حج انتظامات کا دعویٰ

مثالی حج انتظامات کا دعویٰ
نقارہ خلق
امتیاز عاصی
یہ خاکسار 1990ء سے حج امور سے کسی نہ کسی حوالے سے وابستہ ہے۔ حق تعالیٰ کی مہربانی سے اس گناہ گار کو دس مرتبہ حج کی سعادت حاصل ہوئی، درمیان میں وفاقی حکومت نے مجھے مدینہ منورہ میں دو پاکستان ہائوسز کا کیئر ٹیکر مقرر کیا۔ پاکستان ہاوسز کی تاریخ میں پہلی مرتبہ میں نے دو ہزار حجاج کرام کو رہائش دے کر چھ ملین ریال کرایوں کی مد میں بینک الجزیرہ مدینہ منورہ میں ڈیپازٹ کرائے تھے۔ تنظیم بہبود حجاج کے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے مجھے ملک کے چاروں صوبوں میں عازمین حج کو مناسک حج اور بہبود کے انتظامات بارے آگاہی کی سعادت حاصل ہوئی۔ سردار مہتاب عباسی، مولانا عبدالستار خان نیازی، راجہ ظفر الحق اور سید خورشید شاہ کی وزارت میں حجاج کی خدمت کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ وفاقی سیکرٹریوں میں جناب محمد یوسف، مظہر رفیع، ڈاکٹر صفدر محمود، زیبر قدوائی اور جناب لطف اللہ مفتی کے دور میں سیزنل ڈیوٹی کے لئے سعودی عرب جاتا رہا۔ گزشتہ روز وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف کا بیان نظر سے گزرا تو قلم اٹھانے کا خیال آیا۔ وزیر مذہبی امور نے امسال مثالی حج انتظامات کی عازمین حج کو نوید دی ہے۔ مجھے نہیں پتہ وزیر موصوف کی مثالی حج انتظامات سے کیا مراد ہے۔ گزشتہ کئی سال سے سرکاری انتظام میں جانے والے عازمین حج کو عزیزیہ کے قرب و جوار میں ٹھہرایا جاتا ہے، جہاں سے ٹرانسپورٹ کے ذریعے انہیں حرم شریف تک لایا جاتا ہے۔ منیٰ میں خیموں کا انتظام سعودی کمپنیاں کرتی ہیں، ہاں البتہ عازمین حج کے لئے کھانے کا بندوبست جس کمپنی سے کیا جاتا رہا ہے اس کے خلاف غیر معیاری کھانے کی شکایات پر اسے بلیک لسٹ کر دیا گیا تھا، تاہم پتہ چلا ہے آئندہ حج میں کھانے کا کنٹریکٹ پھر اسی کمپنی کے حوالے کیا گیا ہے ۔ سعودی حکومت نے عازمین حج کے لئے مدینہ منورہ جانے کے لئے ٹرین کی سہولت کر دی ہے، مشاعر میں تو پہلے سے ٹرین کی سروس عازمین حج کو فراہم کی جا رہی تھی۔ یہ بات میری سمجھ سے بالاتر ہے وفاقی وزیر مذہبی امور نے مثالی حج انتظامات کا جو دعویٰ کیا ہے اس میں کوئی نئی چیز ہے جو پہلے عازمین حج کو میسر نہیں تھی، جو اب انہیں مہیا کی جائے گی یا پھر ویسے ہی انہوں نے سیاسی بیان داغ دیا ہے۔ گزشتہ کئی برس سے مدینہ منورہ کا بڑا پاکستان ہائوس منہدم ہو چکا ہے، جبکہ دوسرا ہائوس ایک سال پہلے گرا دیا گیا ہے، جو سعودی توسیع منصوبے کی نذر ہو گیا ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی سعودی شرعی عدالت کے پاس دونوں پاکستان ہائوسز کے علاوہ پہلے سے کافی رقم موجود ہے۔ سعودی حکومت نے پاکستان کو مدینہ منورہ میں پاکستان ہائوس کے لئے عمارت خریدنے کی اجازت دے دی ہے۔ مجھے یاد ہے سابق وفاقی سیکرٹری ذوالفقار حیدر نے بتایا تھا سعودی حکومت نے ہائوس خریدنے کی اجازت دے دی ہے۔ ایک عرصہ ہوگیا ہے پاکستان ہائوس کی عمارت کی خریداری کے لئے پیش رفت نہیں ہو سکی ہے، حالانکہ عمارت کی خریداری میں قومی خزانے سے ایک پائی خرچ نہیں ہوگی، تو پھر اس کام میں تاخیر کی وجہ سمجھ سے باہر ہے۔ عزیز یہ میں جن کرایوں پر حجاج کو رہائش دی جاتی ہے ان سے کم کرایوں پر مکہ مکرمہ میں حرم مکی کے توسیع والے علاقے سے باہر مل جاتی ہے۔ چلیں سارے نہ چند ہزار حجاج کو مکہ مکرمہ میں حرم شریف سے ایک ڈیڑھ کلو میٹر کی مسافت پر ٹھہرایا جا سکتا ہے۔1991ء تک عزیزیہ میں ماسوائے ترک اور ایرانی حجاج کے کسی ملک کا کوئی حاجی قیام نہیں کرتا تھا، اب تو گزشتہ کئی برس سے پاکستانی حجاج کو عزیزیہ میں ٹھہرایا جا رہا ہے۔ اگرچہ بھارتی کے حجاج بھی عزیزیہ میں ٹھہرتے ہیں، لیکن ان کے مشن کی خوبی یہ ہے وہ اپنے تمام کے تمام حجاج کو ایک ہی علاقے میں واقع عمارات میں ٹھہراتے ہیں، جبکہ پاکستانی حجاج کو عزیزیہ اور جانے کن کن علاقوں میں عمارات مہیا کی جاتی ہیں۔ حج سیزنل ڈیوٹی کے لئے وزارت مذہبی امور سمیت سرکاری محکموں کے تین سو سے زیادہ ملازمین کو منتخب کر لیا گیا ہے۔ مقامی طور پر کئی سو خدام الحجاج ان کے علاوہ ہوں گے، جنہیں حجاج کے ویلفیر فنڈ سے مشاعرہ ادا کیا جائے گا۔ مجھے یاد ہے ڈائریکٹر حج احمد بخش لہڑی جن کی راست بازی کی لوگ مثالیں دیتے ہیں، ایک روز ہم نے ان سے پوچھ لیا آپ سیزنل ڈیوٹی کے لئے بہت سے سرکاری ملازمین کو دیگر محکموں سے کیوں بلاتے ہیں، ان کا جواب تھا وزارت مذہبی امور کے ملازمین سعودی عرب آنے کے بعد کام نہیں کرتے، جبکہ باہر کے محکموں سے آنے والے ملازمین بہت زیادہ کام کرتے ہیں۔ مکہ مکرمہ میں ایک روز وزارت مذہبی امور کے ایک افسر نے احمد بخش لہڑی سے کہا کل وہ وطن واپس جا رہے ہیں، اگر کوئی غلطی ہوئی ہو تو معاف کر دیں، تو انہوں برجستہ جواب دیا آپ نے کام ہی نہیں کیا، تو غلطی کون سی ؟۔ پاکستان واحد ملک ہے جس کا سعودی عرب میں حج مشن ہے۔ جنرل ضیاء الحق نے چودھری شوکت کو مشکور کرنے کے لئے حج ڈائریکٹوریٹ بنایا تھا جہاں چودھری شوکت برسوں ڈائریکٹر جنرل تعینات رہا۔ ہمسایہ ملک بھارت سے پاکستان سے زیادہ حجاج آتے ہیں، ایک دو قونصلر اپنے حاجیوں کے لئے انتظامات کرتے ہیں، تو پاکستان چند اپنے سفارت کاروں سے حج کا کام کیوں نہیں کرا سکتا۔ معاشی طور پر مقروض ملک کے اربوں ڈالر سالانہ حج مشن پر خرچ ہو رہے ہیں حالانکہ حج کا کام تو سیزنل ہوتا ہے دو چار ماہ میں تمام انتظامات ہو جاتے ہیں۔ حج مشن کا عملہ پورا سال فارغ رہتا ہے ماسوائے دو تین ماہ کے وہاں کوئی کام نہیں ہوتا ۔ ایک موقع پر ڈائریکٹر جنرل اور کوارڈنیشن آفیسیر کی اسامیاں ختم کر دی گئی تھیں۔ جس کے بعد صرف دو ڈائریکٹر حج مکہ اور مدینہ منورہ کی پوسٹ کو رکھا گیا تھا لیکن چند سال بعد ڈائریکٹر جنرل کی اسامی سیاست دانوں کو خوش کرنے کے لئے بحال کر دی گئی۔ جب سے نجی گروپس میں عازمین حج نے جانا شروع کیا ہے کام کو بوجھ ویسے ہی ختم ہو گیا ہے لیکن افسروں کی فوج ظفر موج وقفے وقفے سے سعودی عرب بھیجی جا رہی ہے۔ باقی رہی مثالی حج انتظامات کی بات تو حج کے دوران پتہ لگ جائے گا۔







