ColumnQadir Khan

عرب ممالک کے لیے جنگ ایک مسلط کردہ عذاب

عرب ممالک کے لیے جنگ ایک مسلط کردہ عذاب
قادر خان یوسف زئی
امریکہ اور اسرائیل کا مشترکہ طور پر ایران کے خلاف ’’ آپریشن ایپک فیوری‘‘ اور ’’ آپریشن رورنگ لائن‘‘ کے نام سے ایک ہولناک فوجی کارروائی نے نہ صرف خطے کے جغرافیائی و سیاسی منظر نامے کو یکسر تبدیل کر دیا بلکہ عالمی معیشت کی نازک بنیادوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔ یہ جنگ بظاہر تو ایران کی جوہری تنصیبات اور میزائل صلاحیتوں کو کچلنے کے لیے شروع کی گئی تھی، لیکن اس کے اثرات محض ایک علاقائی تنازع تک محدود نہیں رہے۔ آج یہ تصادم عالمی طاقتوں کی رسہ کشی، توانائی کے شدید بحران، اور ایک نئی عالمی معاشی تباہی کا مرکز بن چکا ہے۔ یہ جنگ دراصل جون 2025ء کی ’’ بارہ روزہ جنگ‘‘ کے بعد پیدا ہونے والے عدم استحکام کا ہی تسلسل ہے۔اس جنگ کی سب سے بڑی ٹریجڈی اور المناک پہلو وہ سفارتی قتلِ عام ہے جو جنگی طیاروں کی پہلی اڑان کے ساتھ ہی وقوع پذیر ہوا۔ اس حملے سے عین قبل، مشرق وسطیٰ کی سیاست ایک انتہائی نازک مگر مثبت سمت میں گامزن تھی۔ ایران کی مشہورِ زمانہ ’’ رنگ آف فائر‘‘ کی جارحانہ پالیسی، جس کے تحت اس نے اسرائیل کے گرد حماس، حزب اللہ، اور حوثیوں جیسے پراکسی گروپس کا ایک گھیرا تنگ کر رکھا تھا، میں واضح اور ٹھوس تبدیلیاں آ رہی تھیں۔
تہران اپنی توجہ خطے کے عرب ممالک، خاص طور پر سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کی بہتری پر مرکوز کر رہا تھا، اور خلیجی ریاستوں کے ساتھ معاشی اور سفارتی بحالی کا ایک نیا اور پرامن باب شروع ہونے کو تھا۔ اسی دوران، عمان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان خفیہ مذاکرات بھی حتمی مراحل میں داخل ہو چکے تھے۔ ان مذاکرات میں ایران نے اپنے یورینیم کی افزودگی کو 3.67فیصد تک محدود کرنے اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA)کے معائنہ کاروں کو مکمل رسائی دینے کی پیشکش کی تھی۔ مگر اسرائیل اور امریکہ کے اس اچانک اور تباہ کن مشترکہ حملے نے امن کی ان تمام امیدوں اور سفارتی کاوشوں کو لمحوں میں راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا۔ یہ جنگ دراصل ایک سوچی سمجھی ’’ اسرائیلی سازش‘‘ اور ایک ایسا بچھایا گیا جال ہے جس میں امریکہ کو بڑی مہارت اور چابکدستی سے پھنسایا گیا۔ 7اکتوبر 2023ء کے بعد اسرائیلی قیادت نے یہ حتمی فیصلہ کر لیا تھا کہ محض خطرات کو قابو میں رکھنے یا ’’ موینگ دی گراس‘‘ (Mowing the Grass)کی پرانی پالیسی اب مزید قابلِ عمل نہیں رہی۔ اسرائیل خطے میں اپنی بالادستی قائم کرنے کے لیے ہر صورت ایران کی اسٹریٹجک طاقت کو کچلنا چاہتا تھا۔ اس مقصد کے حصول کے لیے اسرائیل نے ایک ایسا عسکری اور سفارتی جال بُنا جس نے امریکہ کو مشرق وسطیٰ کی اس خون آشام دلدل میں دوبارہ لا کھڑا کیا، حالانکہ امریکی پالیسی کا اصل اور دیرینہ محور چین اور انڈو پیسیفک کی طرف منتقل ہونا تھا۔ گو کہ اسرائیل خلیجی ممالک کو براہِ راست اس جنگ میں شامل کرنے اور ایران کے خلاف ایک مشترکہ محاذ بنانے میں بظاہر ناکام رہا ہے، لیکن اس نے ایران اور عرب ممالک کے درمیان پروان چڑھنے والی مفاہمت کو مکمل طور پر سبوتاع کر کے اپنا ایک بڑا ہدف ضرور حاصل کر لیا ہے۔
