
برطانیہ کی وزیرِ خارجہ یوویٹ کوپر کا کہنا ہے کہ برطانیہ اس تنازع کے ’فوری حل‘ اور اس کے بعد کے مرحلے کے لیے ایک منصوبے پر کام کر رہا ہے۔
برطانوی وزیر کا کہنا ہے کہ سب سے اہم آبنائے ہرمز کا ’دوبارہ کھلنا‘ ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ کوئی بھی ملک اس آبی گزرگاہ کو بند نہیں کر سکتا کیونکہ یہ بین الاقوامی سمندری قوانین کے خلاف ہے۔
کوپر کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز مکمل اور غیر مشروط طور پر کھولے جانے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ نہ صرف موجودہ جنگ بندی بلکہ خطے کے طویل المدتی مستقبل کا بھی اہم جزو ہے۔
برطانوی وزیر کے مطابق کوئی بھی فریق کسی بحری گزرگاہ سے گزرنے کا بنیادی حق یکطرفہ طور پر سلب نہیں کر سکتا اور نہ ہی انھیں کسی انفرادی خریدار کو فروخت کیا جا سکتا ہے







