خاک اور خاک ساری
خاک اور خاک ساری
شہرِ خواب ۔۔۔
صفدر علی حیدری
مٹی، یہی وہ آغاز ہے جہاں سے انسان نے آنکھ کھولی، اور یہی وہ انجام ہے جہاں اسے خاموش ہو جانا ہے۔
آدم زاد کا خمیر خاک سے اٹھا ہے ، یہ محض تخلیق نہیں، بلکہ ایک ابدی پیغام ہے ۔ ایک ایسا سبق جو اس کے وجود کے ہر ذرے میں رقم ہے۔ خمیرِ خاک میں ہر انسان کی عاجزی چھپی ہے، ہر سانس میں خاک ساری کی گونج ہے، اور ہر عمل میں زندگی کی حقیقت کا آئینہ ہے۔ یہ خاک، جو ابتدا میں ہماری ہتھیلیوں کے لمس سے جڑی ہوئی تھی، ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ کب بلند ہوں اور کب جھک جائیں۔
خاک انسان کے وجود کا بنیادی عنصر ہے، اور اسی خاک میں اُس کی عروج اور زوال چھپا ہے۔ خالق نے انسان کو خاک سے بنایا تاکہ وہ خاکسار رہے ۔
ہر انسان یہ سمجھے کہ جو کچھ بھی اس کے پاس ہے، وہ سب اس کی عطا ہے۔ یہ خاک انسان کے لیے سبق کی مانند ہے: اگر وہ اپنی عاجزی نہ سمجھے، تو غرور کی روش اس کا وجود فنا کر دے گی۔
انسان کا غرور، عزازیل کی مانند، خاک کی پہچان کو ماننے سے انکار ہے۔ جو انسان اپنی اصل پہچان بھول جاتا ہے، وہ غرور کے ہاتھوں ابلیس بن جاتا ہے۔ تاریخ کے ہر دور میں ہم دیکھتے ہیں کہ جو خاک کی حقیقت کو فراموش کرتا ہے، وہ غرور کے ہاتھوں برباد ہو جاتا ہے۔ خاک ساری انسان کو یہ سبق دیتی ہے کہ ہر کامیابی اور ہر عروج کی بنیاد عاجزی اور اللہ کے حکم سے ہے۔
تاریخ میں خاک ساری کی سب سے روشن مثال سرورِ کائناتؐ کی ذات میں ہے۔ فتح مکہ کے دن، آپؐ ایک فاتح کے طور پر مقام عروج پر تھے، مگر غرور سے آزاد تھے۔ آپؐ کا سر جھکا ہوا تھا، اتنا کہ اونٹنی کی کوہان سے ٹکرا رہا تھا۔ یہی خاک ساری اور عاجزی کا عملی درس ہے۔ فتح کے اس لمحے میں بھی خاک کی اہمیت اور عاجزی کی تعلیم واضح تھی۔ اسی خاک نے انسان کو یہ بتایا کہ حقیقی عظمت اسی کو حاصل ہوتی ہے جو اپنی عاجزی کو پہچانتا ہے، اور خاک ساری کے سبق کو دل میں بسا لیتا ہے۔
اسی خاک نے کربلا کے میدان میں مولا حسینؓ کی قربانی کو بھی گواہ بنایا۔ وہی خاک جس سے انسان پیدا ہوا، خون میں بدل گئی۔ خاک اور خون کی آمیزش انسان کے وجود کی عارضی اور ابدی حقیقت کی علامت ہے۔ زندگی میں عظمت، قربانی اور درد ہمیشہ ساتھ چلتے ہیں۔ خاک ساری اور قربانی ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر انسانی عظمت، تاریخ کی شدت اور اخلاقی پیغام کو واضح کرتی ہیں۔ یہ خاک، جو انسان کو عاجزی سکھاتی ہے، مولا حسین کی قربانی میں گواہ بنی اور دس محرم کو خون میں بدل گئی۔
یہی خاک ام المومنین حضرت ام سلمہؓ کے پاس بھی موجود تھی، اور یہی خاک سرورِ کائناتؐ کے سامنے ایک اور درس کی صورت میں موجود تھی: جب آپؐ نے حضرت علی مولاؓ کو دیکھا جو مٹی پر سو رہے تھے، تو آپؐ نے انہیں محبت اور عزت کے ساتھ ابو تراب کہا۔ یہ لقب نہ صرف حضرت علیؓ کے لیے عزت اور محبت کا باعث بنا، بلکہ مخالفین کے لیے تضحیک کی حیثیت رکھتا تھا۔ حقیقت میں، یہ خاک ساری اور خاک ساری کی سب سے بڑی علامت تھی۔