دھندلااعتبار اور ثالثی کا بوجھ

دھندلا اعتبار اور ثالثی کا بوجھ
تحریر : محمد محسن اقبال
ایک وقت تھا جب جنگوں کی تباہ کاریوں سے تھکی ہوئی دنیا نے ایک چھت کے نیچے جمع ہو کر اقوام متحدہ کی بنیاد رکھی۔ مقصد نہایت سادہ مگر عظیم تھا۔ اقوام اب بے لگام جنگوں کی طرف نہیں بڑھیں گی۔ اختلافات کو ایک مشترکہ فورم پر لایا جائے گا۔ تدبر جذبات پر غالب آئے گا۔ اور امن کو اجتماعی ارادے سے محفوظ بنایا جائے گا۔
یہ ادارہ اس لیے قائم نہیں کیا گیا تھا کہ چند طاقتور ریاستوں کے عزائم کی تکمیل کا ذریعہ بنے۔ نہ ہی اسے اس غرض کے لیے بنایا گیا تھا کہ کوئی اپنی مرضی سی خطرات کا تصور قائم کرے اور پھر انہیں مٹانے کے نام پر طاقت کا بے دریغ استعمال کرے۔ اس کے قیام کی روح انصاف تھی اور اس کی قوت غیر جانب داری میں پوشیدہ تھی۔
مگر تاریخ گواہ ہے کہ جب طاقت بے مہار ہو جائے تو وہ سایوں کو بھی دشمن سمجھنے لگتی ہے۔ وہ خوف تراشتی ہی اور پھر انہی خوفوں کے ازالے کے نام پر تباہی کو دعوت دیتی ہے۔ ایسے رویے عالمی نظم کو متزلزل کر دیتے ہیں۔ اعتماد کی بنیادیں ہلا دیتے ہیں اور چھوٹی اقوام کے دلوں میں عالمی اداروں کے بارے میں شکوک پیدا کر دیتے ہیں۔
حالیہ دنوں میں دنیا نے ایک مانوس منظر پھر دیکھا۔ ایران یک ایسے خطے میں جہاں پہلے ہی کشیدگی کی فضا تھی، ایک رکاوٹ کے طور پر سامنے آیا اور اسے نشانہ بنایا گیا۔ اندازے یہی تھے کہ ردعمل کمزور ہوگا۔ نتائج پہلے سے طے شدہ سمجھے جا رہے تھے۔ مگر حالات نے مختلف رخ اختیار کیا۔ ایران نے توقعات کے برعکس ردعمل دیا اور ساری قیاس آرائیاں غلط ثابت ہوئیں۔ فضا مزید نازک ہو گئی۔
ایسے نازک لمحے میں اقوام متحدہ کا کردار نہایت اہم ہو جاتا ہے۔ آج کی دنیا ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔ ایک خطے کی آگ پورے عالم کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ خطرات صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہتے بلکہ معیشتوں، معاشروں اور عالمی توازن کو بھی اپنی زد میں لے لیتے ہیں۔ اس لیے لازم تھا کہ یہ عالمی ادارہ بروقت اور موثر کردار ادا کرتا، سیاست سے بلند ہو کر امن کی بحالی کے لیے آگے بڑھتا۔
مگر ایک بار پھر وہی داستان دہرائی گئی۔ عمل کی جگہ خاموشی نے لے لی۔ قیادت کی جگہ تذبذب نے جنم لیا۔ وہ ادارہ جو تنازعات کو روکنے کے لیے قائم کیا گیا تھا، خود انہی قوتوں کے زیر اثر نظر آیا جنہیں وہ قابو میں رکھنے کے لیے وجود میں آیا تھا۔
ایسے حساس وقت میں پاکستان نے وہ کردار ادا کیا جس نے بہت سوں کو حیران کر دیا۔ اس نے وہ ذمہ داری اٹھائی جس سے دیگر گریزاں رہے۔ اس نے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی۔ سنجیدگی اور توازن کا مظاہرہ کیا۔ یہ ثابت کیا کہ اگر نیت صاف ہو اور سمت درست ہو تو ایک قوم اپنے حجم سے کہیں بڑھ کر اثر ڈال سکتی ہے۔
یہ تاثر عام ہے کہ پاکستان پر حالیہ دنوں میں قدرت کی خاص عنایت رہی ہے۔ مئی 2025ء سے اب تک اس نے وقار اور اعتماد کے ساتھ سفر طے کیا ہے۔ اس کی عسکری اور سیاسی قیادت نے بصیرت کا مظاہرہ کیا ہے۔ فیصلے سوچ سمجھ کر کیے گئے ہیں اور نتیجہ عزت و سربلندی کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ ایسے لمحات محض اتفاق نہیں ہوتے بلکہ عزم، یکجہتی اور یقین کی کوکھ سے جنم لیتے ہیں۔
