صرف ایک بیلاسٹک میزائل

صرف ایک بیلاسٹک میزائل
صورتحال
سیدہ عنبرین
دلہن بیاہ کر گھر آئی، مہینے سے سوا مہینہ ہو گیا، ہتھیلی پر سرسوں جمانے والوں کی باچھیں کھل گئیں، میٹھائیاں بانٹ دی گئیں، مبارکیں ملنے لگیں، جب امید سے ہونے کا ڈھنڈورا پٹ چکا تو روز اول کرنے والا کام کرنے کا خیال آیا، ڈاکٹر کے پاس کشاں کشاں پہنچے، اس نے مفصل معائنے کے بعد رپورٹ دی ’’ کچھ نہیں بس ہوا تھی‘‘، سب منہ لٹکائے گھر کو لوٹے۔ جو جنگ بند کرانے میں پیش پیش تھے، ان کے ساتھ کچھ ایسا ہی ہوا ہے۔ ایک ہفتے میں دو مرتبہ ڈاکٹر نے بتایا ’’ بس ہوا ہی تھی‘‘، پاکستان میں چار ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ختم ہوا تو چین سے بلاوا آ گیا، فوراً پہنچنے کو کہا گیا، وزیر خارجہ پاکستان شکستہ بازو کے ساتھ چین پہنچ گئے۔ چینی قیادت سے ملاقات ختم ہوئی، اس ملاقات کا احوال جاننے کے بعد چینیوں نے بتایا کہ کرنے والے کام کیا ہیں اور طریقہ کار کیا ہو گا، چینی پرچی پڑھے بغیر ہی ڈھول پیٹنا شروع کر دیا کہ بس ہو گیا، ہو گیا، کام ہو گیا، ڈھول کا شور ختم ہوا تو پرچی کو بار دگر پڑھنے کے بعد معلوم ہوا اس معاملے میں بھی بس ہوا تھی۔ چینیوں نے بتایا کہ جنگ بندی کیسے ہو گی، انہوں نے اصولی اتفاق کے بعد واضع کیا اقوام متحدہ کے فورم پر جائیں، جاری جنگ گلی کی دو عورتوں کی لڑائی نہیں ہے، اس میں دو ایٹمی طاقتوں نے ایسے ملک پر بلاجواز حملہ کیا ہے جو قریباً پچاس برس سے خاموش بیٹھا تھا۔ پابندیوں میں جکڑا ایران کسی کیلئے خطرہ نہ تھا، وہ عالمی ایٹمی ایجنسی سے تعاون کر رہا تھا، اور جب کہا جاتا اپنی ایٹمی صلاحیت اور کارکردگی کی رپورٹ پیش دیتا، جب کہا جاتا ضروری معائنہ بھی کرا دیتا، جبکہ امریکہ اور اسرائیل نے بدنیتی پر مبنی ایجنڈے کی تکمیل کیلئے شیر اور میمنے کی کہانی دہراتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ نشیب میں کھڑا میمنہ بلندی کی طرف آنے والے پانی کو خراب کر رہا ہے۔ معصوم میمنہ وضاحیتیں دیتا رہا، لیکن کسی نے اس کی نہ سنی اور اس پر حملہ کر دیا۔ اللہ تعالیٰ کی مہربانی ہوئی اور میمنے کو دو لمبے اور نوکیلے سینگ راتوں رات مل گئے، اس کے کمزور دانتوں اور جبڑے کو حیرت انگیز طاقت مل گئی، اب میمنے نے ایک دشمن کو گلے سے پکڑا رکھا ہے، جبکہ دوسرے کے پیٹ میں اپنے سینگ اتار رکھے ہیں۔ حملہ آور کی چیخیں بلند ہوئیں تو اپنی اپنی بلوں میں چھپے باہر نکلے، اب وہ عالمی امن کو درپیش خطرات سے آگاہ ہوئے ہیں، اور جنگ بندی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں، کچھ تو ایسے ہیں جو جنگ کے شعلوں کو بھڑکانہ چاہتے ہیں، کچھ حملہ آور کی شرائط پر جنگ بند کرا کے حق خدمت وصول کرنا چاہتے ہیں، وہ بھولے بیٹھے ہیں کہ جنگ بندی فاتح کی شرائط ہوتی ہے، یہی کام کی بات چین نے سمجھائی ہے کہ خواہ مخواہ آبنائے ہرمز کے پانیوں پر ڈکیتی کا منصوبہ نہ بنائیں، نہ ہی اس میں حصہ بٹورنے پر توجہ دیں، اور ایران کے پیش کردہ نکات پر غور فرمائیں۔ اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ آج جاری جنگ ختم ہونے اور سانسیں بحال ہونے کے بعد ایران پر نیا حملہ نہیں ہو گا۔ امریکہ اور اسرائیل پر گزشتہ برس جان کنی کا عالم طاری ہو چکا تھا، اس نے بہانے سے جنگ بندی کرائی، پھر نئی تیاری کے ساتھ حملہ کر دیا، یہ کھیل ہمیشہ کیلئے بند ہونا چاہئے، تاوان جنگ ملنا چاہئے اور قریباً نصف صدی سے ایران کے امریکہ کی طرف سے منجمد کئے گئے کئی سو ارب ڈالر مع منافع واپس ملنے چاہئیں۔ امریکہ جنگ کا خرچہ حربہ عربوں پر ڈالنا چاہتا ہے، جو درست نہیں۔
