کائنات میں بکھری آوازیں
کائنات میں بکھری آوازیں
تحریر: صفدر علی حیدری
آواز، وہ جادو کا سا وجود ہے جو لمحے بھر کے لیے انسانی شعور کے دریچوں میں روشنی کی مانند پھوٹتی ہے۔ ہم اسے محض الفاظ کا مجموعہ، موسیقی کے سر یا شور کی ایک عارضی لہر سمجھتے ہیں، مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ، گہری اور حیران کن ہے۔ آواز دراصل ایک ایسی توانائی ہے جو محض کان تک محدود نہیں رہتی بلکہ مادے، وقت اور کائنات کے ساتھ ایک نہ ختم ہونے والے ربط میں جڑی ہوئی ہے۔ جب کوئی انسان بولتا ہے، ہنستا ہے، روتا ہے یا گاتا ہے، تو اس کے صوتی تاروں سے پیدا ہونے والی لہریں فضا میں موجود مالیکیولز کو تھرتھراتی ہیں۔ یہ ارتعاش ایک زنجیر کی مانند آگے بڑھتا ہے، ایک ذرہ دوسرے کو، دوسرا تیسرے کو، یہاں تک کہ یہ لہریں اپنے گرد موجود ہر شے کو کسی نہ کسی درجے میں متاثر کر دیتی ہیں۔
ابتدا میں یہ آوازیں واضح، طاقتور اور قابلِ سماعت ہوتی ہیں۔ وہ فضا کو اپنی گونج سے بھر دیتی ہیں، دیواروں سے ٹکراتی ہیں، اشیاء سے لپٹتی ہیں اور لمحے بھر کے لیے ایک زندہ تجربہ بن جاتی ہیں۔ مگر جیسے جیسے وقت گزرتا ہے اور فاصلہ بڑھتا ہے، یہ لہریں مدھم پڑتی جاتی ہیں، یہاں تک کہ انسانی سماعت کی حد سے باہر ہو جاتی ہیں۔ مگر سوال یہ ہے، کیا سنائی نہ دینا واقعی ختم ہو جانا ہے؟ یا یہ صرف ہماری حس کی کمزوری ہے کہ ہم اسے مزید محسوس نہیں کر پاتے؟ سائنسی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو توانائی کے بارے میں ایک بنیادی اصول ہمیں یہ بتاتا ہے کہ توانائی فنا نہیں ہوتی بلکہ اپنی شکل بدلتی رہتی ہے۔ اسی اصول کی روشنی میں بعض سائنس دان یہ خیال پیش کرتے ہیں کہ آواز کی لہریں، اگرچہ اپنی اصل صورت میں برقرار نہیں رہتیں، مگر ان کے اثرات اور ارتعاش کسی نہ کسی شکل میں مادے کے اندر سرایت کر جاتے ہیں۔ یوں یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ آواز ’’ غائب‘‘ نہیں ہوتی بلکہ "’’ تبدیل‘‘ ہو جاتی ہے، اپنی ایک صورت سے دوسری صورت میں، ایک سطح سے دوسری سطح میں، ایک جہت سے دوسری جہت میں منتقل ہو جاتی ہے۔
یہی تصور ہمیں ایک نہایت دلچسپ اور پُراسرار خیال کی طرف لے جاتا ہے: کیا ماضی کی آوازیں واقعی کہیں موجود ہیں؟ کیا وہ صدائیں، وہ قہقہے، وہ سسکیاں اور وہ دعائیں جو صدیوں پہلے فضا میں بکھری تھیں، کسی نہ کسی صورت میں آج بھی کائنات کے کسی گوشے میں محفوظ ہیں؟ اگر ایسا ہے، تو کیا کبھی ایسا ممکن ہوگا کہ ہم ان بکھری ہوئی لہروں کو دوبارہ مجتمع کر کے ماضی کی آوازوں کو سن سکیں؟
