Column

ذوالفقار علی بھٹو شہید جرأت کا نشان

ذوالفقار علی بھٹو شہید جرأت کا نشان

تحریر: ملک فیصل منیر

ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کے المناک واقعہ کو 47سال گزر گئے۔ لیکن جو لوگ اپنے وجود سے تاریخ رقم کر تے ہیں وہ ہمیشہ زندہ و تابندہ رہتے ہیں۔ کل بھی بھٹو زندہ تھا آج بھی بھٹو زندہ ہے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کی برسی ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ جمہوری جدوجہد کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ وہ اپنی جان دے کر بھی امر ہوگئے اور آج بھی ان کے چاہنے والے ان کے نظریے پر یقین رکھتے ہیں۔ بھٹو ایک شخصیت کا نہیں، بلکہ ایک سوچ، ایک وژن اور ایک انقلاب کا نام ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو شہید کا شمار ان شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے پاکستان کی سیاست کو ایک نئی جہت دی۔

ذوالفقار علی بھٹو نے 1967ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی اور روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ دے کر عوامی سیاست کا آغاز کیا۔ 1970ء کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی مغربی پاکستان میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔1972 ء کا شملہ معاہدہ اور اس کے نتیجے میں جنگی قیدیوں کی باعزت رہائی۔ ان کا لازوال کارنامہ 1973ء کے آئین کی تشکیل ہے جس کی بدولت وفاق اور صوبوں کے درمیان تعلقات کی بنیاد فراہم کی گئی۔ وہ اسلامی ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر لانے میں کامیاب ہوئے اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھ کر ملک کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

پاکستان کی تاریخ کے پہلے جمہوری منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو شہید، جنہیں دنیا بھر میں ایک کرشماتی رہنما مانا جاتا ہے۔ بھٹو کی سیاست سماجی جمہوریت، مساوات اور سماجی انصاف کی جدوجہد پر مبنی تھی وہ قائد عوام تھے اور قائد عوام رہیں گے وہ آج بھی لوگوں کے دلوں میں اپنے کارناموں، پاکستان میں متعارف کرائی گئی جدید اصلاحات دنیا بھر کے ساتھ بہتر روابط قائم کرنے کی لئے کامیاب سفارت کاری کی صورت وہ آج بھی زندہ ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کی کامیاب خارجہ پالیسی اور سفارت کاری تھی جس کے نتیجے میں بھارت سے شملہ معاہدہ کر کے پائیدار امن کی بنیاد رکھی اور ہزاروں مربع میل رقبہ اور جنگی قیدیوں کو بھارت سے چھڑایا۔ بھٹو کے دور میں پسے ہوئے طبقات کے حقوق کے لیے کئی اقدامات کیے گئے۔ بھٹو نے 1972ء میں لینڈ ریفارمز متعارف کرائیں۔ بچوں کے لیے تعلیمی سہولیات، طبی نگہداشت، رہائش، ورکرز ویلفیئر فنڈز، رہائش کے اخراجات کی ایڈجسٹمنٹ اور بڑھاپے کی پنشن، لیبر کورٹس کا قیام وغیرہ جیسے اہم معاملات کو باقاعدہ حل کیا۔

وزیراعظم بھٹو شہید کا عہد حکومت 20دسمبر1971 ء سے 4جولائی 1977ء تک محیط تھا۔4 اپریل 1979ء کو انہیں راولپنڈی کی جیل میں پھانسی دے دی گئی، مخالفین کی لاکھ کوششوں کے بعد بھی ان کی موت کے ساتھ ان کے نظریہ کو ختم نہ کیا جا سکا، آج 47سال گزر جانے کے باوجود، بھٹو کا نام پاکستان کی سیاست میں ایک اہم حوالہ ہے۔ ان کے دئیے ہوئے نظریات آج بھی پیپلز پارٹی اور اس کے کارکنوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ بھٹو آج بھی تاریخ کے سینے اور عوام کے دلوں میں زندہ ہے۔ اس پارٹی کا عملی تجربہ ناصرف افکار بلکہ عملیت پسندی کی ضمانت بنا۔ یہ جماعت بانی چیئر مین کی شہادت ، شریک چیئر مین محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت اور سیکڑوں نوجوان کارکنوں کی شہادت کا اثاثہ ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کل بھی ملک اور عوام کی خدمت کے حوالے سے معروف اور دیگر جماعتوں سے ممتاز تھی اور آج بھی ہے جس کی زندہ مثال آصف علی زرداری کا صدر مملکت، بلاول بھٹو زرداری کا قومی اور بین الاقوامی سطر پر ایک مدبر لیڈر ہونا جبکہ محترمہ آصفہ بھٹو کا قومی اسمبلی میں بطور رکن موجود اور خاتون اول کا اعزاز پانا، بھٹو کے زندہ ہونے کی دلیل نہیں تو اور کیا ہے۔ تاریخ کا ایک سچ یہ بھی ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کو 47سال گزر جانے کے بعد بھی ان کی مقبولیت میں کمی نہیں آئی۔ پاکستان میں جمہوریت بھٹو شہید کے لہو سے سینچی گئی ہے، بھٹو آج بھی پاکستانیوں کے دلوں کا حکمران ہے۔ پیپلز پارٹی کے بانی، سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو شہید کی برسی ہر سال انتہائی عقیدت و احترام سے پاکستان سمیت دنیا بھر منائی جاتی ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو کے بعد ان کی سیاسی فکر کو ان کی بیٹی بینظیر بھٹو نے آگے بڑھایا اور ان کی شہادت کے بعد اب بلاول بھٹو زرداری اپنے نانا کے سیاسی مشن کو آگے بڑھانے کے لیے کوشاں ہیں۔ پاکستان کی جمہوری جد و جہد کی تاریخ بھٹو سے شروع ہوتی ہے اور بھٹوز پر ہی ختم ہوتی ہے۔۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے نہیں مسلم دنیا کے ایک عظیم لیڈر کا نام تھا جو تاریخ میں آج تک زندہ ہے۔ پیپلز پارٹی ایک نظریاتی جماعت ہے۔ بھٹو صاحب کا منشور ایک اسلامی منشور تھا۔ انہوں نے عوام کو طاقت کا سرچشمہ بنایا تھا غریبوں کو جگایا تھا اور ان کے حقوق کی بات کی تھی۔ اور آج اسی لیے ان کا نام تاریخ میں روشن ہے۔ کل بھی بھٹو زندہ تھا آج بھی بھٹو زندہ ہے۔

جواب دیں

Back to top button