
ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے بعد باقاعدہ مذاکرات پاکستان کی میزبانی میں دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے جارہے ہیں، جہاں اس وقت سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات ہیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جمعے کی صبح ایک امریکی فوجی ٹرانسپورٹ طیارہ راولپنڈی کے نور خان ایئربیس پر لینڈ ہوا ہے۔
رائٹرز کے مطابق نور خان ایئربیس پر لینڈ کرنے والے امریکی ٹراسپورٹ طیارے کے پچھلے حصے پر ’چارلسٹن‘ لکھا ہوا ہے۔ تفصیلات کے مطابق یہ طیارہ عام طور پر گاڑیوں، سازوسامان اور اہلکاروں کی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی میں استعمال کیا جاتا ہے۔
امریکی اور ایرانی مذاکراتی وفود کی آج اسلام آباد آمد متوقع ہے تاہم پاکستانی حکام نے واضح کیا ہے کہ آخری وقت تک وفود کی آمد اور حتمی فہرست میں تبدیلی کا امکان موجود ہے۔
ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے پاکستان آنے والے امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے۔ ان کے ساتھ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کے داماد جیرڈ کشنر اور خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف بھی شامل ہوں گے۔
دوسری جانب ایران کی نمائندگی کے لیے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں وفد شریک ہوگا۔ دونوں ملکوں کے وفود پاکستان کی میزبانی میں ممکنہ امن معاہدے کی پر اتفاق رائے کی کوشش کریں گے۔
اسلام آباد میں حفاظتی اقدامات کے تحت ریڈ زون کو سیل کر دیا گیا ہے جبکہ شہر کے اہم داخلی راستے بھی بند ہیں۔ وفاقی دارالحکومت میں دو روز کی تعطیلات کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ امریکا ایران مذاکرات میں شرکت کے لیے اسلام آباد آنے والے وفود کو ’آن ارائیول‘ ویزہ فراہم کیا جائے گا اور مذاکرات کی کوریج کے لیے آنے والے صحافیوں کو بھی یہ سہولت میسر ہوگی۔







