پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
پاکستان اس وقت ایک غیر معمولی علاقائی اور عالمی بحران کے اثرات سے گزر رہا ہے۔ ایران سے جڑی جنگی صورت حال نے نہ صرف عالمی معیشت کو متاثر کیا بلکہ توانائی کے شعبے میں شدید ہلچل پیدا کردی ہے۔ خام تیل کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ اور سپلائی چین میں خلل نے دنیا بھر کی حکومتوں کو سخت فیصلے کرنے پر مجبور کیا ہے۔ ایسے میں پاکستان کی حکومت کی جانب سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ ایک مشکل مگر ناگزیر فیصلہ دکھائی دیتا ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کی مشترکہ پریس کانفرنس میں اس فیصلے کا اعلان کیا گیا، جس میں واضح کیا گیا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں ریکارڈ سطح تک پہنچ چکی ہیں۔ جب خام تیل 250ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر جائے تو کسی بھی ترقی پذیر ملک کے لیے پرانی قیمتوں کو برقرار رکھنا ممکن نہیں رہتا۔ ایسے حالات میں اگر حکومت مصنوعی طور پر قیمتیں کم رکھتی تو اس کا بوجھ براہ راست قومی خزانے پر پڑتا اور معیشت مزید بحران کا شکار ہوسکتی تھی۔ یہ حقیقت بھی مدنظر رکھنی چاہیے کہ پاکستان پہلے ہی مالی دبا کا شکار ہے اور آئی ایم ایف جیسے عالمی اداروں کے ساتھ معاہدوں کا پابند ہے۔ ان معاہدوں کے تحت حکومت پر لازم ہے کہ وہ توانائی کے شعبے میں غیر ضروری سبسڈی ختم کرے اور قیمتوں کو عالمی سطح کے مطابق رکھے۔ ایسے میں حکومت کے پاس محدود آپشنز تھے اور قیمتوں میں اضافہ ایک حقیقت پسندانہ اقدام کے طور پر سامنے آیا۔ تاہم اس فیصلے کا ایک اہم اور مثبت پہلو یہ ہے کہ حکومت نے مکمل طور پر عوام پر بوجھ منتقل کرنے کے بجائے ’’ ٹارگٹڈ سبسڈی‘‘ کی حکمت عملی اپنائی ہے۔ یہ ایک جدید اور مثر معاشی پالیسی سمجھی جاتی ہے جس کے تحت صرف مستحق اور کم آمدن والے طبقات کو ریلیف دیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر موٹرسائیکل استعمال کرنے والوں کو محدود مقدار میں پٹرول پر سبسڈی دینا، انٹرسٹی پبلک ٹرانسپورٹ کو ڈیزل پر رعایت فراہم کرنا اور گڈز ٹرانسپورٹ کے لیے ماہانہ سبسڈی مقرر کرنا ایسے اقدامات ہیں جو براہ راست عام آدمی کو ریلیف دینے کی کوشش ہیں۔ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ حکومت نے ریلوے کے کرایوں کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے سبسڈی دینے کا اعلان کیا ہے، جو عوامی نقل و حمل کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اس طرح کے اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ حکومت صرف قیمتیں بڑھانے تک محدود نہیں بلکہ ساتھ ہی منفی اثرات کو کم کرنے کے لیے متوازن حکمت عملی اختیار کررہی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اس صورتحال کو ایک قومی چیلنج قرار دیتے ہوئے اتحاد، یکجہتی اور مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کی قیادت میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاسوں میں نہ صرف وفاقی کابینہ بلکہ صوبائی حکومتوں، عسکری قیادت اور دیگر اہم اسٹیک ہولڈرز کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت اس بحران کو سنجیدگی سے لے رہی ہے اور اجتماعی فیصلوں کے ذریعے آگے بڑھنا چاہتی ہے۔ مزید برآں، سید عاصم منیر اور اسحاق ڈار کی سفارتی سرگرمیاں بھی اس امر کی عکاسی کرتی ہیں کہ پاکستان نہ صرف داخلی طور پر بحران سے نمٹ رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی امن کے قیام کے لیے کردار ادا کر رہا ہے۔ اگر خطے میں کشیدگی کم ہوتی ہے تو اس کے مثبت اثرات براہ راست معیشت اور توانائی کی قیمتوں پر بھی مرتب ہوں گے۔ حکومت کی جانب سے کفایت شعاری مہم کا آغاز بھی ایک اہم قدم ہے۔ کابینہ ارکان کی تنخواہوں میں کٹوتی، غیر ضروری ترقیاتی منصوبوں کو مخر کرنا اور سرکاری اخراجات میں کمی جیسے اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حکومت خود بھی قربانی دے رہی ہے اور صرف عوام سے ہی توقع نہیں رکھ رہی۔ وزیراعظم کا یہ بیان کہ ’’ اشرافیہ کو قربانی دینا ہوگی‘‘ ایک اہم پالیسی پیغام ہے جو معاشی انصاف کے اصول کو تقویت دیتا ہے۔ یہ امر بھی قابل غور ہے کہ حکومت نے اب تک اربوں روپے کا مالی بوجھ خود برداشت کیا ہے تاکہ فوری عوام پر مکمل دباؤ نہ پڑے۔ لیکن طویل مدت میں یہ حکمت عملی برقرار رکھنا ممکن نہیں ہوتا، اسی لیے مرحلہ وار قیمتوں میں ایڈجسٹمنٹ کی گئی ہے۔ ناقدین کی جانب سے یقیناً اس فیصلے پر تنقید کی جارہی ہے، کیونکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست مہنگائی کو بڑھاتا ہے۔ ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی دیگر اشیاء کی قیمتیں بھی متاثر ہوتی ہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ موجودہ حالات میں کوئی بھی حکومت مکمل طور پر عوام کو اس عالمی بحران سے بچانے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ اصل سوال یہ نہیں کہ قیمتیں کیوں بڑھیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا حکومت نے اس بحران کو کم سے کم نقصان کے ساتھ سنبھالنے کی کوشش کی؟ موجودہ پالیسیوں کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ حکومت نے ایک متوازن راستہ اختیار کیا ہے، جہاں ایک طرف عالمی تقاضوں کو پورا کیا جارہا ہے، وہیں دوسری طرف کمزور طبقات کو سہارا دینے کی کوشش بھی جاری ہے۔ آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ یہ وقت سیاسی اختلافات کو پس پشت ڈال کر قومی مفاد کو ترجیح دینے کا ہے۔ حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں پر شفافیت برقرار رکھے اور سبسڈی کے نظام کو موثر اور کرپشن سے پاک بنائے۔ اسی طرح عوام کو بھی چاہیے کہ وہ اس مشکل وقت میں صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور توانائی کے استعمال میں احتیاط برتیں۔ اگر حکومت اپنی موجودہ حکمت عملی کو مستقل مزاجی اور دیانتداری کے ساتھ جاری رکھتی ہے اور عالمی حالات میں بہتری آتی ہے، تو امید کی جا سکتی ہے کہ یہ مشکل وقت بھی گزر جائے گا اور معیشت دوبارہ استحکام کی جانب گامزن ہوگی۔
دراندازی ناکام: 8دہشت گرد ہلاک
شمالی وزیرستان میں پاک افغان سرحد کے قریب سیکیورٹی فورسز کی جانب سے دراندازی کی کوشش ناکام بناتے ہوئے آٹھ دہشت گردوں کو ہلاک کرنا ایک اہم اور بروقت کارروائی ہے، جو نہ صرف ملکی دفاعی صلاحیت کی مظہر ہے، بلکہ اس عزم کی عکاسی بھی کرتی ہے کہ پاکستان اپنی سرحدوں کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ کارروائی خفیہ اطلاعات اور پیشہ ورانہ مہارت کی بنیاد پر کی گئی، جس میں بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کو موثر انداز میں نشانہ بنایا گیا۔ یہ واقعہ اس امر کی نشان دہی کرتا ہے کہ پاکستان کو اب بھی غیر روایتی جنگی خطرات کا سامنا ہے، جہاں دشمن عناصر براہ راست تصادم کے بجائے پراکسی گروپس کے ذریعے عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ’’ فتنہ الخوارج‘‘ جیسے گروہ نہ صرف ملک کے امن کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ بیرونی ایجنڈے کی تکمیل کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔ ایسے عناصر کے خلاف فوری اور سخت کارروائی وقت کی اہم ضرورت ہے، جسے سیکیورٹی فورسز نے بخوبی پورا کیا۔صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے فورسز کو خراج تحسین پیش کرنا نہ صرف ان کی حوصلہ افزائی ہے بلکہ قومی سطح پر اس بیانیے کو بھی تقویت دیتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم اپنی افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔ اس کارروائی کا ایک اور اہم پہلو پاک افغان سرحدی صورتحال ہے۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے یہ موقف کہ افغان عبوری حکومت سرحدی نظم و نسق کو موثر بنانے میں ناکام رہی ہے، ایک سنجیدہ سفارتی اور سکیورٹی چیلنج کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس تناظر میں ضروری ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دیا جائے تاکہ سرحد کو دہشت گردوں کی نقل و حرکت کے لیے استعمال ہونے سے روکا جا سکی۔ یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ اگرچہ پاکستان نے گزشتہ برسوں میں بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں، لیکن ایسے واقعات اس بات کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ چوکسی اور مسلسل کارروائی ناگزیر ہے۔ سیکیورٹی اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیت، بروقت انٹیلی جنس اور قومی یکجہتی ہی اس خطرے کا موثر جواب ہیں۔ آخر میں، یہ کہنا بجا ہوگا کہ اس کامیاب کارروائی نے ایک واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور سلامتی کے دفاع کے لیے ہر حد تک جانے کو تیار ہے اور کسی بھی قسم کی دراندازی یا دہشت گردی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔







