CM RizwanColumn

حکومت مہنگائی میزائل داغنے پر مجبور کیوں؟ 

جگائے گا کون؟

حکومت مہنگائی میزائل داغنے پر مجبور کیوں؟

تحریر: سی ایم رضوان

ایران، امریکہ اسرائیل جنگ میں دونوں اطراف سے موت بھرے میزائل داغے جا رہے ہیں۔ ساتھ ہی ٹرمپ جیسے مسخرے حکمران کے ناقابل اعتبار اور غیر ذمے دارانہ اعلانات و بیانات کے جواب میں ایرانی سروائول کے حامل تباہ کن حملوں کی یلغار نے دنیا کے تقریباً تمام ممالک کی معیشتوں کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ ایسے میں پاکستان جیسے کمزور معیشت کے حامل ملک کے حکمرانوں کا گھبرا کر بے تکے فیصلے کرنا بعید از قیاس نہیں۔ اسرائیل کی جانب سے ایران پر پہلے میزائل حملے کے ساتھ ہی پاکستانی حکومت نے یہ غور کرنا شروع کر دیا تھا کہ وہ اپنی قرضوں اور امدادوں کی بیساکھیوں پر کھڑی معیشت کو اپنے عوام کے خون پسینے کی خوراک دے کر کیسے زندہ رکھ سکتی ہے۔ لہٰذا اس نے بھی اپنے عوام پر مہنگائی میزائل داغنے کی ابتداء کر دی۔

اس حقیقت کے پیش نظر کہ عالمی بینک کے مطابق 2025ء کے دوران پاکستان کے مزید تقریباً 19لاکھ افراد غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے ہیں۔

ملازمین سے متعلق اخراجات اور سبسڈیز مجموعی طور پر 2کھرب روپے سے زائد بنتے ہیں۔

پاکستانی حکومت کے گھبرا کر عوام پر مہنگائی میزائل داغنے کی کئی وجوہات میں سے ایک یہ ہے کہ پاکستان کی معیشت مشرقِ وسطیٰ کے جاری بحران سے جڑے خطرات کا نسبتاً زیادہ شکار ہے کیونکہ اس کے اثرات عام عوام پر ان ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں جو پاکستان کی طرح آئی ایم ایف کے سخت اور فوری پروگرام پر عمل نہیں کر رہے۔ یعنی پاکستان کی ان مشکلات کی بنیادی وجہ اس کی ماضی کی متعدد، متواتر فوجی و سول حکومتوں کی معاشی ناکامیوں کے پیش نظر قرضوں کا حصول اور قرض کی مے پینے جیسی روش پر مسلسل عمل اور اقتصادی اصلاحات کے نفاذ میں سیاسی ترجیحات کو مقدم رکھنا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ تین دہائیوں میں پاکستان کی تینوں بڑی قومی جماعتوں، مسلم لیگ ( ن) ، پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریکِ انصاف، نے حکومت کی۔ افسوس کہ ان میں سے کسی ایک کو بھی مندرجہ بالا قباحتوں سے مبرا قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ سب نے ایک دوسرے سے بڑھ کر آئی ایم ایف سے قرض حاصل کیے۔ 6دسمبر 2001ء کو منظور ہونے والے آئی ایم ایف کا ایک قرض کی منظوری 11ستمبر 2001ء کے دہشت گرد حملوں کے بعد، صدر پرویز مشرف کی جانب سے صدر جارج بش کے الٹی میٹم ’’ یا تو ہمارے ساتھ ہو یا ہمارے خلاف‘‘ کے بعد امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کی حمایت کے فوری فیصلے کے تناظر میں سامنے آئی۔ اس معاہدے کے تحت 1033700ایس ڈی آرز کی منظوری دی گئی جبکہ 861420ایس ڈی آرز جاری کیے گئے۔ مجموعی بیرونی قرضہ 2001ء میں 32.37ارب ڈالر سے بڑھ کر جون 2007ء تک 40.5ارب ڈالر تک جا پہنچا، یہ نسبتاً سست اضافہ 9؍11کے بعد پاکستان کی جغرافیائی سیاسی اہمیت کا نتیجہ تھا، نہ کہ معاشی کارکردگی میں بہتری کا۔ مزید برآں، حسبِ روایت قلیل مدتی قرضوں کو طویل مدتی قرضوں میں تبدیل کیا جاتا رہا۔ بعد ازاں 24نومبر 2008ء کو ایک اور اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ ( ایس بی اے) کی منظوری دی گئی، جس کے تحت 7235900ایس ڈی آرز طے پائے جبکہ 4936035ایس ڈی آرز حاصل کیے گئے۔ یہ فرق اس لئے رہا کیونکہ پروگرام کو درمیان میں ہی ترک کر دیا گیا، جس کی وجہ طے شدہ شرائط پر عمل درآمد میں ناکامی تھی، خصوصاً روپے کی قدر کو مصنوعی طور پر بلند رکھنا اور امیر صنعتی شعبے کو سبسڈیز جاری رکھنا معاشی ناکامیوں کا باعث رہا۔ اس کے بعد 4ستمبر 2013ء کو ایک اور ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی ( ای ایف ایف) پروگرام شروع کیا گیا، جس کے تحت منظور شدہ 4393000ایس ڈی آرز مکمل طور پر استعمال کیے گئے، حالانکہ 2007ء اور 2008ء میں طے شدہ شرائط کو واپس لے لیا گیا تھا۔ پھر 3جولائی 2019ء کو ایک اور ای ایف ایف پروگرام شروع ہوا، جس کے تحت 4268000ایس ڈی آرز کی منظوری دی گئی، جبکہ 1044000ایس ڈی آرز نکلوائے گئے۔ بعد ازاں کووڈ 19کے باعث اس رقم میں بھی اضافہ کیا گیا۔