ایسے وقت میں شکرگزاری لازم ہے۔ مگر شکر کے ساتھ حکمت بھی ضروری ہے۔ کامیابیوں کو سنبھالنا ہوتا ہے۔ عزت کو برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ آگے کا راستہ تدبر سے چننا ہوتا ہے۔
پاکستان کو اپنے اندر بھی جھانکنا ہوگا۔ بیرونی دنیا میں مضبوط کردار کے لیے اندرونی استحکام ناگزیر ہے۔ عوام کی ضروریات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ داخلی قوت ہی خارجی وقار کو جنم دیتی ہے۔ یہی توازن اصل قیادت کا امتحان ہوتا ہے۔
جب پاکستان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے تو کچھ نئے سوالات بھی جنم لیتے ہیں۔ ثالثی اعتماد کا تقاضا کرتی ہے۔ یہ ضروری ہے کہ تمام فریق اس پر یقین رکھیں۔ مگر اس تنازع میں ایک ایسا فریق بھی موجود ہے جس کی ساکھ مشکوک ہے۔ معاہدے اسی وقت معنی رکھتے ہیں جب ان کی پاسداری کی جائے۔ اعتماد کے بغیر کوئی بھی بندوبست دیرپا نہیں ہو سکتا۔
بعض تجزیہ نگار پس پردہ عوامل کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بڑی طاقتیں بھی کبھی کبھی خود محدود ہو جاتی ہیں۔ کچھ کے نزدیک اثر و رسوخ کے دھاگے کہیں اور سے ہلائے جاتے ہیں۔ یہ آرا چاہے درست ہوں یا نہ ہوں، مگر عالمی سیاست میں موجود بے یقینی کی عکاسی ضرور کرتی ہیں۔کچھ مبصرین ماضی کو بھی یاد کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پاکستان نے ایک بار پھر مشکل گھڑی میں بڑی طاقتوں کو کنارے تک پہنچنے میں اپنے چپووں اور سفینے کا بھرپور استعمال کیا ہے۔ یہ تاثر اس بحث کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔
مگر ثالثی صرف میز پر بٹھانے کا نام نہیں۔ اس کے ساتھ ذمہ داری جڑی ہوتی ہے۔ ہماری روایات میں جب پنچایت بیٹھتی ہے تو اس کا کام صرف فیصلہ سنانا نہیں ہوتا بلکہ اس پر عملدرآمد کو یقینی بنانا بھی ہوتا ہے۔ اگر کوئی فریق وعدہ خلافی کرے تو پنچایت کے بزرگوں کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اصلاح کریں اور انصاف کو قائم رکھیں۔
ہماری معاشرتی دانش ایک سادہ مگر گہری حقیقت بیان کرتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اگر کنویں میں ناپاکی گر جائے تو محض پانی نکالتے رہنے سے وہ پاک نہیں ہوتا۔ اصل خرابی کو دور کرنا پڑتا ہے۔ یہی اصول عالمی تنازعات پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ سطحی حل دیرپا امن نہیں لا سکتے۔ حقیقی امن کی لیے دیانت اور احتساب ضروری ہیں۔
دنیا ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ اداروں کو اپنی اصل روح کی طرف لوٹنا ہوگا۔ طاقتور ریاستوں کو اپنے طرز عمل پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔ چھوٹی اقوام کو اپنی آواز بلند کرنی ہوگی۔ اور جو ممالک ایسے لمحات میں آگے بڑھتے ہیں انہیں اخلاص کی ساتھ اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ وہ مشکل وقت میں آگے بڑھ سکتا ہے۔ اب اصل امتحان اس کردار کو برقرار رکھنے کا ہے۔ توازن کو قائم رکھنے کا ہے۔ انصاف کو مقدم رکھنے کا ہے۔ اقوام متحدہ کے قیام کے پس منظر میں جو اعلیٰ اقدار تھیں، وہ آج بھی زندہ ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ انہیں دوبارہ زندہ کیا جائے۔ کیونکہ انہی میں ایک پرامن اور مستحکم دنیا کی امید پوشیدہ ہے۔






