ColumnQadir Khan

صدرٹرمپ کی ’’ کوئرسو ڈپلومیسی‘‘

صدر ٹرمپ کی ’’ کوئرسو ڈپلومیسی‘‘

قادر خان یوسف زئی

ابتدائی چند ہفتوں تک واشنگٹن سے ابھرنے والا بیانیہ یہی تاثر دے رہا تھا کہ ایران کی دفاعی صلاحیتیں اور ریڈار کا نظام مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے اور امریکی فضائیہ بلا خوف و خطر ایرانی فضاں میں حکمرانی کر رہی ہے۔ مگر 3اپریل 2026 ء کے زمینی حقائق نے اس بیانیے کو ایک سراب ثابت کر دیا جب ایران کے جنوب مغربی پہاڑی سلسلے میں ایک جدید ترین امریکی ایف۔15 ای سٹرائیک ایگل اور خلیج فارس میں ایک اے۔10 تھنڈربولٹ طیارے کو مار گرایا گیا۔ اس واقعے نے نہ صرف امریکی فضائی برتری کے طلسم کو توڑا بلکہ عالمی سطح پر ان دعوئوں کی قلعی بھی کھول دی کہ ایران کا فضائی دفاعی نظام ختم ہو چکا ہے۔ ایران کی جانب سے خاموشی اور پھر اچانک مہلک وار کرنے کی ’’ شوٹ اینڈ سکوٹ‘‘ حکمت عملی نے ثابت کیا کہ ان کا دفاعی نیٹ ورک بکھرنے کے باوجود زندہ اور انتہائی موثر ہے۔ اس فضائی جھڑپ نے تاریخ کے پیچیدہ ترین اور خطرناک ریسکیو آپریشنز میں سے ایک کو جنم دیا۔ ایف۔15ای طیارے کے پائلٹ کو تو جلد ہی نکال لیا گیا، لیکن دوسرا کریو ممبر، جو کہ ایک امریکی کرنل تھا، ایران کے دشوار گزار زاگرس کے پہاڑوں میں مسلسل دو دن تک ایرانی فورسز کو چکمہ دیتا رہا۔

اس موقع پر ایران نے اسے زندہ پکڑنے کے لیے ریاستی سطح پر ایک منظم مہم کا آغاز کیا، مقامی آبادی کو 60000ڈالر انعام کی پیشکش کی اور پاسدارانِ انقلاب، بسیج ملیشیا اور ریگولر آرمی کو متحرک کر دیا۔ مگر ایک عالمی سطح کا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر دو دن کے طویل وقت، بھاری نفری اور ایک پرکشش انعام کے باوجود ایرانی فورسز اس امریکی پائلٹ کو اپنے ہی ملک کی حدود میں تلاش کرنے میں کیوں ناکام رہیں؟ اس ناکامی کی بنیادی وجہ ایران کے پاس جدید کمانڈ، کنٹرول، کمیونیکیشن اور انٹیلی جنس (C4ISR)کی عدم دستیابی تھی۔ اس کے برعکس، امریکہ نے 24 گھنٹے سیٹلائٹ کی مدد سے پائلٹ کی نگرانی کی اور درجنوں جنگی طیاروں کی مدد سے ایک زبردست فائر پاور کا استعمال کیا۔ امریکی حکام کے مطابق، اس کرنل کو ایک ’’ بھاری اور شدید فائرنگ کے تبادلے‘‘ کے بعد بحفاظت نکالا گیا۔ دوسری جانب، ایران کی مسلح افواج کی سینٹرل کمانڈ خاتم الانبیاء نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے اصفہان کے قریب اس ریسکیو آپریشن کے دوران امریکی ریسکیو ٹیموں پر منظم حملہ کر کے ایک سی۔130 ٹرانسپورٹ طیارہ اور دو بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز مار گرائے ہیں، اور اس واقعے کو 1980ء کے ناکام امریکی آپریشن ’’ ایگل کلا‘‘ ( طبس کے واقعے) سے تشبیہ دے کر نفسیاتی جنگ جیتنے کی کوشش کی۔ امریکی کرنل کا یہ کامیاب مگر خونی ریسکیو آپریشن بظاہر امریکی ٹیکنالوجی کی جیت ہے، لیکن عالمی دفاعی ماہرین کے نزدیک یہ امریکی پالیسی سازوں کے لیے ایک بہت بڑا اور سنگین انتباہ ہے۔ اگر صرف ایک پائلٹ کو بچانے کے لیے امریکہ کو درجنوں طیاروں کی مدد اور زمینی سطح پر اتنی شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے، تو ایک مکمل زمینی جنگ کس قدر تباہ کن ہو سکتی ہے؟۔

