مذاکرات کا بغیر معاہدے اختتام

مذاکرات کا بغیر معاہدے اختتام
اسلام آباد میں ایران، امریکا مذاکرات ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ عالمی سیاست میں تنازعات کا حل فوری نہیں بلکہ تدریجی اور پیچیدہ عمل ہوتا ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے اس بیان کہ ’’ بغیر کسی ڈیل کے امریکا واپس جارہے ہیں‘‘ نے وقتی طور پر مایوسی ضرور پیدا کی، لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ سفارتی دروازے بند ہوچکے ہیں، بلکہ اس پورے عمل کو ایک طویل سفارتی جدوجہد کے تسلسل کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہوگا۔ 21 گھنٹے طویل مذاکرات کے باوجود کسی حتمی معاہدے تک نہ پہنچ پانا اس امر کی نشان دہی کرتا ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان بنیادی نوعیت کے اختلافات اب بھی موجود ہیں، خصوصاً ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے۔ امریکا کی جانب سے واضح اور قابلِ تصدیق یقین دہانی کا مطالبہ اپنی جگہ اہم ہے، تاہم ایران کے لیے بھی اپنی خودمختاری اور دفاعی حقائق کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سفارت کاری کی باریکیاں اور قومی مفادات ایک دوسرے سے ٹکراتے نظر آتے ہیں۔ ایرانی موقف، جیسا کہ ترجمان اسماعیل بقائی نے بیان کیا، اس بات پر زور دیتا ہے کہ کسی ایک نشست میں جامع معاہدے کی توقع غیر حقیقت پسندانہ ہے۔ ان کے مطابق مذاکرات میں نہ صرف جوہری معاملات بلکہ پابندیوں کا خاتمہ، جنگی نقصانات کا ازالہ اور خطے میں کشیدگی کے خاتمے جیسے پیچیدہ موضوعات بھی شامل تھے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ مذاکرات محض ایک معاہدے تک محدود نہیں بلکہ ایک وسیع تر علاقائی توازن کی تشکیل سے جڑے ہوئے ہیں۔ اسی تناظر میں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا بیان بھی قابلِ غور ہے، جس میں انہوں نے امریکا پر عدم اعتماد کا اظہار کیا۔ یہ عدم اعتماد ماضی کے تجربات کا نتیجہ ہے، جسے نظر انداز کر کے کسی بھی پائیدار معاہدے کی بنیاد رکھنا مشکل ہوگا۔ ایران کی قیادت بارہا اس بات پر زور دیتی آئی ہے کہ مذاکرات صرف اسی صورت میں کامیاب ہوسکتے ہیں جب فریقین ایک دوسرے کے تحفظات کو سنجیدگی سے تسلیم کریں۔ پاکستان کا کردار اس سارے عمل میں نہایت اہم اور قابلِ تحسین رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور عسکری قیادت، خصوصاً فیلڈ مارشل عاصم منیر، کی کوششوں نے اسلام آباد کو ایک بار پھر سفارتی سرگرمیوں کا مرکز بنا دیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا یہ کہنا کہ پاکستان مستقبل میں بھی سہولت کاری کا کردار ادا کرتا رہے گا، اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے سنجیدہ ہے۔ یہ پیش رفت پاکستان کے لیے ایک سفارتی کامیابی بھی ہے، کیونکہ اس نے خود کو ایک غیر جانبدار ثالث کے طور پر پیش کیا ہے۔ ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ مسلسل کشیدگی کا شکار ہے، پاکستان کی یہ کوششیں نہ صرف اس کی عالمی ساکھ کو مضبوط بناتی ہیں بلکہ اسے ایک ذمے دار ریاست کے طور پر بھی اجاگر کرتی ہیں۔ تاہم، اس تمام عمل کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ کیا امریکا اور ایران واقعی کسی درمیانی راستے تک پہنچنے کے لیے تیار ہیں؟ امریکا کے لیے ایران کا جوہری پروگرام ایک سیکیورٹی خطرہ ہے جب کہ ایران اسے اپنی خودمختاری اور دفاع کا لازمی جزو سمجھتا ہے۔ یہ بنیادی تضاد ہی اصل رکاوٹ ہے، جسے حل کیے بغیر کسی بھی معاہدے کا امکان محدود رہے گا۔ مزید برآں، خطے کی مجموعی صورتحال بھی ان مذاکرات پر اثر انداز ہوتی ہے۔ آبنائے ہرمز کی اسٹرٹیجک اہمیت، مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات اور عالمی طاقتوں کے مفادات اس معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ ایسے میں کسی ایک مسئلے کا حل نکالنا بھی کئی دیگر مسائل سے جڑا ہوتا ہے۔ اس کے باوجود، یہ امر حوصلہ افزا ہے کہ دونوں فریقین نے مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ سفارت کاری کی خوبصورتی ہی یہی ہے کہ یہ دروازے بند نہیں کرتی بلکہ نئے امکانات پیدا کرتی ہے۔ اگرچہ فوری نتائج سامنے نہیں آئے، لیکن مکالمے کا جاری رہنا بذاتِ خود ایک مثبت پیش رفت ہے۔ آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ اسلام آباد مذاکرات کسی اختتام کا نہیں بلکہ ایک نئے مرحلے کا آغاز ہیں۔ یہ عمل وقت لے گا، صبر کا متقاضی ہوگا اور سب سے بڑھ کر نیک نیتی کا امتحان ہوگا۔ اگر امریکا اور ایران واقعی خطے میں پائیدار امن چاہتے ہیں تو انہیں اپنے موقف میں لچک پیدا کرنا ہوگی اور ایک دوسرے کے تحفظات کو تسلیم کرنا ہوگا۔ پاکستان کی ثالثی اس سفر میں ایک اہم پل ثابت ہو سکتی ہے، بشرطیکہ فریقین سنجیدگی کے ساتھ اس موقع سے فائدہ اٹھائیں۔