امریکہ اپنی تمام شرائط بھول کر اب فوراً جنگ بندی چاہتا ہے، اس کی بڑی وجہ اس کی ناجائز اولاد اسرائیل کے ساتھ ساتھ اس کی اپنی شکست ہے۔ یہ ایران کی تاریخی کامیابی ہے۔ اسے جنگ بندی کے نام پر چھیننے کی کوششیں شرمناک ہیں، آج دونوں درندے قابو آئے ہیں، مفتے میں آزاد ہو گئے تو پھر مشکل سے قابو آئیں گے، وہ اپنی جان چھڑانے کیلئے وقتی جنگ بندی کا جھانسہ دیتے رہے ہیں، لیکن انہوں نے اپنے حملے جاری رکھے۔ وہ آج بھی ایرانی جزیرے پر قبضہ کرنے کیلئے آخری آپشن کے طور پر وہاں ہزاروں کی تعداد میں اپنی فوج اتارنے کے منصوبے کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کو آج بھی ایسی ٹرافی کی تلاش ہے جسے دکھا کر وہ امریکی و اسرائیلی عوام کو مطمئن کر سکیں اور دنیا کو دکھا سکیں کہ انہیں اپنے مقصد میں کامیابی مل گئی ہے۔ ایران کھلی آنکھوں سے اس منصوبے اور اس کی تیاریوں کو دیکھ رہا ہے کہ اسے کسی طرف سے مدد کی امید یا ضرورت نہیں، لیکن لاکھوں کی تعداد میں چیچنیا کے مضبوط باہیں رکھنے والے جانباز اس کی نصرت کیلئے پہنچ سکتے ہیں، اسی طرح یمن کی طرف بھی بہت بڑی تعداد میں مجاہدین آخری ضرب لگانے کیلئے ایران پہنچنے میں دیر نہیں لگائیں گے۔ امریکی جرنیل متعدد موقعوں پر امریکی صدر کو ایران میں فوج اتارنے کے خودکش مشن سے باز رہنے کا مشورہ دے چکے ہیں، ان میں ڈونلڈ ٹرمپ کے منظور نظر جنرل ڈین کین سرفہرست ہیں، وہ بطور لیفٹیننٹ جنرل ریٹائر ہو کر گھر جا چکے تھے، لیکن امریکی صدر نے انہیں اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے گھر سے بلا کر فوج کا سربراہ بنایا اور ان سے پہلے موجود اصول پسند جرنیل کو گھر بھیج دیا۔ ٹرمپ کا خیال تھا کہ جنرل ڈین کین ہر معاملے میں ان کی ہاں میں ہاں ملائیں گے، لیکن حیرت انگیز طور پر وہ انتہائی سختی سے اصولوں پر جمے رہے، انہوں نے کسی بھی معاملے میں ٹرمپ کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے کوئی جھوٹ نہیں بولا، بلکہ جنگ شروع ہونے اور جنگ کے درمیان جب بھی انہیں مشورے کیلئے طلب کیا گیا تو انہوں نے ٹرمپ کو جنگ شروع نہ کرنے، اور اب اسے فوراً ختم کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے جنرل ڈین کین سے پوچھا کہ وہ اچانک جنگ کیسے ختم کر سکتے ہیں، تو انہوں نے نہایت سنجیدگی سے مشورہ دیا کہ یہ بہت آسان ہے، جس طرح پہلی گولی چلانے کا حکم دے کر جنگ شروع کی جاتی ہے، اسی طرح ایک پریس کانفرنس میں بیٹھ کر جنگ ختم کرنے کا اعلان کیا جا سکتا ہے، اور جنگ بند کرنے کے اعلان کے ساتھ ضروری نہیں کہ میڈیا نمائندوں کے سوالوں کا جواب دیا جائے، جو حالات و واقعات کامیابیوں اور ناکامیوں کے بخیئے ادھیڑ دیتے ہیں اور دنیا کو اصل چہرہ دکھا دیتے ہیں۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ امریکی صدر کو اپنے جرنیل کا مشورہ پسند آتا ہے یا نہیں، اور وہ جنگ بندی کیلئے کیا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔
امریکی فوج اگر خارگ جزیرے میں اتری تو اس کا وہی حال ہو گا جو غیر متوقع تعداد میں باراتیوں کے آنے سے ایک بکرے کا ہوتا ہے، سب کے حصے میں ایک ایک بوٹی آتی ہے، جبکہ بعض کو تو یہ ایک بوٹی بھی نہیں ملتی۔ امریکیوں کی تکہ بوٹی ہو جائے گی۔ پچاس ہزار امریکی فوج کیلئے ایک بیلاسٹک میزائل کافی ہو گا۔ چین نے پاکستان کو افغانستان کے ساتھ حالت جنگ ختم کرنے کا مشورہ دیا ہے۔





