Column

ایران جنگ: پاکستان، چین کا مشترکہ 5نکاتی امن منصوبہ

اداریہ۔۔۔۔
ایران جنگ: پاکستان، چین کا مشترکہ 5نکاتی امن منصوبہ
مشرق وسطیٰ اور خلیج میں جاری کشیدگی نے عالمی سطح پر ایک بار پھر امن اور استحکام کے لیے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت کو اجاگر کر دیا ہے۔ اس نازک اور حساس مرحلے پر پاکستان اور چین کی طرف سے بیجنگ میں ہونے والی حالیہ ملاقات اور اس کے بعد پیش کیے گئے پانچ نکاتی امن منصوبے کو نہ صرف خطے میں امن کے لیے مثبت قدم کے طور پر دیکھا جارہا ہے، بلکہ یہ عالمی برادری کے لیے ایک واضح پیغام بھی ہے کہ مسائل کا حل صرف طاقت کے استعمال یا عسکری اقدامات سے ممکن نہیں۔ پاکستان اور چین نے اس منصوبے میں پانچ اہم نکات شامل کیے ہیں۔ فوری جنگ بندی، متاثرہ علاقوں میں انسانی امداد کی فراہمی، پُرامن مذاکرات، شہریوں اور بنیادی تنصیبات کی حفاظت اور اقوام متحدہ کے قوانین کی بالادستی۔ یہ پانچ نکات نہ صرف عملی ہیں بلکہ اخلاقی اور انسانی بنیادوں پر بھی مضبوط ہیں، جو خطے میں دیرپا امن کے قیام کی راہ ہموار کرسکتے ہیں۔ ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی کے مطابق، چینی وزیرِ خارجہ وانگ ژی اور پاکستان کے نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے بیجنگ میں ملاقات میں مشرق وسطیٰ اور خلیج کی موجودہ کشیدہ صورت حال کا تفصیلی جائزہ لیا۔ دونوں رہنمائوں نے خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا اور اس سلسلے میں فوری اقدامات کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ خاص طور پر انسانی جانوں کی حفاظت اور متاثرہ عوام تک امداد کی بلاروک ٹوک فراہمی کو دونوں ممالک نے اولین ترجیح قرار دیا۔ پاکستان اور چین نے اس بات پر زور دیا کہ کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے فوری جنگ بندی ضروری ہے اور تمام فریقین کو انسانی بنیادوں پر ذمے داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ یہ موقف نہ صرف علاقائی استحکام کے لیے ضروری ہے بلکہ عالمی سطح پر انسانی حقوق کے تحفظ کا بھی عکاس ہے۔ مزید برآں، دونوں ممالک نے ایران اور خلیجی ریاستوں کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، قومی آزادی اور سلامتی کو نہایت اہم قرار دیا۔ یہ نقطہ نظر واضح کرتا ہے کہ پاکستان اور چین صرف بحران کے وقتی حل کے حامی نہیں، بلکہ وہ خطے میں دیرپا امن اور تعاون کے لیے ایک مستقل اور منصفانہ فریم ورک قائم کرنے کے خواہاں ہیں۔ چین اور پاکستان نے فوجی تنازعات میں شہری اور غیر فوجی اہداف کی حفاظت پر بھی زور دیا۔ خاص طور پر توانائی، پانی کے پلانٹس، بجلی گھروں، پرامن جوہری تنصیبات اور جوہری پاور پلانٹس کی حفاظت عالمی امن کے لیے ناگزیر قرار دی گئی ہے۔ یہ نقطہ اہمیت کا حامل ہے کیونکہ مشرق وسطیٰ میں کسی بھی بنیادی تنصیبات پر حملہ نہ صرف مقامی بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی ترسیل پر بھی اثر انداز ہوسکتا ہے۔ آبنائے ہرمز اور اس سے ملحقہ سمندری پانی کو عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم راستہ قرار دیا گیا۔ پاکستان اور چین نے اس گزرگاہ میں موجود تمام شہری اور تجارتی جہازوں کی حفاظت یقینی بنانے پر زور دیا، تاکہ عالمی تجارت میں خلل نہ آئے اور توانائی کی عالمی مارکیٹ مستحکم رہے۔ یہ اقدام عالمی برادری کے لیے بھی ایک مثبت پیغام ہے کہ خطے میں امن کے بغیر اقتصادی استحکام ممکن نہیں۔ ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان اور چین کثیرالجہتی نظام کو فروغ دینے، اقوام متحدہ کے کردار کو مضبوط بنانے اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کے لیے پرعزم ہیں۔ دونوں ممالک اقوام متحدہ کے چارٹر کی روشنی میں ایک جامع امن فریم ورک کے قیام کی حمایت کرتے ہیں، تاکہ مشرق وسطیٰ اور خلیج کی صورت حال کو پائیدار امن کی طرف گامزن کیا جاسکے۔ چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان مائوننگ نے بھی سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین نے خلیج میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے پانچ نکاتی لائحہ عمل پیش کیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ فوری جنگ بندی، متاثرہ علاقوں تک امداد کی فراہمی، امن مذاکرات کے آغاز، شہری اور توانائی منصوبوں کی حفاظت، اور آبنائے ہرمز میں جہازوں اور عملے کی حفاظت اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ یہ اقدامات اس وقت سامنے آئے ہیں جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر ہے اور عالمی برادری خطے میں فوری اور موثر اقدامات کی امید رکھتی ہے۔ پاکستان اور چین کی یہ کوششیں نہ صرف خطے میں امن کی بحالی کے لیے مثبت پیش رفت ہیں بلکہ ایک واضح پیغام بھی ہیں کہ مسائل کا حل صرف عسکری کارروائی نہیں بلکہ سفارت کاری، مذاکرات اور عالمی قوانین کی پاسداری سے ممکن ہے۔ پاکستان اور چین کا یہ اقدام عالمی برادری کے لیے سبق آموز ہے کہ طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، انسانی امداد اور بنیادی انسانی حقوق کی حفاظت کے ذریعے حقیقی امن قائم کیا جاسکتا ہے۔ یہ پانچ نکاتی امن منصوبہ صرف ایک کاغذی اعلامیہ نہیں بلکہ عملی اقدام ہے جس سے خطے میں دیرپا اور موثر امن کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ عالمی سطح پر یہ بھی تسلیم کیا جا رہا ہے کہ پاکستان اور چین نے اس حساس دور میں ایک ذمے دارانہ موقف اختیار کیا ہے۔ دونوں ممالک کی مشترکہ کوششیں نہ صرف مشرق وسطیٰ میں امن کی راہ ہموار کریں گی بلکہ عالمی سطح پر بھی یہ ایک مثال قائم کریں گی کہ بحران کے وقت مذاکرات، تعاون اور انسانیت پر مبنی اقدامات سب سے موثر حکمت عملی ہیں۔ خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے عالمی برادری کو فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے اور پاکستان اور چین نے اس سلسلے میں عملی اور اخلاقی قیادت کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس اقدام سے یہ بھی پیغام جاتا ہے کہ جنگ اور کشیدگی کے دوران انسانی جانیں اور بنیادی تنصیبات کی حفاظت اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ پاکستان اور چین کی یہ مشترکہ کوششیں مستقبل میں خطے میں دیرپا امن قائم کرنے کی راہ ہموار کریں گی اور عالمی برادری کے لیے بھی یہ ایک مثبت مثال ہیں کہ سفارت کاری، کثیرالجہتی تعاون اور اقوام متحدہ کے اصولوں کی پاسداری کے ذریعے عالمی سطح پر امن کے امکانات مضبوط بنائے جاسکتے ہیں۔