انسان کا عروج خاک ساری میں چھپا ہے۔ جو خاک کی پہچان رکھتا ہے، وہ ہر صدمے اور تضحیک میں بھی سکون اور عزت محسوس کرتا ہے۔ خاک اور خاک ساری انسان کے دل کی حقیقت اور اس کے تعلقِ خالق کو مضبوط کرتی ہیں۔ دنیا ایک عارضی قیام گاہ ہے۔ یہاں کی ہر چیز فنا پذیر ہے، دولت، طاقت، عزت، حتیٰ کہ جسم بھی۔ آخر کار سب مٹی میں مل جائے گا۔ خاکساری انسان کو یہ سبق دیتی ہے کہ برتری کا دعویٰ محض فریب ہے۔
خاک ساری انسان میں کیوں نہ ہو کہ وہ ساری خاک ہے ، سب خاک یعنی خاک ساری۔
اگر انسان اپنی اصل حقیقت کو سمجھے اور خاک کی تعلیم اپنائے، تو وہ افلاک تک بلند ہو سکتا ہے۔ خاک اور خاک ساری اسے یہ سکھاتی ہیں کہ ہر انسانی کامیابی کی بنیاد عاجزی ہے اور ہر انسانی عروج کی حقیقت اس کی خاک ساری میں چھپی ہوئی ہے۔ انسان کی عظمت اس کی عاجزی میں ہے، اور اس کا عروج خاک ساری اور خاکساری کی مکمل پہچان سے شروع ہوتا ہے۔ جو انسان اپنی حقیقت کو پہچانتا ہے، وہ جھک جاتا ہے، دوسروں کے ساتھ برابری کا تعلق رکھتا ہے، اور حقیقت کی روشنی میں بلند ہوتا ہے۔
غرور کی حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف ایک ذات کے لیے ہے، وہ ذات جو کسی کی محتاج نہیں۔ انسان جو خاکی ہے، وہ ہر لمحے محتاج ہے، ہر سانس اور ہر عمل میں اس کا انحصار خالق پر ہے۔ غرور انسان کو مٹانے کی طاقت رکھتا ہے، مگر خاک ساری اور عاجزی انسان کو بلند کرتی ہے۔ یہی دنیا کی سب سے بڑی حقیقت ہے: انسان کی ابتدا مٹی میں، اور انجام بھی مٹی میں ہے۔
دنیا کی ہر چیز فنا پذیر ہے۔ دولت، طاقت، شہرت، حتیٰ کہ جسم بھی آخر کار مٹی میں مل جائے گا۔ خاک ساری انسان کو یہ سبق دیتی ہے کہ برتری کا دعویٰ فریب ہی۔ اگر انسان اپنی اصل حقیقت کو سمجھے، تو وہ افلاک تک بلند ہو سکتا ہے۔ خاک اور خاک ساری اسے یہ سکھاتی ہیں کہ ہر انسانی کامیابی کی بنیاد عاجزی ہے اور ہر انسانی عروج اس کی خاک ساری میں چھپا ہوا ہے۔
انسان کو یاد رکھنا چاہیے: ہم مٹی کے پتلے ہیں، ہماری ابتدا مٹی سے ہوئی، اور انجام بھی مٹی میں چھپا ہے۔
سو خاک ساری اختیار کریں، اپنی حقیقت پہچانیں، اور دنیا کی عارضی چیزوں سے آزاد ہو جائیں۔ خاک اور انسان کی یہ قربت، خون اور قربانی کی یہ آمیزش، یہی دنیا کی اصل حقیقت ہے۔ اللہ بس باقی ہے، باقی سب ہوس ہے۔۔۔
مٹی دی ڈھیری
افسانچہ
اس نے مٹی تھامی۔
ذرّات پھڑکتے، دھواں اُٹھاتے، انگاروں کی طرح بھڑک رہے تھے۔
ہر ذرے میں عاجزی، غرور کی دھند، قربانی کی سرخی۔
فتح مکہ کی خاموش سرخی، کربلا کا خون، ابو تراب کی مٹی، سب ایک ساتھ رقص کر رہے تھے۔
وہ عبد خدا جھکا، خاک چھوا، خاک سرگوشی کرتی: یاد رکھ، تم خاکی ہو۔ غرور تمہیں جلائے گا، عاجزی بلند کرے گی۔
سانس میں خوشبو، دل میں آگ، ہاتھ میں مٹی، آنکھوں میں تاریخ، سب پھڑکتے، بھڑکتے، رقص کرتے۔
بلھے شاہ کی صدا ہوا میں گھل گئی: نہ کر بندیا میری میری۔۔۔ نہ تیری نہ میری
انسان نے مٹھی کھولی خاک اڑی، دھواں اُڑا، آگ دل میں بھڑکی، دریا کو کوزے میں بند کر دیا گیا۔