آثارِ قدیمہ کے بعض مفکرین اور سائنسی تخیل رکھنے والے محققین اس خیال پر غور کرتے رہے ہیں کہ قدیم اشیائ، خصوصاً وہ جو نرم یا نیم لچکدار حالت میں انسانی لمس اور آواز کے زیرِ اثر رہی ہوں، اپنے اندر ان ارتعاشات کے نقوش محفوظ کر سکتی ہیں۔ ایک کمہار جب چاک پر مٹی کو گھما رہا ہوتا ہے، اور اس کے گرد لوگ باتیں کر رہے ہوتے ہیں، تو ان کی آوازوں کی لہریں اس نرم مٹی پر نہایت باریک سطح پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ اگر مستقبل میں ایسی ٹیکنالوجی وجود میں آ جائے جو ان مائیکرو سکوپک ارتعاشات کو پڑھ سکے، تو شاید ہم ان خاموش اشیاء سے ماضی کی سرگوشیاں برآمد کر سکیں۔ یہ خیال ابھی سائنسی حقیقت سے زیادہ ایک تخلیقی امکان ہے، مگر اس کی بنیاد مکمل طور پر غیر منطقی بھی نہیں۔
جدید سائنس میں ’’ ویژول مائیکرو فون‘‘ جیسی ٹیکنالوجی نے اس تصور کو ایک حد تک عملی شکل دی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے سائنس دانوں نے یہ دکھایا ہے کہ کسی خاموش ویڈیو میں موجود اشیائ، جیسے کسی چپس کے پیکٹ کا ہلکا سا لرزنا یا کسی پودے کے پتے کی معمولی جنبش، درحقیقت اس ماحول میں موجود آواز کی لہروں کا ردِعمل ہوتی ہیں۔ ان باریک حرکات کو ڈیجیٹل طریقوں سے تجزیہ کر کے دوبارہ آواز میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ گویا روشنی، حرکت اور آواز ایک دوسرے سے اس قدر جڑی ہوئی ہیں کہ ایک کی مدد سے دوسرے کو دریافت کیا جا سکتا ہے۔
یہاں سے بات مزید آگے بڑھتی ہے، کائنات کی اُس حالت کی طرف جسے ہم ’’ پلازما‘‘ کہتے ہیں۔ پلازما مادے کی وہ حالت ہے جس میں ذرات انتہائی توانائی کے حامل ہوتے ہیں اور آزادانہ طور پر حرکت کرتے ہیں۔ کائنات کا ایک بڑا حصہ اسی حالت میں موجود ہے، ستاروں، کہکشاں اور بین النجمی خلا میں۔ اگر ہم تخلیقی انداز میں سوچیں، تو پلازما کو ایک ایسے غیر مرئی سمندر کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے جہاں توانائی کی مختلف صورتیں، بشمول صوتی ارتعاشات کے اثرات، کسی نہ کسی سطح پر محفوظ ہو سکتی ہیں۔ یہ تصور خالص سائنسی دعویٰ نہیں بلکہ ایک فکری و تخیلاتی توسیع ہے، مگر یہ ہمیں اس خیال کے قریب ضرور لے جاتا ہے کہ کائنات محض خاموش خلا نہیں بلکہ ایک زندہ، حساس اور یاد رکھنے والی ساخت ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں سائنس، فلسفہ اور روحانیت ایک دوسرے کے قریب آ جاتے ہیں۔ جب ہم یہ تصور کرتے ہیں کہ کوئی بھی عمل، کوئی بھی لفظ، کوئی بھی آواز مکمل طور پر ضائع نہیں ہوتی بلکہ کسی نہ کسی صورت میں کائنات میں محفوظ رہتی ہے، تو یہ خیال ہمیں مذہبی تعلیمات کی یاد دلاتا ہے، جہاں ہر عمل کے ریکارڈ ہونے، ہر لفظ کے لکھے جانے اور ہر حرکت کے محفوظ رہنے کی بات کی جاتی ہے۔ اگر ہم اسے سادہ الفاظ میں کہیں، تو سائنس اسے ’’ ڈیٹا‘‘ کہتی ہے، فلسفہ اسے ’’ اثر‘‘ کہتا ہے، اور مذہب اسے ’’ اعمال نامہ‘‘ قرار دیتا ہے۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ کائنات کا ہر ذرہ ایک گواہ ہے، ایک خاموش مگر بیدار گواہ، جو ہر لمحہ، ہر آواز، ہر لمس اور ہر خیال کو اپنے اندر جذب کرتا جا رہا ہے۔ زمین، دیواریں، ہوا، پانی، سب ایک ایسی غیر مرئی ریکارڈنگ کا حصہ ہیں جو کبھی رُکتی نہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بعض مقامات پر جا کر انسان کو ایک عجیب سی کیفیت محسوس ہوتی ہے، جیسے وہاں کی فضا میں کوئی ان دیکھی کہانی معلق ہو، جیسے دیواریں کچھ کہنا چاہتی ہوں، جیسے خاموشی بھی بول رہی ہو۔