پاک، سعودیہ تعلقات: معاشی و دفاعی شراکت داری کا نیا باب
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ پیش رفتیں اس حقیقت کو مزید واضح کرتی ہیں کہ دونوں ممالک کے تعلقات محض سفارتی نہیں بلکہ گہرے اسٹرٹیجک، معاشی اور دفاعی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو مالی تعاون کی یقین دہانی اور 5ارب ڈالر کے قرض میں توسیع پر غور ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کو شدید مالی دبا اور زرمبادلہ کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ دوسری طرف پاکستان کی جانب سے معاشی تعاون بڑھانے اور سرمایہ کاری کے مواقع میں وسعت دینے کی خواہش اس تعلق کو مزید مضبوط بنانے کی عکاس ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور سعودی ہم منصب محمد بن عبداللہ الجدعان کی ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق نہ صرف خوش آئند ہے بلکہ یہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ سعودی عرب پاکستان کو ایک اہم معاشی شراکت دار کے طور پر دیکھتا ہے۔ پاکستان کی موجودہ معاشی صورت حال، جس میں قرضوں کی ادائیگی اور زرمبادلہ کے ذخائر کو برقرار رکھنے جیسے سنگین چیلنجز شامل ہیں، اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ دوست ممالک کی حمایت جاری رہے۔ سعودی عرب کی مالی معاونت اس تناظر میں پاکستان کے لیے ایک اہم سہارا ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ محض قرضوں اور مالی معاونت سے معیشت کو پائیدار بنیادوں پر مستحکم نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان کو اپنی معیشت میں ساختی اصلاحات، برآمدات میں اضافہ، ٹیکس نیٹ کی وسعت اور توانائی کے شعبے میں بہتری جیسے اقدامات کو ترجیح دینا ہوگی تاکہ بیرونی مالی مدد پر انحصار کم کیا جاسکے۔ سعودی عرب کے ساتھ بڑھتا ہوا معاشی تعاون اس وقت زیادہ موثر ثابت ہوگا جب پاکستان خود کفالت کی جانب عملی پیش رفت کرے گا۔دوسری جانب دفاعی شعبے میں بھی دونوں ممالک کے تعلقات ایک نئے مرحلے میں داخل ہورہے ہیں۔ پاکستانی فوجی دستے اور لڑاکا طیاروں کی سعودی عرب میں تعیناتی نہ صرف دفاعی تعاون کی مضبوطی کو ظاہر کرتی ہے بلکہ اس بات کا بھی اظہار ہے کہ دونوں ممالک خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ کردار ادا کرنے کے خواہاں ہیں۔ سعودی عرب کی جانب سے ’’ ارض مقدس‘‘ کے دفاع کے لیے پاکستان کے ساتھ مشترکہ حکمت عملی علاقائی سلامتی کے تناظر میں نہایت اہم پیش رفت ہے۔ پاکستانی افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتیں اور سعودی عرب کے ساتھ دیرینہ دفاعی تعاون ایک ایسا رشتہ ہے جو دہائیوں پر محیط ہی۔ یہ تعلق نہ صرف تربیت اور دفاعی تعاون تک محدود ہے بلکہ بحران کی صورت حال میں باہمی اعتماد کی علامت بھی ہے۔ کنگ عبدالعزیز ایئر بیس پر پاکستانی دستے کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں ممالک عملی سطح پر بھی ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی وزیر خزانہ کی ملاقاتیں اس بات کی نشان دہی کرتی ہیں کہ اعلیٰ سطح پر رابطے مسلسل جاری ہیں اور دونوں ممالک اپنے تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ عالمی بینک اور آئی ایم ایف جیسے فورمز پر بھی اس تعاون کے اثرات مستقبل میں دیکھے جاسکتے ہیں، جہاں پاکستان کو اپنے معاشی موقف کو مضبوط بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم اس پورے منظرنامے میں ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی میں توازن اور خود انحصاری کو برقرار رکھنا ہوگا۔ قومی معیشت کی مضبوطی داخلی اصلاحات کے بغیر ممکن نہیں۔ بیرونی امداد ایک سہارا ضرور ہوسکتی ہے مگر مستقل حل نہیں۔ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون نہ صرف دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہے بلکہ یہ پورے خطے میں استحکام کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں جاری سیاسی و معاشی چیلنجز کے پیش نظر یہ شراکت داری ایک مثبت اشارہ ہے کہ مسلم دنیا کے اہم ممالک مل کر ترقی، سلامتی اور استحکام کی راہ اختیار کر سکتے ہیں۔ آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہورہے ہیں جہاں معیشت اور دفاع دونوں شعبوں میں تعاون بڑھ رہا ہے۔ اگر یہ تعاون تسلسل اور حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھایا جائے تو یہ نہ صرف پاکستان کی معاشی مشکلات میں کمی لاسکتا ہے بلکہ خطے میں امن اور ترقی کے نئے دروازے بھی کھول سکتا ہے۔