موجودہ حکومت نے اپریل 2022ء میں یہ ای ایف ایف پروگرام ورثے میں حاصل کیا، جس کے بعد مزید دو قرضے حاصل کیے گئے۔ نو ماہ کا اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ ( ایس بی اے) اور 36ماہ کا ای ایف ایف پروگرام اب بھی جاری ہے جس کے تحت آئی ایم ایف نے حکومت کو مزید سبسڈی نہ دینے کا حکم دے کر پٹرول مہنگا کرنے پر مجبور کر دیا ہے اور وزیر اعظم کہہ رہے ہیں کہ یہ فیصلہ انہوں نے دل پر پتھر رکھ کر کیا ہے۔

ان حقائق کی روشنی میں اہم سوال یہ ہے کہ کیا آج بھی قرض کی مے پینے کا سلسلہ جاری ہے؟ اس امر کے جواب کے لئے ضروری ہے کہ ان سالانہ اخراجات کا جائزہ لیا جائے جو حکمرانوں کے مخصوص گروہوں یا اثر و رسوخ رکھنے والے طبقات کے لئے مختص کیے جاتے ہیں اور جنہیں کوئی بھی سویلین یا فوجی حکومت چیلنج نہیں کر سکی۔ دو اہم مدات، جو کل جاری اخراجات کے تقریباً 20فیصد کے برابر ہیں اور فوری نظرثانی کی متقاضی ہیں، ان میں سے ایک ( سویلین و عسکری) ملازمین سے متعلق اخراجات اور دوسرا سول و عسکری پنشنز کی مد ہے۔ پہلی مد ملک کی مجموعی افرادی قوت کے صرف 7فیصد تک محدود ہے ( جبکہ باقی 93فیصد نجی شعبے میں کام کرتے ہیں) اور اس کی مکمل مالی ذمہ داری ٹیکس دہندگان اٹھاتے ہیں۔ اسی طرح پنشنز بھی مکمل طور پر ٹیکس دہندگان کے وسائل سے ادا کی جاتی ہیں۔ تاہم یکم جولائی 2024ٗ سے سویلین ملازمین اور یکم جولائی 2025ٗ سے مسلح افواج کے لئے نئے بھرتی ہونے والوں پر 10فیصد شراکت کی شرط عائد کی گئی ہے لیکن اس پالیسی کے اثرات ظاہر ہونے میں کافی وقت لگے گا،

یہاں بجلی کے لئے سبسڈیز، جو خاص طور پر، جاری اخراجات کا ایک اہم حصہ ہیں بھی قابل ذکر ہیں جن میں ہر سال اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ حکومت کی وہ غیر تبدیل شدہ پالیسی ہے جس کے تحت پورے ملک میں ٹیرف کو یکساں رکھا جاتا ہے، حالانکہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی کارکردگی کے باعث لاگت میں نمایاں فرق موجود ہے۔ مثال کے طور پر گزشتہ سال پاور سیکٹر کو مجموعی طور پر 1.190کھرب روپے کی سبسڈی دی گئی، جبکہ رواں سال اسے کم کر کے 1.036کھرب روپے کر دیا گیا ہے، جس میں 49ارب روپے نجی کمپنی کے الیکٹرک کے لئے مختص ہیں، یہ صورتحال دیگر ڈسکوز کی نجکاری کے خلاف ایک مضبوط دلیل فراہم کرتی ہے، جب تک کہ اس پالیسی پر نظرثانی نہ کی جائے۔ اس کے علاہ ملازمین سے متعلق اخراجات اور سبسڈیز مجموعی طور پر 2کھرب روپے سے زائد بنتے ہیں، اگر انہیں نصف کر دیا جائے تو محدود مالی گنجائش میں کچھ بہتری لائی جا سکتی ہے، جو کہ جاری پروگرام کے تحت فنڈ کے عملے کے لئے باعث تشویش بنی ہوئی ہے۔ ملکی معیشت میں سے جاری اخراجات کا ایک اور بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی ہے، جسے روایتی طور پر دو خام پالیسیوں کے ذریعے قابو میں رکھنے کی کوشش کی گئی ان میں سے ایک روپے اور ڈالر کی شرحِ تبادلہ کو مصنوعی طور پر کم سطح پر رکھنا ہے تاکہ بیرونی قرضوں اور سرمایہ کاری ( جیسے سکوک اور یورو بانڈز) کی ادائیگی کا بوجھ کم کیا جا سکے، تاہم اس سے ادائیگیوں کے توازن کے مسائل جنم لیتے ہیں، جو بالآخر ایک نئے آئی ایم ایف قرض کی ضرورت پیدا کرتے ہیں۔ دوسرا موجودہ سال میں پالیسی ریٹ میں کمی کا تصور ہے تاکہ اندرونی قرضوں پر ادائیگیاں کم سے کم ہوں، مگر مشرقِ وسطیٰ کے جاری بحران اور تیل کی رسد میں خلل کے باعث بڑھتی مہنگائی نے اس حکمتِ عملی کو اس طرح متاثر کیا ہے کہ حکومت عوام پر مہنگائی میزائل برسائے پر مجبور ہو گئی ہے۔