ادب کے لیے یہ تصور ایک بے حد زرخیز زمین فراہم کرتا ہے۔ ایک افسانہ نگار جب ماضی کے کسی لمحے کو لفظوں میں قید کرتا ہے، تو وہ دراصل ان بکھری ہوئی آوازوں کو دوبارہ زندگی دے رہا ہوتا ہے۔ وہ سننے کی ایک نئی صلاحیت پیدا کرتا ہے، ایسی سماعت جو کانوں سے نہیں بلکہ دل اور شعور سے وابستہ ہوتی ہے۔ تخلیق کار کائنات کی اسی خاموش گونج کو محسوس کرتا ہے اور اسے لفظوں، استعاروں اور علامتوں میں ڈھال دیتا ہے۔ یوں ادب بھی ایک طرح کا ’’ ڈیٹا ریٹریول‘‘ بن جاتا ہے، مگر روحانی اور تخیلاتی سطح پر۔
ماضی کبھی مرتا نہیں، وہ صرف تہہ در تہہ چھپ جاتا ہے۔ ہر آواز، ہر سانس، ہر پکار، سب کہیں نہ کہیں موجود رہتی ہیں۔ شاید ہم انہیں سن نہیں پاتے، مگر وہ ہمیں چھوڑتی بھی نہیں۔ وہ ہمارے اردگرد، ہمارے اندر، اور ہمارے وجود کی گہرائیوں میں کسی نہ کسی صورت میں زندہ رہتی ہیں۔
اب آخر میں ایک علامتی افسانہ پیش خدمت ہے۔۔۔
خاموشی
وہ سنا کرتا تھا کہ آوازیں مر جاتی ہیں، مگر اسے کبھی یقین نہ آیا۔
اس کے لیے آوازیں محض ہوا کی لرزش نہیں، بلکہ روحوں کا وہ لمس تھیں جو وقت کی قید سے آزاد ہوتا ہے۔
اسے یقین تھا کہ آوازیں مرتی نہیں، بس وقت کی تہوں میں دب کر کائنات کا حصہ بن جاتی ہیں۔
ہر شام وہ اسی پرانے، نیم تاریک کمرے میں آ بیٹھتا، وہ کمرہ جہاں کبھی قہقہوں کی فصل اگی تھی، جہاں لفظ دل میں اتر کر خوشبو بن جاتے تھے، اور جہاں ایک مدھر آواز نے اسے آخری بار ’’ سنو‘‘ کہہ کر پکارا تھا۔
وہ آنکھیں موند لیتا، سانسیں روکتا، اور وقت کے پار اس خاموشی کو سننے کی کوشش کرتا۔
یہ خاموشی بے رحم تھی، مگر خالی نہیں۔
اسے محسوس ہوتا کہ دیواریں محض اینٹ اور گارے کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک زندہ حافظہ ہیں، جنہوں نے ہر ہنسی اور ہر آنسو کو اپنے اندر جذب کر لیا ہے۔
ایک دن، ایک عجیب سی شدت کے ساتھ، اس نے دیوار پر کان رکھ دیا۔
پہلے صرف ایک سرد، گہری خاموشی تھی۔
مگر وہ ہٹا نہیں۔
وقت جیسے ٹھہر گیا۔
پھر، ایک بہت باریک سی جنبش۔
اتنی ہلکی کہ شاید وہم ہو، مگر اتنی سچی کہ انکار ممکن نہ تھا۔
اس کے چہرے پر دھیمی سی مسکراہٹ پھیل گئی۔
’’ تم نے بلایا تھا نا؟‘‘، کمرہ خاموش رہا۔
وہ وہیں ٹھہرا رہا، بہت دیر تک۔
پھر آہستہ سے اس کا جسم نیچے ڈھلک گیا۔
چاند کی مدھم روشنی اس کے چہرے پر ٹھہر گئی، اور اس کی مسکراہٹ بھی وہیں ٹھہر گئی۔
کمرہ خاموش تھا، مگر
اس بار خاموشی ویسی نہیں تھی۔
صفدر علی حیدری
صفدر علی حیدری





