اسمارٹ لاک ڈائون نہ لگانے کا فیصلہ

اسمارٹ لاک ڈائون نہ لگانے کا فیصلہ
پاکستان اس وقت ایک نہایت نازک معاشی اور علاقائی صورت حال سے گزر رہا ہے، جہاں داخلی چیلنجز اور بین الاقوامی کشیدگیاں ایک ساتھ ملکی پالیسی سازی پر اثر انداز ہورہے ہیں۔ حالیہ مشاورتی اجلاس، جس کی صدارت آصف علی زرداری نے کی اور جس میں شہباز شریف سمیت اعلیٰ حکومتی قیادت شریک ہوئی، اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ریاستی ادارے موجودہ بحرانوں سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ اور مربوط حکمت عملی اختیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس اجلاس میں اسمارٹ لاک ڈائون کی تجویز کو مسترد کرنا ایک اہم پالیسی فیصلہ ہے، جو معاشی سرگرمیوں اور عوامی ریلیف کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کو ظاہر کرتا ہے۔ اس وقت پاکستان کو سب سے بڑا چیلنج مہنگائی، توانائی بحران اور عالمی سطح پر پیدا ہونے والی بے یقینی صورت حال کا سامنا ہے۔ بالخصوص ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ کشیدگی نے عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں پر دبا بڑھا دیا ہے، جس کے اثرات براہِ راست پاکستان جیسے درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ملک پر پڑتے ہیں۔ ایسے حالات میں حکومت کا پٹرولیم قیمتوں میں اضافے کی تجاویز کو مسترد کرنا بظاہر عوامی مفاد میں ایک مثبت قدم ہے، تاہم اس کے طویل المدتی مالی اثرات پر بھی غور کرنا ضروری ہے۔ صوبوں کی جانب سے اسمارٹ لاک ڈائون کی مخالفت کو محض سیاسی اختلاف نہیں بلکہ معاشی حقیقت کے تناظر میں بھی دیکھا جانا چاہیے۔ پاکستان کی معیشت بڑی حد تک روزمرہ کی پیداواری سرگرمیوں اور برآمدات پر انحصار کرتی ہے۔ اگر ہفتہ وار دو دن کی تعطیلات یا اسمارٹ لاک ڈائون نافذ کیا جاتا، تو صنعتی پیداوار، کاروباری سرگرمیاں اور برآمدی اہداف متاثر ہوسکتے تھے۔ ایسے میں صوبوں کا یہ موقف کہ لاک ڈائون معیشت کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے، ایک حد تک حقیقت پر مبنی ہے۔ اس لیے وفاقی حکومت کا اس تجویز کو مسترد کرنا ایک متوازن فیصلہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس فیصلے کے ساتھ ایک اہم سوال بھی جنم لیتا ہے کہ اگر لاک ڈائون نہیں کیا جائے گا تو توانائی کے بحران اور تیل کی بڑھتی کھپت کو کیسے کنٹرول کیا جائے گا؟ اجلاس میں یہ انکشاف کہ قیمتوں میں اضافے کے باوجود تیل کی کھپت میں 25فیصد اضافہ ہوا ہے، نہایت تشویش ناک ہے۔ یہ صورت حال نہ صرف حکومتی پالیسیوں کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے بلکہ عوامی رویوں میں تبدیلی کی ضرورت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ اس تناظر میں وزارت اطلاعات کو عوامی آگاہی مہم چلانے کی ہدایت ایک درست قدم ہے، لیکن ماضی کے تجربات یہ بتاتے ہیں کہ صرف مہمات سے دیرپا تبدیلی ممکن نہیں ہوتی، اس کے لیے عملی اقدامات اور سخت پالیسیوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ صدر مملکت کی جانب سے پبلک ٹرانسپورٹ اور شیئرڈ موبیلٹی کے استعمال کی ترغیب دینا ایک مثبت اور دور اندیش تجویز ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں ٹرانسپورٹ کے اجتماعی نظام کو فروغ دے کر نہ صرف ایندھن کی بچت کی جاتی ہے، بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی کمی لائی جاتی ہے۔ پاکستان میں بھی اگر شہری سطح پر موثر پبلک ٹرانسپورٹ نظام کو فروغ دیا جائے، تو یہ نہ صرف توانائی کے بحران میں کمی لاسکتا ہے بلکہ شہریوں کے لیے سفری سہولتیں بھی بہتر بنا سکتا ہے۔ دوسری جانب کفایت شعاری پالیسی کے تحت سرکاری اخراجات میں کمی کی ہدایت ایک اہم اقدام ہے، اگر موجودہ حکومت واقعی کفایت شعاری کو سنجیدگی سے نافذ کرتی ہے، تو اس سے نہ صرف مالی خسارہ کم ہوسکتا ہے بلکہ عوام کا حکومت پر اعتماد بھی بحال ہو سکتا ہے۔ اجلاس میں خطے کی صورت حال اور اس کے پاکستان کی معیشت و خوراکی تحفظ پر اثرات کا جائزہ لینا بھی نہایت اہم تھا۔ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگیاں، سپلائی چین میں رکاوٹیں اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، براہ راست پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کو متاثر کرتے ہیں۔ ایسے میں حکومت کی سفارتی کوششیں، جن کے تحت مختلف ممالک کے ساتھ روابط بڑھائے جارہے ہیں، قابلِ تحسین ہیں۔ تاہم یہ ضروری ہے کہ ان سفارتی اقدامات کو معاشی فوائد میں بھی تبدیل کیا جائی۔ مزید برآں، اجلاس میں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی حکومتوں کی جانب سے کیے گئے اقدامات کو یکجا کرکے ایک مربوط قومی حکمت عملی تشکیل دینے پر زور دیا گیا، جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔ پاکستان جیسے وفاقی نظام میں، جہاں اختیارات کی تقسیم واضح ہے، وہاں وفاق اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی نہایت ضروری ہے۔ اگر یہ ہم آہنگی موثر انداز میں قائم ہوجائے، تو نہ صرف بحرانوں سے بہتر انداز میں نمٹا جاسکتا ہے بلکہ پالیسیوں پر عمل درآمد بھی زیادہ موثر ہو سکتا ہے۔ اصل چیلنج ان فیصلوں پر عملدرآمد ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ توانائی کے متبادل ذرائع پر سرمایہ کاری کرے، مقامی وسائل کو بروئے کار لائے اور درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرے۔ اس کے ساتھ صنعتی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنا بھی ضروری ہے تاکہ توانائی کا کم استعمال کرتے ہوئے زیادہ پیداوار حاصل کی جا سکے۔ آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسمارٹ لاک ڈائون نہ لگانے کا فیصلہ وقتی طور پر معیشت کو سہارا دینے کے لیے درست ہوسکتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ قلیل المدتی اقدامات کے ساتھ طویل المدتی پالیسیوں پر بھی توجہ دے، تاکہ ملک کو بار بار ایسے بحرانوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ عوامی شعور، حکومتی سنجیدگی اور ادارہ جاتی ہم آہنگی ہی وہ عوامل ہیں جو پاکستان کو موجودہ چیلنجز سے نکال کر ایک مستحکم اور پائیدار مستقبل کی جانب لے جا سکتے ہیں۔
ایچ آئی وی، سنگین چیلنج
پاکستان میں ایچ آئی وی ؍ ایڈز کے رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 84ہزار سے تجاوز کر جانا ایک سنجیدہ عوامی صحت کا مسئلہ بن چکا ہے۔ قومی اسمبلی میں پیش کی گئی حالیہ تفصیلات نے نہ صرف اس بیماری کے پھیلائو کی شدت کو اجاگر کیا ہے بلکہ صحت کے نظام میں موجود خامیوں کی نشاندہی بھی کی ہے۔ پنجاب اور سندھ میں زیادہ کیسز کا ہونا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ شہری آبادی، نقل و حرکت اور آگاہی کی کمی اس مرض کے پھیلائو میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ پارلیمانی سیکرٹری نیلسن عظیم کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں 98مراکز پر مفت علاج کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے، جو یقیناً ایک مثبت قدم ہے۔ تاہم یہ سوال اپنی جگہ برقرار ہے کہ کیا یہ سہولتیں مریضوں کی اصل تعداد کے مقابلے میں کافی ہیں؟ خاص طور پر دیہی علاقوں میں صحت کی سہولتوں تک رسائی اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، جہاں اکثر مریض تشخیص سے پہلے ہی نظر انداز ہو جاتے ہیں۔ اس معاملے پر اراکین اسمبلی جیسے زہرہ ودود فاطمی اور شاہدہ اختر علی کی تشویش بجا ہے۔ ایچ آئی وی صرف ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی چیلنج بھی ہے، جہاں لاعلمی، بدنامی (stigma)اور امتیازی رویے مریضوں کو علاج سے دور رکھتے ہیں۔ اس لیے صرف علاج مراکز قائم کرنا کافی نہیں، بلکہ وسیع پیمانے پر آگاہی مہمات اور سماجی رویوں میں تبدیلی بھی ضروری ہے۔ دوسری جانب سپیکر سردار ایاز صادق کا وزارت صحت سے جواب طلب کرنا پارلیمانی نگرانی کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ صحت جیسے حساس شعبے میں تاخیر یا غفلت ناقابل قبول ہے اور اس پر سخت احتساب ہونا چاہیے۔ اسی طرح دیگر حکومتی معاملات، جیسے ریلوے کی کارکردگی یا ادارہ جاتی اصلاحات، بھی اپنی جگہ اہم ہیں، مگر ایچ آئی وی جیسے بڑھتے ہوئے خطرے کے سامنے صحت کو اولین ترجیح دینا ناگزیر ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی اپنائے، جس میں بروقت تشخیص، آسان علاج اور موثر آگاہی شامل ہو۔ سکولوں، کالجوں اور کمیونٹی سطح پر تعلیم و شعور کو فروغ دے کر ہی اس بیماری کے پھیلائو کو روکا جا سکتا ہے۔ بصورت دیگر، یہ مسئلہ مستقبل میں ایک بڑے قومی بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔





