پٹرول بم اور عوامی نفسیات

پٹرول بم اور عوامی نفسیات
محمد مبشر انوار
پرانی کہاوت ہے کہ کہیں ایک بادشاہ عوام پر ظلم و ستم کے لئے مشہور تھا اور حیلے بہانے عوام پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے میں مشغول رہتا، کہتے ہیں کہ کسی سفر میں اس نے عوام کو کسی دریائی راستے پر عوام کو تجارت کے لئے ایک کنارے سے دوسرے کنارے جاتے دیکھا تو یونہی دماغ کے خلل نے اسے وہاں ٹیکس نافذ کرنے پر مجبور کر دیا کہ عوامی رد عمل کا مشاہدہ کیا جائے۔ ردعمل تو کیا خاک ہوتا، عوام بادشاہ کے ظلم و ستم سے خائف رہتے تھے اور کسی بھی طور کوئی ایسی بات کرنے کو تیار نہ تھے کہ جس سی بادشاہ کی جبین پر کوئی شکن آتی اور ظلم و ستم مزید بڑھ جاتا، لہذا عوام چپ چاپ اس ستم و ناانصافی کو پی گئے اور ٹیکس ادا کرتے رہے۔ کہتے ہیں کہ کچھ عرصہ بعد بادشاہ کا دوبارہ وہاں سے گزر ہوا اور تو دیکھا کہ کاروبار زندگی اپنے معمول کے مطابق چل رہا ہے، عوام مجوزہ ٹیکس کی ادائیگی کر رہے ہیں اور دریائی راستہ عبور کر رہے ہیں، بادشاہ کو خوشی کے ساتھ ساتھ تعجب بھی ہوا، خوشی اس بات کی کہ اس کا خوف اس قدر ہے کہ وہ جو چاہے فیصلہ کرے، عوام اس کے صحیح یا غلط پر سوچنے کی بجائے، اس پر بلا چون و چرا عمل کر رہے ہیں اور تعجب اس بات پر کہ کوئی ایک شخص بھی اس کے فیصلے کے خلاف کھڑا نہیں ہوا۔ بادشاہ نے ایک مرتبہ پھر اس ٹیکس کو دوگنا کر دیا کہ دیکھا جائے کہ اس مرتبہ عوام کا ردعمل کیا ہوتا ہے، حیرت انگیز طور پر جابر بادشاہ کے اس فیصلے کیخلاف بھی کوئی ایک شخص کھڑا نہ ہوا۔ کچھ عرصہ بعد بادشاہ نے دانستہ اس جگہ کا دورہ کیا اور اس مرتبہ ایک اور حیرت انگیز فیصلہ کر دیا کہ ٹیکس کے ساتھ ساتھ عوام کی چھتر پریڈ کے لئے دو سپاہی بھی متعین کر دئیے، جو راستہ عبور کرنے والوں سے ٹیکس وصول کرنے کے بعد دو یا جتنے بھی روایت میں موجود ہیں، عوام کو لگاتے ۔ ظالم و جابر بادشاہ کو نجانے کیوں یہ خیال آیا کہ عوام اس فیصلے کے خلاف یقینا احتجاج کریں گے اور بادشاہ کو یہ فیصلہ واپس لینے پر مجبور کریں گے، لیکن حیرت انگیز طور پر بادشاہ کے اگلے دورے میں، بادشاہ نے باقاعدہ عوامی اجتماع منعقد کیا اور عوام کی شکایات سننی کا فیصلہ کیا، بادشاہ کی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی جب عوام نے بادشاہ کی توقع کے برعکس، بادشاہ سے فرمائش کی کہ جہاں پناہ، آپ کا فیصلہ یقینی طور پر دانشمندانہ ہو گا، لیکن براہ کرم اس راستے پر سپاہیوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے کہ کم تعداد کے باعث، عوام کے وقت کا زیاں ہوتا ہے۔ بادشاہ ورطہ حیرت میں ڈوب گیا کہ اس کی قوم کا مزاج کیا ہو چکا ہے کہ کسی غلط بات پر ردعمل دینے کی بجائے، ہر ظلم و ستم پر سر تسلیم کئے جاتی ہے اور ہر ناانصافی پر سر جھکائے کھڑی ہے۔ اس روایت کو قلمبند کرنے کے مقصد یقینا قارئین سمجھ چکے ہوں گے کہ اس کا تعلق یقینی طور پر حکومت کے حالیہ غیر منصفانہ فیصلے سے براہ راست تعلق رکھتا ہے کہ چند پہلے ہی، حکومت نے تیل کی قیمتوں میں گراں قدر اضافہ کیا ہے لیکن آج ایک مرتبہ پھر، تیل کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے سے عوامی مشکلات میں بے انتہا اضافہ کر دیا ہے لیکن عوامی رویہ ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم کے علاوہ کچھ بھی نہیں ۔ اصولا بادشاہ کے پہلے غلط قدم ؍ فیصلے پر خاموشی اختیار کرنے والی قوم کے متعلق یہ قیاس کیا جاتا ہے کہ ایسی قوم انتہائی اقدام پر بھی خاموش ہی رہے گی اور ایسی ناانصافیوں پر خاموش رہنا ہی پسند کرے گی، کہ گربہ کشتن روز اول کے برعکس، برائی کو پہلے دن ختم نہ کرنے سے، برائی تیزی کے ساتھ نہ صرف پھلتی پھولتی ہے بلکہ معاشرے کی رگوں میں سرایت کر جاتی ہے اور حکمرانوں کو خود سر ، ظالم اور نا انصاف بنا دیتی ہے اور وہ کسی بھی قسم کا فیصلہ کرنے سے نہیں کتراتے۔ یہی صورتحال اس وقت ملک پاکستان کو درپیش ہے کہ یہاں بیشتر غلط فیصلوں کے خلاف روز اول سے ہی عوامی ردعمل سامنے نہیں آیا، نتیجہ یہ کہ معاشرے میں ہر سو برائیوں نے ڈیرے جما رکھے ہیں گو کہ چند ایک فلاحی تنظیمیں ضرور روبہ عمل ہیں لیکن کیا یہ حکومتی ناکامیوں پر مہر تصدیق ثبت نہیں کرتی؟ ایک فلاحی ریاست میں ایسی تنظیموں کی چنداں ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی کہ ریاست بذات خود ہر شہری کے مفادات کا تحفظ کرتی دکھائی دیتی ہے اور ہر شہری کو بنیادی انسانی حقوق فراہم کرتی دکھائی دیتی ہے، ایسی صورت میں ریاست کے اندر کسی فلاحی تنظیم کے قیام کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی لیکن ملک خداداد پاکستان میں گلی محلوں میں ایسی رفاحی و فلاحی تنظیموں کا بچھا جال اس امر کا غماز ہے کہ ریاست اپنی ذمہ داریوں سے کماحقہ عہدہ برآء ہونے میں بری طرح ناکام ہے لیکن اس کے باوجود اقتدار سے چمٹے رہ کر ریاستی وسائل کی لوٹ کھسوٹ جاری رکھنا چاہتی ہے۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عوام ردعمل دیتی کیوں نہیں؟ زمانہ قدیم کی سمجھ تو آتی ہے کہ اس وقت حکمران وقت کے منہ سے نکلے الفاظ ہی درحقیقت آئین و قانون کا درجہ رکھتے تھے اور عوام من و عن ان پر عملدرآمد کرنے کی پابند تھی، حکم عدولی کی پاداش میں سخت تادیب کارروائیاں کی جاتی اور سوال اٹھانے یا بغاوت کرنے والوں کو نشان عبرت بنا دیا جاتا لیکن آج کے دور میں ایسا کیونکر ہوتا ہے؟ اس سوال کا جواب بھی اسی میں پنہاں ہے کہ گو ہم آج جس دور میں زندگی گزار رہے ہیں، اسے انفارمیشن کا دور کہہ سکتے ہیں، شعور و آگہی کا دور کہہ سکتے، بنیادی انسانی حقوق کا دور کہہ سکتے ہیں لیکن کیا واقعتا وطن عزیز میں یہ عناصر موجود ہیں؟ ان کا جواب جزوا ’’ ہاں‘‘ اور جزوا’’ ناں ‘‘ میں ہے۔ کہنے کو ملک میں جمہوریت ہے، جس میں انسانی حقوق کی ضمانت ملک کا آئین دیتا ہے، مساوی حقوق کی ضمانت آئین دیتا ہے، انصاف کی ضمانت آئین دیتا ہے، آزادی اظہار رائے کی ضمانت آئین دیتا ہے، اس کے علاوہ کئی ایک دیگر حقوق کی ضمانت آئین دیتا ہے لیکن یہ ضمانتیں صرف آئین کی کتاب کے صفحوں تک ہی محدود رہ گئی ہیں اور عملا ان حقوق کی ضمانت کم از کم حکومت مخالفین کو میسر نہیں جب کہ اقتدار کے منبع و ماخذ کے در پر سجدہ ریز ہونے والوں کے لئے ماورائے آئین حقوق بھی با آسانی دستیاب ہیں اور شو مئی قسمت کہ آئین و قانون کی رکھوالی و تشریح کرنے والی