اس تنازع نے خلیجی ممالک کی تنظیم ( جی سی سی) کو ایک انتہائی پیچیدہ اور خطرناک صورتحال سے دوچار کیا۔ جنگ کا آغاز امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے کیا گیا، لیکن اس کی سب سے بھاری اور جلا دینے والی قیمت خلیجی ممالک اور بالخصوص عرب ریاستیں چکا رہی ہیں۔ ایران کی جانب سے کیے گئے جوابی حملوں کے ہوشربا اعداد و شمار اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں۔ ایک ماہ کے دوران ایران کے 83فیصد میزائل اور ڈرون حملے جی سی سی ممالک پر کیے گئے، جبکہ محض 17فیصد کا رخ اسرائیل کی جانب تھا۔ متحدہ عرب امارات سب سے زیادہ متاثر ہوا، جہاں 2187حملے ریکارڈ کیے گئے، کویت پر 951اور سعودی عرب پر 802ہلاکت خیز حملے ہوئے۔ ایران کا موقف اس حوالے سے دو ٹوک ہے کہ چونکہ ان عرب ممالک کی سرزمین پر امریکی فوجی اڈے موجود ہیں اور امریکہ مبینہ طور پر انہی اڈوں کو استعمال کرتے ہوئے ایران پر حملے کر رہا ہے، اس لیے یہ ممالک اس کی جوابی کارروائی کا جائز اور منطقی ہدف ہیں۔ یہ ایک تلخ ترین حقیقت ہے کہ اگر عرب ممالک میں یہ امریکی فوجی اڈے نہ ہوتے تو ایران کے پاس ان ریاستوں کو نشانہ بنانے کا نہ کوئی جواز ہوتا اور نہ ہی کوئی موقع۔
یہاں مشرق وسطیٰ کی سیاست ایک انتہائی عجیب اور مضحکہ خیز موڑ لیتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ امریکہ ان عرب ممالک سے اس مسلط کردہ جنگ کے اخراجات طلب کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ وہ عرب ممالک، جن کی معیشتیں اس جنگ کی تباہ کاریوں کی وجہ سے کھائی کے کنارے پر پہنچ چکی ہیں، اب امریکی بل کی ادائیگی کے ناجائز دبائو میں ہیں۔ وائٹ ہائوس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے واضح کیا ہے کہ صدر ٹرمپ اس بات میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں کہ عرب ممالک جنگ کے یہ ہوشربا اخراجات برداشت کریں، بالکل اسی طرح جیسے 1990ء کی دہائی میں خلیجی جنگ کے دوران کیا گیا تھا۔ واشنگٹن کی یہ عجیب منطق کہ چونکہ ایران کے خاتمے سے سب سے زیادہ فائدہ عرب ممالک کو ہی ہوگا، اس لیے انہیں یہ بھاری قیمت ادا کرنی چاہیے، خلیجی ریاستوں کے لیے کسی صریح ناانصافی اور بھتے سے کم نہیں۔ یاد رہے کہ امریکی پینٹاگون کی جانب سے کانگریس سے 200 ارب ڈالر کی خطیر رقم کا مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ اس جنگی مشین کو چلایا جا سکے، جس پر روزانہ ایک سے دو ارب ڈالر خرچ ہو رہے ہیں۔
عرب ممالک کے لیے یہ جنگ ایک مسلط کردہ عذاب ہے جس نے سعودی عرب کے ’’ ویژن 2030‘‘ جیسے کھربوں ڈالر کے معاشی منصوبوں اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے خوابوں کو شدید ٹھیس پہنچائی ہے۔ روزانہ اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانے کے بعد، اب امریکہ کا ان سے جنگ کے اخراجات ادا کرنے کا مطالبہ خطے میں امریکی ساکھ کو مزید اور شاید مستقل طور پر مجروح کر رہا ہے۔ اس معاشی تباہی کے اعداد و شمار کسی بھی ذی شعور انسان کے رونگٹے کھڑے کر دینے کے لیے کافی ہیں۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP)کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، مشرق وسطیٰ کی مجموعی معیشت کو تقریباً 200ارب ڈالر کے ہوشربا معاشی نقصان کا سامنا ہے۔ خاص طور پر عرب ممالک کی جی ڈی پی میں 120ارب ڈالر سے لے کر 194ارب ڈالر تک کی کمی واقع ہو سکتی ہے۔ اقوام متحدہ کے عہدیدار عبداللہ الدرداری کے مطابق، خطے میں 3.7ملین نوکریاں ختم ہونے اور مزید 4ملین افراد کے غربت کی لکیر سے سیدھا نیچے چلے جانے کا شدید خدشہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عرب ممالک بھی دفاعی و خارجہ پالیسی تبدیل کر رہے ہیں۔

جواب دیں

Back to top button