سائبرکرائم کے خلاف پنجاب حکومت کا راست اقدام

سائبر کرائم کے خلاف پنجاب حکومت کا راست اقدام
تحریر : رفیع صحرائی
ٹیکنالوجی اگر روشنی ہے تو اس کے تاریک پہلو بھی ہیں، دانشمندی اسی میں ہے کہ ہم روشنی کو اپنائیں اور تاریک پہلوئوں سے بچائو کا ہنر سیکھیں۔ ڈیجیٹل دنیا نے جہاں انسانی زندگی کو سہل بنایا ہے وہیں ایک خطرناک پہلو بھی نمایاں ہوا ہے۔ وہ پہلو سائبر کرائم کا ہے۔ خصوصاً خواتین اور بچے اس نئے جرم کا سب سے آسان ہدف بن گئے ہیں۔ ایسے میں وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے پنجاب سائبر کرائم یونٹ کے قیام کی منظوری ایک بروقت اور قابلِ تحسین اقدام ہے جو نہ صرف متاثرین کو فوری سہولت فراہم کرے گا بلکہ معاشرے میں ڈیجیٹل تحفظ کے شعور کو بھی اجاگر کرے گا۔
خواتین اور بچوں کے خلاف سائبر جرائم کی کئی شکلیں سامنے آ چکی ہیں جن میں نمایاں جرائم میں آن لائن ہراسمنٹ یعنی نازیبا پیغامات، دھمکیاں اور ذہنی دبائو، بلیک میلنگ (Sextortion)، ذاتی تصاویر یا معلومات کے ذریعے بلیک میل کرنا، جعلی اکائونٹس اور شناخت کی چوری، آن لائن گرومنگ یعنی بچوں کو دھوکے سے اپنے جال میں پھنسانا، ڈیپ فیک ویڈیوز اور تصاویر کا غلط استعمال، سوشل میڈیا ٹرولنگ اور کردار کشی جیسے گھنائونے افعال شامل ہیں۔یہ جرائم بظاہر غیر محسوس انداز میں شروع ہوتے ہیں مگر متاثرہ فرد کی ذہنی، جذباتی اور سماجی زندگی کو بری طرح متاثر کرتے ہیں۔ بعض اوقات خواتین و حضرات اور نوعمر نوجوانوں کو اس قدر ذہنی اذیت اور بدنام کرنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں کہ وہ یہ دبائو برداشت نہیں کر پاتے اور خودکشی کر لیتے ہیں۔ وہ بدنامی کے ڈر سے پولیس یا اپنے قریبی عزیز رشتہ داروں سے مدد بھی نہیں لے پاتے اور نہ ہی پولیس میں رپورٹ درج کراتے ہیں۔
سائبر کرائم کے بڑھنے کے کئی اسباب ہیں جن میں سوشل میڈیا کا بے تحاشہ اور غیر محتاط استعمال، ڈیجیٹل شعور اور آگاہی کی کمی، نگرانی کے بغیر بچوں کی انٹرنیٹ تک رسائی، ماضی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی محدود صلاحیت اور مجرموں کا آسانی سے شناخت چھپا لینا شامل ہیں۔ بعض صورتوں میں یہ بھی ہوتا ہے کہ بلیک میلر بہت زیادہ طاقتور ہوتے ہیں اور دھڑلے سے بلیک میل کرتے ہیں۔ کئی چالاک مجرم ایسے بھی ہوتے ہیں جو دوسروں کا فون ہیک کر کے ان کا سارا ڈیٹا اپنی طرف منتقل کر لیتے ہیں اور اس ڈیٹا کی مدد سے بلیک میل کرتے ہیں۔ فون ہیکنگ کے ذریعے ہی لوگوں کے اکائونٹس کا صفایا کر دیا جاتا ہے۔
سائبر کرائم سے بچا ممکن ہے، بشرطیکہ چند احتیاطی تدابیر اپنائی جائیں۔ ذاتی معلومات، تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنے میں احتیاط برتی جائے۔ خاص طور پر نوعمر لڑکے اور لڑکیوں کو اس معاملے میں جذبات سے زیادہ عقل سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ اپنے سوشل میڈیا اکانٹس کے لیے مضبوط پاس ورڈ اور دوہری تصدیق (Two-factor authentication) کا استعمال لازمی کریں۔ نامعلوم افراد کی فرینڈ ریکویسٹ یا پیغامات سے گریز کرنا چاہیے۔ ہمارے یہاں ویوز اور لائکس بڑھانے کے چکر میں اکثر بے احتیاطی کی جاتی ہے۔ والدین کے لیے ضروری ہے کہ بچوں کے لیے پیرنٹل کنٹرول اور اسکرین ٹائم کی حد بندی مقرر کریں۔ اگر آپ کو کوئی مشکوک سرگرمی محسوس ہو یا اس کا شکار ہو جائیں تو اس کی فوری رپورٹنگ لازمی کی جائے۔
پنجاب حکومت کی جانب سے سائبر کرائم سیفٹی ایکٹ کے تحت کیے گئے اقدامات کئی حوالوں سے انقلابی نوعیت کے ہیں۔ اب موبائل شکایتی یونٹ کے قیام کے بعد متاثرہ بچوں کو تھانے جانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ ورچوئل پولیس سٹیشنز کے قیام سے شناخت مکمل خفیہ رکھنے کی سہولت حاصل ہو گی۔ ’’ پی کے ایم‘‘ ایپ اور فرنٹ ڈیسک کے ذریعے آسان اور فوری رسائی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ سائبر پٹرول ونگ اور اکیڈمی میں سرکاری اہل کاروں کی پیشہ ورانہ مہارت میں اضافہ کرنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انٹیلی جنس سسٹم کو مزید فعال کیا جا رہا ہے جبکہ سوشل میڈیا مانیٹرنگ کے ذریعے بروقت کارروائی کو یقینی بنانے کے اقدام کیے جا رہے ہیں۔
یہ تمام اقدامات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ریاست اب روایتی پولیسنگ سے نکل کر ڈیجیٹل دور کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھال رہی ہے۔ لیکن عوام کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ سائبر کرائم سے نمٹنا صرف حکومت ک ذمہ داری نہیں بلکہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
والدین کو چاہیے کہ بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور ان کے ساتھ اعتماد کا ماحول قائم کریں۔ اساتذہ کے لیے ضروری ہے کہ ہم نصابی سرگرمیوں میں ڈیجیٹل سیفٹی شامل کریں اورطلبہ کو سوشل میڈیا کے استعمال کا شعور دیں۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ موثر قانون سازی، فوری انصاف اور ادارہ جاتی بہتری یقینی بنائے۔ جبکہ معاشرہ کا فرض ہے کہ متاثرین کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے ان کی حوصلہ افزائی کرے۔
جہاں تک حکومت کی ذمہ داریوں کا تعلق ہے تو اس نے اپنے فرض کی ادائیگی میں مثبت پیش رفت کی ہے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے مجوزہ پنجاب آن لائن سیفٹی ایکٹ 2026ء سائبر کرائم کی روک تھام میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ اس ایکٹ کے ممکنہ خدوخال میں سائبر جرائم کی واضح تعریف اور درجہ بندی، سخت سزائیں اور فوری ٹرائل، متاثرین کے تحفظ اور رازداری کی ضمانت، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی ذمہ داری کا تعین، بچوں اور خواتین کے لیے خصوصی حفاظتی شقیں جیسے خدوخال شامل ہونے ضروری ہیں۔ اگر یہ قانون موثر انداز میں نافذ ہو گیا تو یہ نہ صرف جرائم کی شرح کم کرے گا بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی بحال کرے گا۔
سائبر کرائم ایک ایسا چیلنج ہے جو سرحدوں کا پابند نہیں مگر اس کا مقابلہ صرف قانون سے نہیں بلکہ شعور، احتیاط اور اجتماعی ذمہ داری سے ممکن ہے۔ مریم نواز کی جانب سے اٹھایا گیا یہ قدم ایک مثبت آغاز ضرور ہے مگر اس کی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ہم بحیثیت معاشرہ اس کو کس حد تک سنجیدگی سے لیتے ہیں۔
’’ ٹیکنالوجی اگر روشنی ہے تو اس کے تاریک پہلو بھی ہیں۔ دانشمندی اسی میں ہے کہ ہم روشنی کو اپنائیں اور تاریک پہلوں سے بچا کا ہنر سیکھیں‘‘ ۔