ان حالات میں زیادہ موزوں پالیسی یہ ہو گی کہ موجودہ اخراجات میں کمی کر کے اندرونی و بیرونی قرضوں کا بوجھ کم کیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ سول حکومت اور ریاستی ڈھانچے کے آپریشنل اخراجات مکمل طور پر پورے ہوں۔ ساتھ ہی پاور سیکٹر کی سبسڈیز میں کمی ناگزیر ہے اور اس شعبے کی کارکردگی بہتر بنا کر لاگت اور نرخ کم کیے جائیں۔ تاہم موجودہ صورتحال، مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے تناظر میں، غیر یقینی کا شکار ہے۔

رپورٹس کے مطابق پاکستان نے اگست 2025ٗ میں سعودی عرب سے تقریباً 615ڈالر فی ٹن کے حساب سے 30ہزار ٹن ڈی اے پی کھاد درآمد کی۔ آئی ایم ایف کے ساتھ تیسرے ای ایف ایف جائزے اور دوسرے آر ایس ایف جائزے پر سٹاف سطح کا معاہدہ طے پا چکا ہے، تاہم وقت کے تعین کے ساتھ شرائط اور ساختیاتی اہداف بورڈ کی منظوری کے بعد جاری کیے جائیں گے۔ یہاں یہ امر اہم ہے کہ اب تک موجودہ حکومت کی پالیسیوں میں ماضی کی جھلک نمایاں ہے۔ ترقیاتی اخراجات میں 10فیصد کمی ( جس کے براہِ راست منفی اثرات نمو پر پڑتے ہیں) ، پٹرول اور دیگر مصنوعات پر زیادہ سبسڈیز ( جبکہ پٹرولیم لیوی میں اضافہ، جس کا بوجھ زیادہ تر غریب اور کم آمدنی والے طبقات پر پڑتا ہے)، اور سبسڈی دینے کے لئے ایک فنڈ کا قیام، جو بجٹ خسارے میں اضافے اور مہنگائی کے دبا کا باعث بن سکتا ہے، بجائے اس کے کہ حکومت اپنے موجودہ اخراجات میں کمی کرے۔ اب جبکہ وزیراعظم نے اپنی اور اپنی کابینہ کی چھ ماہ کی تنخواہیں نہ لینے کا اعلان کیا ہے تو اس اقدام کا فائدہ بھی تو فوری نہیں ہو گا جبکہ اس امر کی وضاحت وفاقی حکومت کو دینا پڑے گی کہ اس نے گزشتہ دو مالی سالوں میں مجموعی طور پر 49کھرب 75ارب روپے کا ٹیکس استثنیٰ کیوں دیا، جس میں انکم ٹیکس کی مد میں 10کھرب 22ارب، بڑے سرمایہ داروں کو 2757ارب سیلز ٹیکس میں استثنیٰ، کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں وفاقی حکومت کی جانب سے 1195ارب روپے کا ٹیکس استثنیٰ دیا گیا، مالی سال 24۔2023اور 23۔2022میں وفاقی حکومت نے مختلف سیکٹرز کو انکم ٹیکس کی مد میں 10کھرب 22ارب جبکہ سیلز ٹیکس کی مد میں بڑے سرمایہ داروں کو 2757ارب روپے کا ٹیکس استثنیٰ دیا گیا۔ کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں وفاقی حکومت کی جانب سے دو سالوں میں 1195ارب روپے، توانائی اور کان کنی کے شعبے میں 103ارب 47کروڑ روپے، ہائوسنگ اور پبلک ڈویلپمنٹ اتھارٹیز کو 43کروڑ 28لاکھ روپے، تعلیمی شعبے کو 17ارب، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں 5ارب 86کروڑ روپے، صحت اور فارما سیکٹر کو مالی سال 23۔2022اور 24۔2023میں 3ارب 49کروڑ، کھادوں اور زراعت کے شعبوں میں سیلز ٹیکس کی مد میں 457ارب 92کروڑ روپے، پاور جنریشن کمپنیوں کو 5ارب 77کروڑ روپے کا سیلز ٹیکس جبکہ صحت اور طبی آلات کے شعبے میں 313ارب 66کروڑ روپے کا ٹیکس استثنیٰ دیا گیا۔ یہ سوال بہرحال اہم ہے کہ کیا موجودہ مہنگائی میزائل داغنے کی وجہ یہ حکومتی پالیسیاں تو نہیں۔

جواب دیں

Back to top button