امن کا راستہ مذاکرات

امن کا راستہ مذاکرات
عالمی منظرنامے میں خطے کی موجودہ کشیدگی پوری دنیا کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے حالیہ بیان نے اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ ایران کی ترجیح جنگ کے نتیجہ خیز اور دیرپا خاتمے کے لیے مذاکراتی راستہ ہے اور وہ ایسے حل میں دلچسپی رکھتا ہے جو مکمل اور پائیدار امن کو یقینی بنائے۔ یہ بیانات نہ صرف خطے کے لیے امید کی کرن ہیں بلکہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کی کامیابی کے بھی مظہر ہیں۔ ایران نے واضح کیا کہ وہ پاکستان کی کوششوں کی قدر کرتا ہے اور مذاکرات کے لیے اسلام آباد جانے سے کبھی انکار نہیں کیا۔ اس بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اپنی خارجہ پالیسی میں تعمیری کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے اور خطے میں جنگ کے امکانات کو کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کی حمایت کرتا ہے۔ عالمی میڈیا میں ایران کے موقف کی غلط تشریح کے باوجود، ایران کی طرف سے یہ موقف پیش کرنا کہ وہ ایک ایسے حل کی تلاش میں ہے جو جنگ کے مکمل اور پائیدار خاتمے کی ضمانت دے، ایک مثبت قدم ہے۔ خطے میں امن کی ضرورت آج ہر ملک کے لیے ازحد اہم ہے۔ ایران کے بوشہر جوہری پلانٹ کے قریب حالیہ امریکی و اسرائیلی حملے اور اس کے ممکنہ اثرات، نہ صرف ایران بلکہ خلیجی ممالک اور دنیا کے دیگر حصوں کے لیے بھی خطرے کا باعث بن سکتے ہیں۔ تابکاری کے ممکنہ اخراج کے عالمی سطح پر نتائج تباہ کن ہوسکتے ہیں اور یہ حقیقت خطے میں فوری سفارتی کارروائی کی ضرورت کو واضح کرتی ہے۔ پاکستان، بحیثیت ایک پڑوسی اور ذمے دار ملک ہے، اس نے اس صورت حال میں بہتری کے لیے بے حد اہم کردار ادا کیا ہے۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا شکریہ ادا کیا اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی مسلسل کوششوں کو اجاگر کیا۔ یہی وہ لمحہ ہے جب پاکستان اور ایران کے مابین تعلقات کی اہمیت اور ضرورت دونوں واضح ہوتی ہیں۔ خطے کی سلامتی اور عالمی امن کے لیے یہ ضروری ہے کہ امریکا ایران اختلافات کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کریں۔ ایران اور پاکستان کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی روابط موجود ہیں اور یہ تعلقات خطے میں امن کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں پائیدار امن کی کوششوں کو سراہا اور اسی اصول کے تحت پاک، چین پانچ نکاتی امن اقدام پیش کیا، جس میں مذاکرات، کشیدگی میں کمی اور خطے میں استحکام کے لیے اقدامات شامل ہیں۔ پاکستان اور بحرین کے درمیان حالیہ ٹیلی فونک رابطے میں بھی اس بات پر زور دیا گیا کہ امریکا و ایران مذاکرات اور ڈائیلاگ ہی خطے میں کشیدگی ختم کرنے اور مسائل کے پائیدار حل کے لیے سب سے موثر طریقہ ہے۔ یہ اقدامات نہ صرف خلیجی خطے میں امن کے لیے مثبت ہیں بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی مثال ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے نتائج صرف سیاسی نہیں بلکہ انسانی اور اقتصادی طور پر بھی تباہ کن ہوسکتے ہیں۔ ایران کے بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ پر میزائل حملے اور تابکاری کے خطرات اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو نہ صرف ایران بلکہ خطے کے دیگر ممالک بھی سنگین خطرات سے دوچار ہوسکتے ہیں۔ ایسے میں پاکستان کی سفارتی کوششیں، مذاکرات کی حمایت اور خطے میں تعمیری کردار کلیدی اہمیت رکھتے ہیں۔ عالمی منظرنامے میں بھی ایران اور پاکستان کے کردار کی اہمیت کم نہیں کی جا سکتی۔ خطے میں امن پورے مشرق وسطیٰ اور خلیجی ممالک کے لیے ضروری ہے۔ اس دوران عالمی طاقتوں کی جانب سے کشیدگی کو بڑھانے کی کوششیں خطرناک ہو سکتی ہیں۔ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ماضی میں ایران کی تنصیبات پر حملے، ایران کے جوابی اقدامات اور خطے میں بڑھتی ہوئی بے چینی نے یہ واضح کر دیا ہے کہ فوجی حل یا جارحیت کسی بھی مسئلے کا حل نہیں بلکہ مذاکرات، بات چیت اور سفارتی طرز عمل ہی دیرپا امن کا ذریعہ ہو سکتا ہے۔ خطے کے عوام اس کشیدگی کے براہ راست اثرات سے دوچار ہیں۔ بجلی، پانی، اقتصادی سرگرمیاں اور روزمرہ کی زندگی متاثر ہوتی ہے۔ ایسے میں ضرورت ہے کہ امریکا و ایران اپنے عوام کے تحفظ اور مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے تعمیری مذاکرات کو ترجیح دیں۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے بیانات میں یہ واضح ہے کہ ایران بھی ایک ایسا حل چاہتا ہے جو خطے میں پائیدار امن، اقتصادی ترقی اور عوامی تحفظ کو یقینی بنائے۔ پاکستان کا تاریخی کردار ہمیشہ امن کے فروغ میں پیش پیش رہا ہے۔ چاہے وہ افغانستان میں امن عمل ہو، خلیجی بحرانوں میں ثالثی ہو یا خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششیں، پاکستان نے ہر موقع پر تعمیری کردار ادا کیا ہے۔ موجودہ صورتحال میں پاکستان کو چاہیے کہ وہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی کاوشیں جاری رکھے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے فعال کردار ادا کرے۔ خطے میں جنگ کے خطرات اور تابکاری جیسے سنگین مسائل کے پیش نظر عالمی برادری بھی ذمے داری ادا کرے۔ اقوام متحدہ، عالمی توانائی ایجنسی اور دیگر بین الاقوامی اداروں کو چاہیے کہ ایران امریکا میں مذاکرات کے عمل کو سہارا دیں تاکہ ایک دیرپا اور مکمل حل نکالا جا سکے۔ یہ عمل پورے مشرق وسطیٰ اور دنیا کے لیے امن اور استحکام کا ضامن بن سکتا ہے۔ ایران جنگ کے فریقین کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ امن کی راہ کی جانب قدم بڑھائیں، کشیدگی کو کم کریں اور خطے میں تعمیری کردار ادا کریں۔ کیونکہ آج کی دنیا کو سب سے زیادہ امن، تعاون اور باہمی افہام و تفہیم کی ضرورت ہے۔
مضبوط بحری دفاع، محفوظ پاکستان
پی این ایس خیبر کی پاک بحریہ میں شمولیت، قومی سلامتی اور خطے میں تزویراتی توازن کے لیے نہایت اہم قدم ہے۔ نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف اور وزیراعظم شہباز شریف کے بیانات اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ موجودہ عالمی اور علاقائی حالات میں ایک مضبوط، جدید اور متوازن بحریہ وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔ پاکستان کا جغرافیائی محلِ وقوع اسے عالمی تجارت اور توانائی کی گزرگاہوں کا اہم مرکز بناتا ہے۔ ایسے میں سمندری حدود اور بحری راستوں کا تحفظ نہ صرف قومی مفاد بلکہ معاشی استحکام کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاک بحریہ کو جدید ٹیکنالوجی، جدید جنگی پلیٹ فارمز اور موثر حکمت عملی سے لیس کیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا بروقت اور موثر جواب دیا جا سکے۔ پی این ایس خیبر جیسے جدید جنگی جہاز اور مستقبل میں شامل ہونے والی ہنگور کلاس آبدوزیں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ پاکستان اپنی بحری قوت کو جدید خطوط پر استوار کر رہا ہے۔ یہ نہ صرف دفاعی صلاحیت میں اضافہ کریں گی بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کریں گی۔ نیول چیف کی جانب سے ’’ معرکہ حق‘‘ کے دوران پاک بحریہ کی تیاری اور پیشہ ورانہ مہارت کا ذکر اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان کسی بھی جارحیت کے خلاف مکمل طور پر تیار ہے۔ تاہم، ایک مضبوط دفاعی نظام کا مقصد جنگ نہیں بلکہ امن کا قیام ہوتا ہے۔ پاکستان کی پالیسی ہمیشہ سے دفاعی رہی ہے اور وہ خطے میں امن، استحکام اور تعاون کا خواہاں ہے۔ ایک مضبوط بحریہ دشمن کو جارحیت سے باز رکھنے کا ذریعہ بنتی ہے اور سفارتی سطح پر بھی ملک کی پوزیشن کو مستحکم کرتی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کا یہ عزم کہ حکومت پاک بحریہ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے پرعزم ہے، ایک مثبت اشارہ ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف دفاعی میدان میں بلکہ قومی اعتماد اور خودمختاری کے احساس کو بھی تقویت دیتی ہے۔ آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ ایک مضبوط بحری دفاع، محفوظ سرحدوں اور مستحکم معیشت کی ضمانت ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید بہتر بناتے ہوئے امن، استحکام اور علاقائی تعاون کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے۔





