
ایران سے منسوب ایک نئی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس میں ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو پہلی بار فوجی آپریشن روم کی جانب جاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
وائرل دعووں کے مطابق ویڈیو میں ایک بڑے اسکرین پر اسرائیل کے جوہری مرکز Dimona Nuclear Reactor(ڈیمونا نیوکلیئر ری ایکٹر) کی تصویر دکھائی گئی ہے، جس میں مبینہ طور پر اس مقام کے کوآرڈینیٹس بھی ظاہر کیے گئے ہیں۔
سوشل میڈیا پر اس ویڈیو کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں خاصی توجہ مل رہی ہے، جبکہ بعض صارفین اسے اسرائیل کے لیے ایک واضح پیغام قرار دے رہے ہیں۔
تاہم اس ویڈیو کی آزاد ذرائع سے تصدیق تاحال نہیں ہو سکی ہے، اور کسی مستند ایرانی سرکاری ادارے یا عالمی خبر رساں ایجنسی کی جانب سے اس کی باقاعدہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ویڈیو کے بعض مناظر غیر معمولی دکھائی دیتے ہیں، جس کے باعث اس کے مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار یا ایڈٹ ہونے کے امکانات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
یہ ویڈیو ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی پہلے ہی عروج پر ہے، جس کے باعث اس قسم کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل رہی ہیں اور مختلف قیاس آرائیوں کو جنم دے رہی ہیں۔







