تازہ ترینخبریںدنیاسیاسیاتپاکستان

ایران نے ثالثی کے جواب میں جنگ کے خاتمے کا مسودہ تیار کر لیا: سرکاری میڈیا

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکہ، اسرائیل جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثوں کی کوششوں کے جواب میں ایران نے اپنا مسودہ تیار کر لیا ہے۔

یہ بیان خبر رساں ادارے روئٹرز کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں نام ظاہر نہ کرنے والے ذرائع کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ پاکستان اس تنازع کے خاتمے کے لیے نئے منصوبے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرنا کے مطابق اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ثالثوں کے ذریعے بھیجا گیا 15 نکاتی منصوبہ ’ہماری نظر میں کسی بھی طرح قابلِ قبول نہیں‘۔

انھوں نے مزید کہا کہ جنگ ختم کرنے کے لیے مذاکرات ’الٹی میٹمز اور جنگی جرائم کی دھمکیوں‘ کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتے۔ یہ بات انھوں نے ٹرمپ کی اس انتباہ کے تناظر میں کہی کہ اگر آبنائے ہرمز دوبارہ نہ کھولی گئی تو امریکہ ایران کے شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنائے گا۔

ترجمان نے کہا کہ ایران نے اس کے بجائے اپنے مفادات اور ضروریات کی بنیاد پر مطالبات کا ایک سیٹ تیار کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ہم شروع سے جانتے تھے کہ ہمیں کیا چاہیے اور کون سی سرخ لکیریں ہم پار نہیں کریں گے۔ ہماری پوزیشن آج بھی واضح ہے۔ جیسے ہی یہ بات چیت شروع ہوئی، ہمارے جوابات تیار تھے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ایران نے اپنے جوابات مکمل طور پر تیار کر لیے ہیں اور ’مناسب وقت پر تفصیلات کا اعلان کیا جائے گا‘۔

امریکی اور برطانوی خبر رساں ادارے رپورٹ کر رہے ہیں کہ امریکہ اور ایران کو 45 روز کے لیے جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق تجاویز پر مشتمل مسودہ موصول ہو گیا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق دو ذرائع نے اسے بتایا ہے کہ پاکستان، مصر اور ترکی کی جانب سے مختلف تجاویز پر مشتمل یہ مسودہ تیار کیا گیا ہے جو کئی روز سے جنگ بندی کی کوششیں کر رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے ’روئٹرز‘ کے مطابق پاکستان فوج کے فیلڈ مارشل عاصم منیر اتوار کی شب رات بھر ان تجاویز کے معاملے پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور سٹیو وٹکوف کے ساتھ رابطے میں رہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ مسودہ اتوار کی شب ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکی صدر کے ایلچی سٹیو وٹکوف کو بھجوایا گیا، تاہم دونوں کی جانب سے تاحال اس پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق ان ممالک کو اُمید ہے کہ 45 روزہ جنگ بندی کے دوران بات چیت کے بعد اس جنگ کے مستقل خاتمے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل تک آبنائے ہرمز نہ کھولنے کی صورت میں ایران پر جہنم برپا کرنے کی دھمکی دے رکھی ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر ایران نے ایسا نہ کیا تو اس کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔

جواب دیں

Back to top button