
باب المندب آبنائے یمن کے شمال مشرق اور افریقی ممالک جبوتی اور اریٹیریا کے جنوب مغرب کے درمیان واقع ہے۔
یہ بحیرۂ احمر کو خلیجِ عدن سے ملاتی ہے، جو آگے چل کر بحرِ ہند میں شامل ہو جاتی ہے، اس کی چوڑائی کم ترین مقام پر صرف 29 کلومیٹر ہے، جس کے باعث بحری آمدورفت محدود راستوں تک رہتی ہے، اس علاقے پر ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروہ کا مؤثر کنٹرول سمجھا جاتا ہے۔
توانائی کی تجارت میں باب المندب کی اہمیت
باب المندب دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک ہے، اس کے ذریعے سعودی عرب اپنا تیل ایشیائی منڈیوں تک پہنچاتا ہے، جبکہ دیگر خلیجی ممالک بھی اسی راستے سے سویز کینال یا مصر کے سمندری پائپ لائن سسٹم کے ذریعے یورپ کو تیل اور گیس برآمد کرتے ہیں۔
2024ء میں تقریباً 4.1 ارب بیرل تیل اور پیٹرولیم مصنوعات اس راستے سے گزریں، جو عالمی مجموعے کا تقریباً 5 فیصد بنتا ہے، اگر باب المندب اور آبنائے ہرمز دونوں بند ہو جائیں تو دنیا کی تقریباً 25 فیصد تیل و گیس کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔
یہ صرف تیل تک محدود نہیں دنیا کی تقریباً 10 فیصد تجارت بھی اسی راستے سے گزرتی ہے، جس میں چین، بھارت اور دیگر ایشیائی ممالک سے یورپ جانے والا سامان شامل ہے۔
باب المندب کی ممکنہ بندش کیسے ہو سکتی ہے؟
یمن میں سرگرم حوثی گروہ ماضی میں یہ صلاحیت دکھا چکا ہے، غزہ میں اسرائیلی جنگ کے دوران انہوں نے اسرائیل یا امریکا سے منسلک جہازوں کو نشانہ بنا کر اس راستے کو مؤثر طور پر محدود کر دیا تھا، جس کے باعث بحری انشورنس کمپنیوں نے کوریج کم کر دی تھی اور ٹریفک میں بھی کمی آئی تھی۔
حالیہ دنوں میں حوثیوں نے اسرائیل پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ تنازع میں فعال کردار ادا کر سکتے ہیں۔
سابق امریکی سفارت کار نبیل خوری کے مطابق اگر حوثی مکمل طور پر جنگ میں شامل ہونا چاہیں تو باب المندب کی بندش ان کا سب سے مؤثر ہتھیار ہو سکتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر وہ چند جہازوں کو نشانہ بنائیں تو پورے بحیرۂ احمر میں تجارتی سرگرمیاں رک سکتی ہیں، جو ایک خطرناک حد عبور کرنے کے مترادف ہو گا۔
عالمی تجارت پر اثرات
مشرقِ وسطیٰ کی ماہر اور کیمبرج یونیورسٹی کے گرٹن کالج کی صدر ایلزبتھ کینڈل کے مطابق اگر یہ راستہ بند ہو گیا تو یہ بدترین منظر نامہ ثابت ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں متاثر ہوتے ہیں تو یورپ کی جانب جانے والی تجارت شدید متاثر بلکہ مفلوج ہو سکتی ہے، تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ حوثی گروہ ممکنہ طور پر ایسا قدم اٹھانے سے گریز کرے گا کیونکہ اس سے سعودی عرب یا دیگر طاقتوں کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آ سکتا ہے۔