شذرہ۔۔
بجلی صارفین کیلئے بڑا ریلیف
حکومت کی جانب سے بجلی صارفین کو بڑا ریلیف فراہم کرنے سے متعلق اہم اوامر سامنے آئے ہیں۔ پاور ڈویژن کے ترجمان کے مطابق حکومت اب تک 46ارب 56کروڑ روپے کا ریلیف دے چکی ہے اور بجلی کے نرخوں میں مجموعی طور پر 71پیسے فی یونٹ کمی کی گئی ہے۔ بظاہر یہ اقدامات خوش آئند ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ ریلیف واقعی عام صارف تک موثر انداز میں پہنچ رہا ہے؟ اعداد و شمار کے مطابق صنعتی ٹیرف میں نمایاں کمی کی گئی ہے، جو 49.19روپے سے کم ہو کر 34.75روپے فی یونٹ تک آچکا ہے۔ یہ اقدام صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور معیشت کو سہارا دینے کے لیے اہم ہے۔ جنوری اور فروری کے دوران 26ارب 85کروڑ روپے کے خالص ریلیف کا دعویٰ کیا گیا جب کہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت 48ارب روپے کی کمی کی گئی۔ اس کے برعکس ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 21ارب 18کروڑ روپے کا اضافہ بھی سامنے آیا۔ حکومت کا یہ موقف کہ اس نے عالمی ایندھن قیمتوں کے دبائو کو خود برداشت کیا، اپنی جگہ اہم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عالمی منڈی میں اتار چڑھائو کا اثر بالآخر صارفین پر ہی منتقل ہوتا ہے۔ اس تناظر میں ایک واضح اور مستقل پالیسی کی ضرورت ہے جو طویل مدت میں بجلی کے نرخوں کو مستحکم رکھ سکے۔ توانائی کے شعبے میں اصلاحات، لائن لاسز میں کمی اور متبادل توانائی ذرائع کا فروغ ایسے اقدامات ہیں جو دیرپا ریلیف فراہم کر سکتے ہیں۔ اگر حکومت واقعی عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہے تو اسے وقتی اقدامات سے آگے بڑھ کر بنیادی مسائل کے حل پر توجہ دینا ہوگی۔ عوام کو اپنے بلوں میں کمی چاہیے۔ حکومت اس کے لیے کوشاں ہے اور اس حوالے سے پچھلے عرصے میں کافی اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان شاء اللہ حکومتی اقدامات کے ثمرات عوام کو جلد محسوس ہوں گے۔

جواب دیں

Back to top button