ColumnRoshan Lal

ایرانی عوام پر جنگوں کے اثرات 

روشن لعل

 

 

 

ایرانی عوام پر جنگوں کے اثرات

 

کسی ملک کے شہری کتنے باصلاحیت ہیں، یہ اندازہ لگانے کے لیے دیکھا جاتا ہے کہ عالمی سطح پر ان کی مختلف شعبوں میں کارکردگی کی رینکنگ کیا ہے۔ کئی دہائیوں سے معاشی و سماجی پابندیوں کا شکار بننے والے ایرانیوں کے لیے ذہن میں پہلا خیال تو یہ آتا ہے کہ دنیا سے الگ تھلگ زندگی گزارنے پر مجبور ہونے کے بعد ان کی صلاحیتیں یقیناً زنگ آلود ہو چکی ہوں گی۔ مذکورہ خیال ذہن میں رکھتے ہوئے ایرانیوں کی زندگی کے مختلف شعبوں میں سامنے آنے والی کارکردگی دیکھنے کے بعد حیرانگی کے عالم میں ان کی لیے سابقہ خیال تبدیل کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔ ایرانیوں کی مختلف شعبوں میں نظر آنے والی کارکردگی کی تفصیل یہ ہے کہ سال 2024-25کے انٹرنیشنل IQٹیسٹ ڈیٹا کے مطابق ان کا شمار دنیا میں سب سے زیادہ آئی کیو رکھنے والے پہلے پانچ ملکوں کے شہریوں میں ہوتا ہے۔ مجموعی طور پر ایران کے بالغ شہریوں میں تعلیم کی شر ح 99فیصد جبکہ بالغ عورتوں میں 85فیصد ہے۔ ایران کا شمار ان چند ملکوں میں ہوتا ہے جہاں کے طالب علموں کے فارمولوجی، کیمسٹری، بائیو میڈیکل سائنسز اور انجینئرنگ کے شعبوں میں لکھے گئے تحقیقی مقالے بڑی تعداد میں دنیا کے معتبر ترین مجلوں میں شائع ہوتے ہیں۔ ایران کی نیشنل سائنس فائونڈیشن، مختلف تعلیمی شعبوں میں تحقیق کرنے والے طالب علموں کو ہر قسم کی رہنمائی اور معاونت فراہم کرتی ہے۔ بہترین اور مستند مجلوں میں اپنے تحقیقی مقالے شائع کرانے والے ایرانی طالب علموں کا عالمی رینکنگ میں نمبر 15سے 17کے درمیان ہے۔ عالمی رینکنگ میں ایران کی یونیورسٹی آف تہران کا نمبر 322جبکہ وہاں کی شریف یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا نمبر 375ہے۔ واضح رہے کہ اگر کسی ملک کی یونیورسٹی کا شمار دنیا کی پہلی 500یونیورسٹیوں میں ہو جائے تو اس کے تعلیمی معیار کو انتہائی تسلی بخش تصور کیا جاتا ہے۔ بائیو ٹیکنالوجی اور نینو ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تحقیق و ترقی کرنے والے ملکوں کی عالمی رینکنگ میں ایران کا چوتھا نمبر ہے۔ ائیرو سپیس اور سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ایران کا نام چند ایسے ملکوں میں شامل ہے جو خود اپنے راکٹ اور سیٹلائٹ بنا کر خود ہی انہیں فضا میں چھوڑ نے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بائیو میڈیکل انجینئرنگ اور میڈیسن کے اپنی ضرورتوں کے مطابق پیداوار میں ایران 97فیصد تک خود کفیل ہے۔

ایرانیوں کے باصلاحیت ہونے کے متعلق مزید بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے لیکن یہاں توجہ اس نکتے کی طرف مبذول کرانا مقصود ہے کہ جن لوگوں نے اپنے ملک پر عرصہ سے عائد اقتصادی پابندیوں کے باوجود دنیا سے اپنی صلاحیتوں کا اعتراف کرایا ، اگر ان پر داخلی اور خارجی محرکات کی وجہ سے جنگیں مسلط نہ کی گئی ہوتیں تو نہ جانے آج وہ مزید ترقی کرتے ہوئے کس بلند مقام پر کھڑے ہوتے۔ ایرانی عوام، خود پر مسلط کردہ جنگوں کے سبب ، صرف سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں مزید ترقی کرنے سے ہی محروم نہیں رہے، بلکہ ان جنگوں کی وجہ سے ان کے ملک میں مثبت سیاسی و سماجی تبدیلیوں کے مواقع بھی محدود ہوتے چلے گئے۔

ایران میں فروری 1979ء میں جو انقلاب آیا اس کا سہرا تو امام خمینی کے سر سجایا جاتا ہے لیکن اس انقلاب کو ممکن بنانے میں لبرل اور ترقی پسند ایرانی حلقوں نے بھی سخت گیر مذہبی عناصر سے کچھ کم کردار ادا نہیں کیا تھا۔ ایران میں رضا شاہ پہلوی کی شہنشاہیت ختم ہونے کے بعد سخت گیر مذہبی عناصر اور معتدل مزاج ترقی پسند حلقوں کے درمیان اس بات پر کشمکش شروع ہو گئی تھی کہ وہاں کا آئندہ طرز حکومت کیا ہوگا۔ اس وقت اگر ریاست کے سربراہ مذہبی سخت گیر امام خمینی تھے تو وزارت عظمیٰ کی عبوری ذمہ داری لبرل اور معتدل مزاج مہدی بازرگان کو دی گئی تھی۔ جب سخت گیر مذہبی رجحان رکھنے والے ایرانی نوجوانوں نے امریکی سفارت خانے پر قبضہ کیا تو لبرل مہدی بازرگان اس عمل کی مخالفت کرتے ہوئے احتجاجاً اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے۔ مہدی بازرگان نے تو اپنا عہدہ چھوڑ دیا مگر ان کی ترقی پسند سوچ اس وقت ایران میں اس قدر قابل قبول تھی کہ جب وہاں فروری 1980ء میں منعقدہ پہلے صدارتی انتخاب کے دوران، مہدی بازرگان کے ہم خیال معتدل مزاج ابوالحسن بنی صدر ایک کروڑ سے زیادہ ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ سخت گیر مذہبی رجحان رکھنے والے ان کے مخالف امیدوار احمد مدنی صرف بائیس لاکھ ووٹ حاصل ووٹ حاصل کر سکے تھے۔ جب ابوالحسن بنی صدر اپنے ملک کو معتدل اور ترقی پسند ریاست بنانے کے لیے اندرونی طور پر سخت گیر مذہبی عناصر کے ساتھ الجھے ہوئے تھے اس وقت عراق کے صدام حسین نے عرب ملکوں اور امریکہ کے تعاون سے ایران پر حملہ کر دیا۔ ایران پر مسلط کی گئی اس جنگ کی بعد وہاں قوم پرستی کے جذبات رکھنے والے ایرانیوں پر یہ اثرات مرتب ہوئے کہ ان کی اکثریت معتدل مزاج بنی صدر جیسے لوگوں سے دور اور سخت گیر مذہبی رجحانات کے قریب ہونا شروع ہوگئی۔ عراق کی مسلط کردہ جنگ کے دوران، ایران میں سماجی طور پر رونما ہونے والی تبدیلی کا یہ نتیجہ نکلا کہ جو بنی صدر ایک کروڑ سے زیادہ ووٹ لے کر منتخب ہوئے تھے ان کا مواخذہ کر کے انہیں صدارت کے عہدے سے سبکدوش کر دیا گیا۔ اس کے بعد ایران میں طویل عرصے تک سخت گیر مذہبی رجحان رکھنے والے لوگ صدر منتخب ہوتے رہے۔ اس تسلسل کو معتدل مزاج محمد خاتمی نے مئی 1997ء میں صدر منتخب ہو کر توڑا۔ محمد خاتمی نے پہلی صدارتی مدت کے لیے اپنے حریف کے مقابلے میں قریباً 69فیصد اور دوسری صدارتی مدت کے لیے تقریباً77فیصد ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی تھی۔ محمد خاتمی کے بعد ایرانیوں نے دوبارہ سخت گیر مذہبی رجحانات کے حامل احمدی نژاد کو منتخب کیا کیونکہ اپنے عہدہ صدارت کے دوران محمد خاتمی تمام تر کوششوں کے باوجود بیرونی دنیا کی طرف سے ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں مکمل ختم کرانے میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے ۔ احمدی نژاد کے بعد ایرانیوں نے دوبارہ ایک معتدل مزاج اور اصلاحات پسند حسن روحانی کو دو مرتبہ ایران کا صدر منتخب کیا ۔ حسن روحانی نے سخت گیر مذہبی لوگوں کے دبائو کے باوجود ایٹم بم بنانے سے دستبرداری کا اعلان کرتے ہوئے امریکہ کے صدر اوبامہ اور دیگر ممالک کے ساتھ ایٹمی معاہدہ کرنے کے بعد عرصہ دراز سے ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ کرایا لیکن ٹرمپ نے اپنی پہلی صدارتی مدت کے دوران یکطرفہ طور پر ایٹمی معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کیا تو ایران میں سخت گیر ابراہیم رئیسی کے صدر بننے کی راہ ہموار ہو گئی۔ ابراہیم رئیسی کی ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاکت کے بعد ایرانیوں نے دوبارہ معتدل مزاج مسعود پزشکیان کو اپنا صدر منتخب کیا لیکن امریکہ اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد ایران میں معتدل مزاج رجحانات کا فروغ پھر سے پس پشت چلا گیا ہے۔

پاکستان میں جو لبرل، امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد یہ سوچ کر بغلیں بجاتے ہیں کہ اب وہاں سخت گیر مذہبی رجحانات کو شکست ہو گی، وہ جان لیں کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف کارروائیوں کے بعد وہاں سخت گیر مذہبی لوگ کمزور نہیں بلکہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔

جواب دیں

Back to top button