پینٹاگون اگر 10000مزید فوجی بھیجنے پر غور کر رہا ہے تو اسے یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ایران کا عسکری نظریہ ہی اس امر پر قائم ہے کہ دشمن کو روایتی جنگ کے بجائے ایک طویل، تھکا دینے والی اور غیر متناسب جنگ میں الجھایا جائے۔ ایرانی فوج کے کمانڈر علی جہانشاہی کے واضح بیان کے مطابق، کوئی بھی زمینی حملہ امریکہ کے لیے ایک ایسی خطرناک غلطی ہو گی جس کی اسے ایک ناقابلِ تلافی قیمت چکانا پڑے گی، اور اس مقصد کے لیے ایران نے ایک ملین رضاکاروں پر مشتمل فوج بھی تیار کر لی ہے۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ زمینی مداخلت کی صورت میں امریکہ کو شدید ترین مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا اور یہ جنگ ایک خونی دلدل میں تبدیل ہو جائے گی۔ جنگی محاذ کے ساتھ ساتھ، سفارتی اور معاشی محاذ پر بھی ایک خطرناک جنگ لڑی جا رہی ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور تیل و گیس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر زبردست دبائو ڈال رکھا ہے۔ اس معاشی خون ریزی کو روکنے کے لیے صدر ٹرمپ نے ایک خطرناک ’’ کوئرسو ڈپلومیسی‘‘ یا جبر پر مبنی سفارت کاری کا سہارا لیا ہے۔ انہوں نے ایران کے توانائی کے انفراسٹرکچر، خاص طور پر پاور پلانٹس، پانی صاف کرنے کے کارخانوں اور تیل کے کنوئوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دیتے ہوئے مختلف ڈیڈ لائنز مقرر کیں اور پھر انہیں موخر کیا۔ حال ہی میں، ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات بہت اچھے جا رہے ہیں اور انہوں نے امریکی حملوں کو 6اپریل 2026ء کی رات 8بجے ( ایسٹرن ٹائم) تک کے لیے موخر کر دیا۔

امریکی ایلچی سٹیو وٹکاف نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ایران کو ایک 15نکاتی امن تجویز پیش کی گئی ہے۔ تاہم، ایرانی قیادت اور ان کی حقیقت پسندی پر مبنی خارجہ پالیسی نے ان دعوئوں کو مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی فلسفے کے مطابق وہ امریکی وعدوں یا کاغذی معاہدوں پر اعتبار کرنے کے بجائے عملی ڈیٹرنس اور اپنی زمینی طاقت کو ہی اپنی بقا کا ضامن سمجھتے ہیں۔ زمینی حقائق، سیاسی بیانیے اور حالیہ واقعات کا بغور تجزیہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ سفارت کاری کا وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ ایک جانب ٹرمپ کا غیر متوقع رویہ اور ماضی میں ڈیڈلائنز کو آگے بڑھانے کی روایت اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ وہ عالمی معاشی تباہی سے بچنے کے لیے پسِ پردہ مذاکرات کو مزید وقت دے سکتے ہیں۔ مگر دوسری جانب، 3اور 4اپریل کے واقعات، خصوصاً ایف۔15ای طیارے کی تباہی، پائلٹ کو بچانے میں درپیش شدید مزاحمت، اور ایران کی نفسیاتی بیانیے کی جنگ نے امریکی حکومت پر بے پناہ دبا ڈال دیا ہے۔ ٹرمپ نے حال ہی میں اپنے سوشل میڈیا پر ایک تازہ 48گھنٹے کا الٹی میٹم جاری کرتے ہوئے واضح کیا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز نہ کھولی تو ان پر ’’ جہنم کی آگ برسا دی جائے گی‘‘۔

طاقت کے اس اندھے کھیل میں جب ایک طاقتور ملک کی ساکھ کو عالمی سطح پر اس طرح چیلنج کیا جاتا ہے، تو وہ اپنی بالادستی قائم کرنے کے لیے آخری حد تک جانے سے گریز نہیں کرتا۔ اس لیے، اس امر کا قوی امکان موجود ہے کہ 6اپریل کی ڈیڈ لائن کے اختتام پر، یا اس کے فوراً بعد، امریکی صدر اپنے بیانیے اور ساکھ کو بچانے کے لیے ڈیڈلائن میں مزید توسیع کے بجائے ایرانی انفراسٹرکچر پر اپنے تباہ کن حملوں کی دھمکیوں کو عملی جامہ پہنا سکتے ہیں اور اگر ایسا ہوا، تو یہ خطے کو ایک ایسی جنگ کی طرف دھکیل دے گا جس کی قیمت پوری دنیا کو دہائیوں تک چکانا پڑے گی۔

جواب دیں

Back to top button