Column

بنا بیضہ، بنا حمل بچے:IVG ٹیکنالوجی کے پسِ پردہ چھپے بھیانک حقائق

نہال ممتاز:
سائنس کی دنیا میں روزِ نو ایک ایسا ہنگامہ برپا ہوتا ہے جو انسانی عقل کو ورطہِ حیرت میں ڈال دیتا ہے مگر حالیہ دنوں میں انسانی بیضہ دانی کے بغیر افزائشِ نسل کے حوالے سے سامنے آنے والی تحقیق نے ایک ایسا طوفان کھڑا کر دیا ہے جس نے اخلاقیات اور فطرت کے مروجہ تصورات کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ لیبارٹری میں تیار کردہ مصنوعی بیضوں یعنی آئی وی جی نامی ٹیکنالوجی نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اب انسان کو اپنی نسل آگے بڑھانے کے لیے ان فطری تقاضوں کا محتاج نہیں رہنا پڑے گا جو کروڑوں سال سے اس سیارے پر زندگی کی بقا کی بنیاد رہے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کا بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ انسانی جسم کے کسی بھی عام خلیے، جیسے جلد یا خون کے نمونے کو دوبارہ سے اس حالت میں لایا جائے جہاں سے اسے بیضے کی شکل دی جا سکے اور پھر اسے مصنوعی طریقے سے بار آور کر کے ایک مکمل انسانی وجود کی تخلیق ممکن بنائی جا سکے۔ بظاہر یہ طبی میدان میں ایک عظیم جست محسوس ہوتی ہے کیونکہ یہ ان بے اولاد جوڑوں کے لیے ایک آخری امید ہے جو طبی پیچیدگیوں کی وجہ سے اولاد کی نعمت سے محروم ہیں، لیکن اگر اس کے پردے کے پیچھے چھپے حقائق اور مستقبل کے نقشے پر نظر دوڑائی جائے تو ایک لرزہ خیز تصویر سامنے آتی ہے۔
​یہ محض بانجھ پن کا علاج نہیں ہے بلکہ یہ قدرت کے وضع کردہ اس جینیاتی تنوع اور انتخاب کے نظام کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش ہے جسے ابھی تک انسانی مداخلت سے پاک سمجھا جاتا تھا۔ جب انسان کے پاس یہ طاقت آ جائے گی کہ وہ سینکڑوں کی تعداد میں مصنوعی بیضے تیار کر سکے تو اس کے نتیجے میں ایمبریو کی ایک ایسی فیکٹری کھل جائے گی جہاں والدین اپنی پسند کے مطابق جینیاتی خصوصیات کا انتخاب کریں گے۔ یہاں سے وہ سفر شروع ہوتا ہے جسے ہم ڈیزائنر بچوں کی دنیا کہہ سکتے ہیں، جہاں ذہانت، قد و کاٹھ اور ظاہری خوبصورتی کو کسی مینو کارڈ کی طرح منتخب کیا جائے گا۔ یہ عمل انسانیت کو ایک ایسی خطرناک سمت میں دھکیل سکتا ہے جہاں صرف "بہترین” جینیات والے بچوں کو جینے کا حق دیا جائے گا اور معذوری یا کمزوری کے حامل ایمبریو کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا جائے گا، جس سے انسانی ہمدردی اور فطری تنوع کا خاتمہ یقینی ہے۔
​اس ٹیکنالوجی کے سماجی اثرات اس سے بھی زیادہ گہرے اور پریشان کن ہو سکتے ہیں کیونکہ یہ خاندانی نظام کی جڑوں پر وار کرتی ہے۔ جب زندگی کی شروعات کسی پاکیزہ انسانی تعلق کے بجائے ٹیسٹ ٹیوب اور کیمیکلز کے مرہونِ منت ہو جائے گی تو ممتا اور پدری شفقت کے وہ معنی نہیں رہیں گے جو آج ہماری تہذیب کا خاصہ ہیں۔ سنسنی خیز پہلو یہ بھی ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے عام ہونے سے انسانی خلیات کی چوری کا ایک نیا بازار گرم ہو سکتا ہے جہاں کسی کی بھی مرضی کے بغیر اس کے ڈی این اے سے لیبارٹری میں بچہ تیار کیا جا سکے گا۔ یہ تصور ہی روح کو لرزا دینے کے لیے کافی ہے کہ مستقبل میں انسان کی شناخت محض ایک جینیاتی کوڈ بن کر رہ جائے گی جسے کسی بھی وقت تبدیل یا ری پروڈیوس کیا جا سکے گا۔ سائنسدان اگرچہ اس پر فخر کر رہے ہیں کہ انہوں نے چوہوں پر اس کا کامیاب تجربہ کر لیا ہے، مگر انسان کوئی حیاتیاتی مشین نہیں ہے کہ جس کے پرزے جب چاہیں لیبارٹری میں تیار کر لیے جائیں۔
​آنے والے بیس سالوں میں اگر یہ ٹیکنالوجی عام مارکیٹ میں دستیاب ہو گئی تو یہ طب سے زیادہ ایک ایسی صنعت بن جائے گی جہاں زندگی کی خرید و فروخت ہوگی۔ وہ عورتیں جو کینسر یا عمر کے باعث ماں بننے کی صلاحیت کھو چکی ہیں، ان کے لیے یہ یقیناً ایک معجزہ ہو سکتا ہے لیکن کیا ہم اس ایک فائدے کے بدلے پوری انسانیت کو جینیاتی تجربہ گاہ بنانے کا خطرہ مول لے سکتے ہیں؟ اخلاقی ماہرین چیخ چیخ کر یہ سوال کر رہے ہیں کہ کیا انسان اب خدا بننے کی کوشش کر رہا ہے؟ اس ٹیکنالوجی نے اس بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے کہ کیا ہر وہ کام جو سائنس کی مدد سے ممکن ہے، اسے اخلاقی طور پر درست بھی تسلیم کیا جانا چاہیے؟ اگر ہم نے آج ان حدود کا تعین نہ کیا تو مستقبل کی نسلیں شاید ہمیں معاف نہ کریں کیونکہ ہم نے ان کی آمد کے فطری راستے کو ایک صنعتی عمل میں تبدیل کر دیا ہوگا۔ یہ کالم اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ سائنسی ترقی بلاشبہ ناگزیر ہے مگر جب یہ ترقی فطرت کے بنیادی اصولوں سے ٹکراتی ہے تو انسانیت کا توازن بگڑ جاتا ہے اور مصنوعی بیضوں کی یہ کہانی اسی توازن کے بگڑنے کی پہلی سنگین دستک ہے۔

جواب دیں

Back to top button