عدالتوں سے فیصلے یا تو مقتدر اعلی کی منشاء و رضا کے مطابق صادر ہوتے ہیں یا مخالفین کے مقدمات کی سماعت، صرف اس خوف سے کہ میرٹ پر سننے کے بعد سوائے بریت کے اور کوئی فیصلہ ہو نہیں سکتا، التواء کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حالت اس قدر پتلی ہے کہ وہ میرٹ پر روبہ عمل آنے کی بجائے، حکمرانوں کے اشارہ ابرو کی جانب دیکھتے دکھائی دیتے ہیں کہ حکمران ان سے کیا توقع رکھتے ہیں اور ان کی منشاء کیا ہے، جس کے مطابق وہ اپنا لائحہ عمل یا کارکردگی دکھا سکیں، قانونی تقاضے کیا ہیں اور قانون ان سے کیا توقع رکھتا ہے یا ریاست، جس کی وفاداری کا حلف ان اداروں؍محکموں نی اٹھا رکھا ہے، ان سے کیا تقاضہ کرتے ہیں، سب پس پشت ڈال دیا جاتا ہے، لہذا معاشرے میں جرائم پیشہ افراد، بے رحم و بے حس حکمرانوں کے بعد، ظلم و درندگی و ناانصافی کا ننگا ناچ ناچ رہے ہیں اور کسی کو کوئی پرواہ نہیں۔
یہاں ماضی کے موازنوں کو دہرانے کے ضرورت نہیں کہ سب جانتے ہیں رجیم چینج کے وقت کس طرح عوام کو مہنگائی کے نام پر قومی میڈیا پر دکھایا جاتا تھا اور ان کی رائے لی جاتی تھی تا کہ تب کے حکمرانوں کے خلاف جواز تراشا جا سکے اور ان کو گھر بھیجا جا سکے۔ اصولا ان صحافیوں کو آج بھی اپنی صحافتی ذمہ داریوں کا ادراک کرتے ہوئے بعینہ وہی روش اختیار کی اور مہنگائی پر عوامی رائے میڈیا پر نشر کی یا تب آقائوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے صحافتی ذمہ داریوں کا احساس جاگا تھا؟ حقیقت یہی ہے کہ من حیث القوم ہمارا رویہ یہی بن چکا ہے کہ ہم آقائوں کے خوف یا خوشنودی کے لئے ہی بروئے کار آتے ہیں وگرنہ خاموشی ہی ہمارا اوڑنا بچھونا ہے، ہم صرف بطور کھلونا حکمرانوں کے ہاتھوں کھیلنا پسند کرتے ہیں کہ یہ راستہ نسبتا آسان ہے اور اس میں فوائد زیادہ ہیںکہ خود سے محنت نہیں کرنا پڑتی بصورت دیگر نہ صرف ہمیں نشانہ عبرت بنایا جاتا ہے بلکہ روزگار چھیننے سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا، اس سے بڑھ کر ظلم اور کیا ہوسکتا ہے کہ قصیدہ گوئی نہ کرنے یا تنقید کرنے کے جرم میں روزگار چھین لیا جائے اور دوسری طرف عوام کے احتجاج کو اس بری طرح دبایا جائے کہ کسی بھی شہری کو قبل از وقت ہی چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے، گھر سے اٹھا لیا جائے، صرف کسی متحرک شہری ہی کو نہیں بلکہ اس کے اہل خانہ و دور و نزدیک کے کل رشتہ داروں تک کی زندگی اجیرن کر دی جائے، ایسی صورتحال میں، اعدادوشمار یا ماضی و حال کا موازنہ کئے بغیر، عالمی سطح پر پاکستان کو میسر سہولتوں ( جن کا ڈھنڈورا بھی حکومت خود پیٹتی ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باوجود پاکستان کو تیل کی مسلسل فراہمی جاری ہے) کے باوجود، اسے حکومتی نااہلی ہی کہا جاسکتا ہے کہ تقریبا80برس گزرنے کے باوجود ہم طویل عرصہ تک تیل ذخیرہ کرنے کے قابل نہیں، جس کی سزا ہم عوام کو دیتے ہیں، حکومت آئے روز پٹرول بم برسائے یا عوامی حقوق غصب کرے، ایسے پٹرول بموں کے بعد عوامی نفسیات یہی دکھائی دے گی کہ حضور کا اقبال بلند ہو، سپاہیوں کی تعداد بڑھا دی جائے، اور یہی کچھ اس وقت ملک میں ہو رہا ہے۔







