’’ میڈورو فلیسی‘‘

’’ میڈورو فلیسی‘‘
قادر خان یوسف زئی
آبنائے ہرمز کے نیلگوں مگر مضطرب پانیوں میں آج جو تلاطم برپا ہے، وہ محض چند بحری جہازوں کے پہیے رکنے یا تیل کی ترسیل کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ ایک ایسی عالمی بساط ہے جہاں صدیوں پرانی تاریخ اور جدید سپر پاورز کی حکمت عملی آپس میں ٹکرا رہی ہے۔ جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ انتہائی رعونت اور بے نیازی سے یہ اعلان کرتے ہیں کہ واشنگٹن کو ہرمز سے تیل کی قطعی ضرورت نہیں اور جن ممالک کو اس کی ضرورت ہے، وہ خود جا کر اس کی حفاظت کریں، تو یہ محض ایک سیاسی بیان نہیں ہوتا۔ یہ دراصل عالمی سلامتی کے اس پرانے اور فرسودہ معاہدے کی موت کا ببانگ دہل اعلان ہے جس نے کئی دہائیوں تک خلیج فارس میں امریکی تسلط کو قائم رکھا تھا۔ صدر ٹرمپ کا یہ دو ٹوک رویہ مشرق وسطیٰ کو ایک ایسے ہیبت ناک اسٹریٹجک خلا کی جانب دھکیل رہا ہے، جس کی گونج ہمیں ماضی کے تاریک اور خون آشام ابواب میں سنائی دیتی ہے۔
یہ امریکی انخلا اور مبہم جنگ کا وہ خاکہ ہے جو اس سے قبل ویتنام، عراق اور حال ہی میں افغانستان میں اپنی ناکامی کا لوہا منوا چکا ہے۔ عسکری اور تزویراتی حکمت عملی کے ان تجزیوں میں یہ زمینی حقیقت واضح کی گئی ہے کہ محض بے تحاشا فضائی بمباری اور دور مار میزائلوں سے اہداف کو نشانہ بنانے سے کوئی دیرپا سیاسی اور پائیدار حل نہیں نکلتا۔ اسے ماہرین کی زبان میں ’’ میڈورو فلیسی‘‘ (Maduro Fallacy)قرار دیا جاتا ہے،یعنی یہ خام خیالی کہ طاقت کا اندھا دھند استعمال کسی بھی ملک کے نظریے اور اندرونی ریاستی نظام کو زمین بوس کر دے گا۔ اگر امریکا آج ایک کھوکھلی، اعلانیہ فوجی فتح کا جشن منا کر اس خطے سے رخصت ہو جاتا ہے، تو یہ دراصل ایک ایسا گہرا اور وسیع خلا پیدا کرے گا جو امن کی کوئی ضمانت نہیں دے سکتا، بلکہ خطے کو ایک طویل اور بھیانک علاقائی پراکسی وار کی بھٹی میں ہمیشہ کے لیے جھونک دے گا۔
اس ساری جیو پولیٹیکل کشمکش میں سب سے زیادہ کڑا اور اذیت ناک امتحان خلیج کی ان معصوم اور تزویراتی اعتبار سے اہم عرب ریاستوں کا ہے جو عشروں سے امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں۔ تہران کا سب سے بڑا اور غیر متزلزل مطالبہ یہی ہے کہ عرب ممالک اپنے ہاں موجود امریکی فوجی اڈوں کو فوری اور مکمل طور پر خالی کرائیں۔ اب ذرا اس خوفناک منظر نامے کا تصور کریں۔ ایک طرف صدر ٹرمپ ہیں جو خلیجی تیل سے بے نیازی کا طعنہ دے رہے ہیں اور دوسری طرف ایران ہے جو اپنی پوری عسکری اور غیر روایتی طاقت کے ساتھ ان کی دہلیز پر کھڑا ہے۔ عرب ریاستیں اس وقت دو دھاری تلوار پر ننگے پاں چل رہی ہیں۔ اگر وہ ایران کے دبا میں آ کر اپنے ہاں سے امریکی اڈوں کو ختم کرتی ہیں، تو وہ خطے میں مکمل طور پر ایرانی بالادستی کے رحم و کرم پر ہوں گی، اور ان کا اپنا ریاستی وقار مجروح ہوگا۔ دوسری جانب، اگر وہ ان اڈوں کو برقرار رکھنے کی ضد کرتی ہیں، تو ایک ایسے ناقابل اعتبار امریکی اتحادی کے سہارے پر ہوں گی جو کسی بھی وقت انہیں تنہا اور لاوارث چھوڑ سکتا ہے۔
