ColumnImtiaz Aasi

پنجاب میں قیدیوں کو ہنرمند بنانے کے اقدامات

پنجاب میں قیدیوں کو ہنرمند بنانے کے اقدامات

 

امتیاز عاصی

ایک زمانے میں جیلوں میں قیدیوں سے مونج کٹوائی جاتی تھی جو قیدیوں کے لئے ایک مشکل ترین مشقت ہوا کرتی تھی اس مقصد کے لئے قیدیوں کو روزانہ بنیادوں پر مونج کا کوٹہ دیا جاتا تھا جسے ہر صورت میں انہیں پورا کرنا ہوتا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ جیلوں کی فیکٹریوں میں قالین بافی اور فرنیچر بنانے کا کام شروع ہو گیا جو عشروں تک چلتا رہا۔ گزشتہ چند سالوں سے صوبے کی مختلف جیلوں میں قیدیوں سے بے شمار پروڈکٹس تیار کرائی جا رہی ہیں جنہیں عام مارکیٹ میں فروخت کرکے صوبائی حکومت اچھا خاصا پیسہ کما رہی ہے۔ پنجاب کی سینٹرل اور ضلعی جیلوں میں جن اشیاء کی تیاری قیدیوں سے کرائی جا رہی ہے ان کا چیدہ چیدہ جائزہ لیا جاتا ہے۔ ڈسٹرکٹ جیل سیالکوٹ میں کھیلوں کا سامان جیسا کہ فٹ بال وغیرہ برسوں پہلے سے تیار کئے جا رہے ہیں، مگر آج کل صابن، بجلی کے بلب، جرابیں، جوگرز، شوز، ڈائننگ پلیٹس، فنائل، واشنگ پاوڈر، رواوئلنگ چیئر، نوروزی چپل، آفس ریک،گفٹ پین، ڈائننگ سٹیل کی کھڑکی، ٹشو پیپر، لکٹری کے ٹشو بکس کے علاوہ گویا ہاتھ کی بنی لاتعداد پروڈکٹس ایسی ہیں جو روزمرہ زندگی میں انسانی ضرورت ہیں۔ محکمہ جیل خانہ جات نے اس سلسلے میں جو کیڈلاک تیار کی ہے اس دیکھ کر انسان ورطہ حیرت میں رہ جاتا ہے کہاں جیل خانے جرائم کا گڑھ سمجھتے جاتے تھے اور اب قیدیوں کو ایک اچھا شہری بنانے اور رہائی کے بعد حصول روزگار کے لئے در بدر ہونے کی بجائے انہیں اپنے اور اہل خانہ کی کفالت کے لئے اب کسی کا دست نگر نہیں ہونا پڑے گا۔ ہم اگر یہاں جیلوں کے انسپکٹر جنرل میاں فاروق نذیر کی اس سلسلے میں مساعی جمیلہ کا ذکر نہ کریں تو زیادتی ہوگی لیکن قیدیوں اور جیل ملازمین کی فلاح و بہبود کے سلسلے میں آئی جی جیل خانہ جات کو صوبائی ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ ڈاکٹر احمد جاوید قاضی کا بھرپور تعاون حاصل رہا ہے۔ صوبے کی جیلوں میں وقفے وقفے سے آئی جی آتے رہے اور معمول کے فرائض سرانجام دینے کے بعد رخصت ہوتے رہے۔ گو کہ میاں فاروق نذیر کو اس عہدے پر کام کرنے کا کئی مرتبہ موقع ملا لیکن انہوں نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قیدیوں اور جیل ملازمین کی فلاح و بہبود کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جس کا نتیجہ میں قیدیوں کو خود کفیل بنانے کے لئے جو اقدامات ان کے دور میں ہوئے جیلوں کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ آپ یقین جانیں میاں فاروق نذیر سے میری کوئی جان پہچان نہیں نہ ان سے کبھی ملاقات ہوئی ہاں البتہ ایک دو مرتبہ فون پر ضرور بات ہوئی۔ اب میں جیلوں میں قیدیوں کی وکیشنل ٹرنینگ کے سلسلے میں ہونے والے اقدامات کا ذکر کروں گا جس میں قیدیوں کو کپڑوں کی سلائی سے لے کر کیمپوٹر ٹرننگ، وڈ ورک، پلمبرمنگ ،ائرکنڈشنگ، ویلڈنگ، الیکٹریشن،موٹر میکنک کے علاوہ باربر کا کام بھی سیکھایا جاتا ہے۔ وکیشنل ورک کے لئے وفاقی حکومت کے ادارے ٹیوٹا کا تعاون محکمہ جیل خانہ کو حاصل ہے جو پنجاب کے علاوہ ملک بھر کی جیلوں میں قیدیوں کو ٹیکنیکل ورکر سیکھانے کے لئے بھرپور تعاون کر تا ہے۔ جہاں تک خواتین قیدیوں کو ہنر سیکھانے کی بات ہے صوبے کی مختلف جیلوں میں ان کے لئے بیوٹی فیکشن سنٹر قائم کئے گئے ہیں۔ پنجاب کی جیلوں میں پرٹننگ میٹریل سپلائی کرنے کے لئے سینٹرل جیل فیصل آباد میں خاص طورپر پرنٹنگ پریس لگایا گیا ہے جہاں سے صوبے کی تمام جیلوں کو پرنٹنگ میٹریل سپلائی کیا جاتا ہے۔ سینٹرل جیل فیصل آباد میں ٹف ٹائیل کی تیاری کئی سالوں سے جاری ہے جس سے صوبائی حکومت کا اچھی خاصی آمدن ہو رہی ہے۔ چند سال پہلے تک قیدیوں کو غیر معیاری روٹی کی شکایات ہوتی تھی۔ قیدی جب روٹی پکڑتے تھے تو اس کے کئی ٹکڑے ہو جایا کرتے تھے مگر اب ایسا نہیں ہے۔ اب اس مقصد کے لئے پنجاب کی36جیلوں میں گندم کی پسائی قیدی خو د کر رہے ہیں اور اسی آٹے کی روٹی انہیں فراہم کی جا رہی ہے جس کے صوبائی حکومت کو سالانہ کروڑوں روپے کی بچت ہو رہی ہے۔ عام طور جیلوں میں مبینہ طور پر کرپشن کی شکایات ہوتی ہیں چنانچہ اس مقصد کے لئے صوبائی حکومت نے ایک ڈائریکٹر جنرل کی سربراہی میں مانیٹرنگ ٹیم تشکیل دی ہے جو اچانک جیلوں کا دورہ کرکے عوام کی شکایات کا ازالہ کرنے کے اقدامات کر رہی ہے البتہ مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی مانیٹرنگ ٹیم قیدیوں کے گھروں میں فون کرکے ان سے جیل ملازمین بارے شکایات کے سلسلے میں باز پرس کرتے ہیں حالانکہ اس مقصد کے لئے انہیں قیدیوں کے لواحقین سے پوچھنے کی بجائے جیلوں کا اچانک اور رات کو وزٹ کرکے جیلوں کے حالات کا پتہ چلانے کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر مانیٹرنگ ٹیم کو جیلوں کے ہسپتالوں میں مبینہ کرپشن کی شکایت ملتی ہے تو انہیں چاہیے وہ رات کو اچانک جیلوں کا دورہ کریں اور ہسپتال میں داخل قیدی اور حوالاتی مریضوں کو دیکھ کر پتہ چلا سکتے ہیں وہ واقعی علیل ہیں یا پھر سفارشی پروگرام کے تحت محض سہولت کی خاطر ہسپتال میں داخل ہیں۔ عام طور پر جب جیلوں کا دورہ کرنے کی قبل از وقت اطلاع ہوتی ہے تو میڈیکل افسر صحت مند قیدیوں کو فوری طور پر بیرکس میں شفٹ کر دیتے ہیں چنانچہ جیسے ہی دورہ ختم ہوتا ہے چند گھنٹوں بعد انہیں دوبارہ ہسپتال میں داخل کر لیتے ہیں۔ جیلوں کے ہسپتال جہاں قیدیوں کے لئے علاج معالجہ کے لئے بہت بڑی سہولت ہے وہاں جیلوں میں تعینات ڈاکٹروں کے لئے آمدن کا بہت بڑا ذریعہ بھی ہیں۔ اب تھوڑا ذکر سینٹرل جیل اڈیالہ کا کروں گا جہاں ساجد بیگ سپرنٹنڈنٹ تعینات ہیں جنہوں نے بتایا جیل ہسپتال میں اب قیدیوں کے لئے بلڈ کے مختلف ٹیسٹ کرانے کیلئے لیب کی سہولت موجود ہے اور جیل میں ایک سے زیادہ میڈیکل آفیسر ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا منشیات اور دیگر جرائم میں قصوری بلاک میں بند ہونے والوں اور بیرون جیل ملاقاتیوں سے لین دین کرنے والوں کے لئے معافی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ لنگر خانے بارے انہوں نے ازخود بتایا قیدیوں کے لئے کھانے کے معیار کو پہلے سے بہتر کر دیا گیا ہے۔

جواب دیں

Back to top button