصہ دراز سے جاری دہشت گردی کا تسلسل قائم رکھنے ، اور سی پیک جیسے منصوبوں کو ناکام کرنے کے لیے جس حد تک بھی ممکن ہو سازشوں کا جال بنتے رہتے ہیں۔ کیا اس سچ کو یہ حقیقت نظر انداز کر کے تسلیم کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان کو نقصان پہنچانے والی بیرونی سازشیں اگر کامیاب ہوتی ہیں تو اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ جن لوگوں کی ذمہ داری ان سازشوں کو ناکام بنانا ہے وہ لوگ اپنے ذاتی مفادات کے حصول میں اس قدر مگن رہتے ہیں کہ ان کے پاس ملکی مفادات کا تحفظ کرنے کے لیے وقت ہی باقی نہیں رہتا۔
یہ انکشاف کسی اور نے نہیں بلکہ ہمارے ملک کو قرضہ دینے والے ادارے آئی ایم ایف نے اپنی ایک رپورٹ میں کیا ہے کہ پاکستان کا معاشی نفاذ مفاد عامہ نہیں بلکہ مختصر اور طاقتور اشرافیہ کے مفادات کے تحفظ کے گرد گھومتا ہے۔ ملک کی اشرافیہ کے مفادات کا تحفظ قومی ترجیح بنانے کا یہ نتیجہ برآمد ہوا کہ اس وقت پاکستان مجموعی طور پر 79.88ٹریلین پاکستانی روپے اور اس کا ہر شہری 333000روپے کا مقروض ہے۔ ملک اور عوام کے اس قدر مقروض ہونے کے باوجود ہماری معیشت کا یہ حال ہے کہ عوام کا خون نچوڑنے کے لیے ان پر عائد مختلف قسم کے بھاری بھرکم محصولات سے جو ریونیو اکٹھا ہوتا ہے اس کا تقریباً 47فیصد قرضوں کی ادائیگی میں صرف ہو جاتا ہے۔ اشرافیہ کے مفادات کا تحفظ کرنے والی جن پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان قرضوں کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے اور عوام ہوشربا ٹیکس دینے کے باوجود مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں ان پالیسیوں کو تبدیل کرنے کی بجائے مسلسل نافذ رکھ کر کام چلایا جارہا ہے۔ ایسی صورتحال میں بیرونی سرمایہ کاری سے ، بستر پر پڑی بیمار معیشت کی طبیعت بحال کرنے کا کام لیا جاسکتا تھا لیکن ہمارے پالیسی سازوں کی ’’ کرشمہ سازی‘‘ یہ ہی کہ پاکستان کے ڈومیسٹک بانڈز میں کی گئی 886.7ملین امریکی ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری میں سے سال 2026کے ابتدائی مہینوں میں ہی 794ملین امریکی ڈالر نکال لیے گئے ہیں۔ صرف بیرونی سرمایہ کارو ں نے ہی پاکستان کے ڈومیسٹک بانڈز میں ہونی والی سرمایہ کاری کو واپس نہیں لیا بلکہ بیرونی کمپنیوں نے انرجی، کان کنی اور دیگر صنعتوںمیں براہ راست کی گئی سرمایہ کاری کے منصوبوں سے بھی دستبردار ہونا شروع کر دیا ہے۔ چائنہ کے سینچری سٹیل گروپ نے رشکائی سپیشل اکنامک زون میں 82ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کرتے ہوئے پلانٹ کی تعمیر شروع کی تھی لیکن ایک رپورٹ کے مطابق سرخ فیتے کی ناقبت اندیشیوں کی وجہ سے گزشتہ پانچ برسوں کے دوران7. 5ملین امریکی ڈالر کا نقصان برداشت کرنے کے بعد منصوبہ ختم کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔ چائنہ کے تھری گورجیز گروپ نے پاکستان میں نے جن ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں پر کام کرنے کا آغاز کیا تھا ان پر عدم ادائیگیوں اور سیکیورٹی کے مسائل کی وجہ سے مزید تصرف کرنے کی بجائے دنیا میں کہیں دوسری جگہ سرمایہ کاری پر غور کرنا شروع کردیا ہے۔ اسی طرح کچھ امریکی کمپنیوں نے بھی پاکستان میں اپنے منصوبے ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ پاکستان کے سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن کے مطابق 1977ء سے 2025ء تک 125بیرونی کمپنیاں اپنے تلخ تجربات کی بنا پر پاکستان سے اپنا بوریا بستر لپیٹ کر واپس جا چکی ہیں۔
قصہ مختصر یہ کہ پاکستان کے خلاف بیرونی سازشوں سے انکار ممکن نہیں، لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ جب ہم اندرونی طور پر سازشیں کرنے والوں کا کبھی کچھ بگاڑ نہیں سکے تو بیرونی سازشوں کا توڑ کیا ہی کریں گے۔