یہ وہ سنگین مخمصہ ہے جس نے خلیج تعاون کونسل کی فیصلہ سازی کو مفلوج کر دیا ہے۔ اس سنگین اور پیچیدہ عالمی بحران میں دنیا کے چوٹی کے تھنک ٹینکس، جن میں اٹلانٹک کونسل اور چیتھم ہائوس جیسے نمایاں ادارے شامل ہیں، کچھ غیر معمولی اور چشم کشا تجاویز پیش کر رہے ہیں۔ ان کا متفقہ مشورہ ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر ایک مربوط علاقائی سیکیورٹی کا ڈھانچہ تشکیل دیا جانا چاہیے، نہ کہ تنہا پرواز کی جائے۔ اسی مشورے کی واضح بازگشت ہمیں اس 35ملکی بحری اتحاد میں نظر آتی ہے جس کی قیادت برطانیہ کر رہا ہے تاکہ آبنائے ہرمز کی بند شریانوں کو دوبارہ کھولا جا سکے، اور یہ سب کچھ نیٹو کے روایتی دائرہ کار سے بالکل باہر رہ کر کیا جا رہا ہے۔ یورپی اور ایشیائی ممالک، جو اس وقت توانائی کی قلت کے عذاب سے گزر رہے ہیں، انہیں اب خود اپنی بقا کی جنگ لڑنی ہے۔ جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک، جو آئینی طور پر اپنی افواج کو بیرون ملک جنگی مقاصد کے لیے بھیجنے سے قاصر ہیں اور اپنے تیل کا پچانوے فیصد مشرق وسطیٰ سے لیتے ہیں، ایک عجیب بے بسی کا شکار ہیں۔
اگر ہم اس عالمی شطرنج کی بساط پر مزید گہری نظر ڈالیں تو ایک انتہائی غیر معمولی اور حیران کن پیش رفت یوکرین کی جانب سے سامنے آئی ہے۔ یوکرین نے پیشکش کی ہے کہ وہ اپنے جدید نیول ڈرونز، جنہوں نے بحیرہ اسود میں روسی بیڑے کو تباہ کیا تھا، ہرمز میں ایرانی کشتیوں کے خلاف استعمال کرنے کے لیے فراہم کر سکتا ہے۔ یہ ایک ایسا زمینی حقائق پر مبنی پہلو ہے جو جنگ کے روایتی تصورات کو بدل رہا ہے۔ دوسری جانب اس پوری صورتحال کے دو خاموش مگر واضح فاتح روس اور چین ہیں۔ مغربی پابندیوں کا شکار روس اس وقت تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے روزانہ اربوں ڈالر سمیٹ رہا ہے جو اس کی یوکرین جنگ کی معیشت کے لیے آکسیجن کا کام کر رہا ہے۔ بیجنگ دور بیٹھا یہ تماشا دیکھ رہا ہے کہ امریکا کس طرح ایک اور مشرق وسطیٰ کی دلدل میں غرق ہو رہا ہے۔ اس سارے دھندلے اور سلگتے منظر نامے میں پاکستان کی ثالثی کی کوششیں بھی ایک انتہائی نازک اور کٹھن موڑ پر ہیں۔ اسلام آباد اور فوجی قیادت اگرچہ اس ہولناک خلیجی جنگ کو روکنے کے لیے ایک مضبوط پل کا کردار ادا کرنے کی سرتوڑ کوشش کر رہے ہیں، لیکن خود پاکستان کے داخلی حالات، جیسے فتنہ الخوارج کی دہشت گرد کارروائیاں اور سرحدوں پر منڈلاتے سیکیورٹی اور پناہ گزینوں کے خدشات، اس اعصاب شکن سفارتی مہم کو شدید خطرات سے دوچار کر رہے ہیں۔
آبنائے ہرمز کا یہ بحران محض تیل کے چند ٹینکروں کے رکنے کا نام قطعی نہیں ہے۔ یہ اس تلخ حقیقت کا استعارہ ہے کہ جب سپر پاورز اپنے مفادات سمیٹ کر اچانک پیچھے ہٹتی ہیں، تو وہ اپنے پیچھے ایک ایسا بھڑکتا ہوا الائو اور کھنڈر چھوڑ جاتی ہیں جسے بجھانا اور سنوارنا مقامی ریاستوں کے بس میں نہیں رہتا۔ نامکمل انخلا اور ادھوری جنگوں کی یہ المناک داستان، چاہے وہ کابل کے گرد اڑتی ہوئی گرد ہو، بغداد کی بارود سے چھلنی گلیاں ہوں، یا اب خلیج فارس کا یہ کھولتا ہوا پانی، ہمیشہ ایک ہی عبرت ناک انجام کی نوید دیتی ہے۔ دائمی عدم استحکام، لاپتہ امن، اور ایک ایسی جنگ جس کا کوئی منطقی اور حتمی انجام نہیں ہوتا۔ عرب ریاستوں، ایشیا، اور یورپ کو اب اس کڑوے اور سنگین سچ کا پامردی سے سامنا کرنا ہی ہوگا کہ مستقبل میں انہیں اپنی بقا اور سلامتی کی جنگیں خود لڑنی ہیں، کیونکہ واشنگٹن کی وہ نام نہاد حفاظتی چھتری اب مزید ان کے سروں پر تنی ہوئی نہیں ہے۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا امریکہ اپنی ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتا ہے یا پھر تیل پیداوار میں آمدنی کے نام پر دنیا کو تنازعات میں جھونکتا ہے۔





