زندگی ایک سفر ہے سہانا

زندگی ایک سفر ہے سہانا
میری بات
روہیل اکبر
کہتے ہیں زندگی ایک سفر ہے اور یہ سفر تبھی سہانا بنتا ہے جب انسان اسے خوش دلی، صبر اور شکر کے ساتھ طے کرے ورنہ یہی راستے کانٹوں سے بھرے محسوس ہوتے ہیں یہی دن بوجھ لگنے لگتے ہیں اور یہی لمحے آزمائش بن جاتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ زندگی ہمیں ویسی ہی دکھائی دیتی ہے جیسا ہمارا زاویہ نظر ہوتا ہے ہم سب اپنی اپنی منزلوں کی تلاش میں سرگرداں ہیں کوئی دولت کے پیچھے بھاگ رہا ہے، کوئی شہرت کے خواب دیکھ رہا ہے اور کوئی سکونِ قلب کا متلاشی ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب کچھ حاصل کر لینے کے بعد بھی انسان مطمئن ہو جاتا ہے؟ اکثر جواب نفی میں ہوتا ہے کیونکہ اصل سکون باہر نہیں اندر ہوتا ہے زندگی کے اس سفر میں نشیب و فراز آتے رہتے ہیں کبھی کامیابی کی خوشبو دل کو مہکا دیتی ہے تو کبھی ناکامی کا دھواں آنکھوں کو نم کر دیتا ہے اور یہی زندگی کی خوبصورتی ہے کہ یہ یکساں نہیں رہتی اگر ہر دن ایک جیسا ہو تو نہ خوشی کی قدر رہے اور نہ غم کا احساس اس لیے تو کہتے ہیں کہ اپنے آپ کو شگفتہ اور تر تازہ رکھنا ایک فن ہے اور خوش دلی سے جینے کا فن ہر کسی کو نہیں آتا اس کے لیے ضروری ہے کہ انسان چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو سمیٹنا سیکھے کسی کا مسکرا دینا، کسی کا حال پوچھ لینا، کسی بچے کی معصوم ہنسی یہ سب وہ لمحے ہیں جو زندگی کو خوبصورت بناتے ہیں بدقسمتی سے ہم بڑی خوشیوں کے انتظار میں ان چھوٹے لمحوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ زندگی ہمیشہ ہماری خواہشات کے مطابق نہیں چلتی کئی بار ہمیں وہ ملتا ہے جس کا ہم نے سوچا بھی نہیں ہوتا ایسے میں شکوہ کرنے کے بجائے شکر کا دامن تھام لینا چاہیے کیونکہ ہر حال میں کوئی نہ کوئی حکمت ضرور پوشیدہ ہوتی ہیآج کے تیز رفتار دور میں ہم نے جینا تو سیکھ لیا ہے مگر خوش رہنا بھول گئے ہیں ہم کامیابی کی دوڑ میں اتنے آگے نکل گئے ہیں کہ پیچھے مڑ کر دیکھنے کا وقت ہی نہیں رہا ہمیں رکنا ہوگا، سانس لینا ہوگی اور خود سے پوچھنا ہوگا کہ کیا ہم واقعی خوش ہیں؟ زندگی ایک امانت ہے ایک موقع ہے ایک خوبصورت تحفہ ہے اسے غموں کی زنجیروں میں جکڑنے کے بجائے خوشیوں کے رنگوں سے سجانا چاہیے ہمیں چاہیے کہ ہم دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کریں، محبت بانٹیں اور نفرتوں کو دل سے نکال دیں زندگی کا سفر مختصر ہے اور اس مختصر سفر کو خوبصورت بنانا ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے اگر ہم اسے خوش دلی سے گزاریں گے تو ہر موڑ پر خوشی ہمارا استقبال کرے گی اور اگر ہم نے شکوے شکایتوں کو اپنا شعار بنا لیا تو یہ سفر بوجھ بن جائے گااور یہ بوجھ بڑھتے بڑھتے ایک دن آپ کو ایک ہی جگہ پر ساکت کر دیگا اس لیے دوسروں کا سہارا بنیں دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کریں کیونکہ زندگی کا سفر صرف اپنے قدموں سے طے نہیں ہوتا بلکہ ہمارے رویے، سوچ اور دوسروں کے لیے جذبات بھی اس سفر کی سمت کا تعین کرتے ہیں بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ایک ایسی بیماری جڑ پکڑ چکی ہے جو نہ صرف انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے بلکہ اسے اس کی اپنی منزل سے بھی دور کر دیتی ہے۔ یہ بیماری ہی دوسروں کی ترقی سے حسد، منافقت اور بلاوجہ کی مخالفت جب ہم کسی کو آگے بڑھتے دیکھتے ہیں تو بجائے اس سے سیکھنے کے اکثر دل میں ایک چبھن سی محسوس ہوتی ہے یہ چبھن رفتہ رفتہ حسد میں بدل جاتی ہے اور حسد انسان کی سوچ کو اس قدر محدود کر دیتا ہے کہ وہ اپنی راہ بھول جاتا ہے وہ دوسروں کو گرانے میں مصروف ہو جاتا ہے حالانکہ سچ یہ ہے کہ کسی کو گرا کر کوئی خود بلند نہیں ہو سکتا رہی بات منافقت کی جو حسد سے بھی خطرناک رویہ ہے بظاہر تعریف مگر دل میں نفرت یہ دوغلا پن انسان کی شخصیت کو داغدار کر دیتا ہے ایسے لوگ نہ خود مخلص ہوتی ہیں اور نہ ہی کسی کے سچے خیر خواہ۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ اعتماد کھو بیٹھتے ہیں اور معاشرے میں تنہا رہ جاتے ہیں اسی طرح خوامخواہ کی مخالفت بھی ایک ایسا رویہ ہے جو نہ صرف وقت کا ضیاع ہے بلکہ ذہنی انتشار کا سبب بھی بنتا ہے ہر بات میں کیڑے نکالنا ہر کامیاب شخص کو تنقید کا نشانہ بنانا اور ہر مثبت قدم کو مشکوک سمجھنا یہ سب وہ عادات ہیں جو انسان کو آگے بڑھنے سے روکتی ہیں جو شخص دوسروں کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرتا ہے درحقیقت وہ اپنے ہی راستے میں دیواریں کھڑی کر رہا ہوتا ہے ترقی کا راستہ حسد سے نہیں بلکہ حوصلے سے بنتا ہے اگر کوئی آگے بڑھ رہا ہے تو ہمیں چاہیے کہ اس کی کامیابی کو محرک بنائیں اس سے سیکھیں اس کی محنت کو سراہیں اور خود کو بہتر بنانے کی کوشش کریں یہی مثبت رویہ ہمیں بھی خوشحالی کی منزل تک پہنچا سکتا ہے زندگی مقابلے کا نہیں بلکہ بہتری کا نام ہے ہمیں دوسروں سے نہیں خود سے بہتر ہونا ہے اگر ہم اپنی توانائیاں دوسروں کی مخالفت میں ضائع کرنے کے بجائے اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے میں لگائیں تو یقیناً ہم بھی کامیابی کے زینے طے کر سکتے ہیں ویسے بھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا کہیں زمین کم پڑ جاتی ہے تو کہیں آسمان میسر نہیں ہوتا مگر شاید زندگی کا اصل ہنر یہی ہے کہ جو مل جائے اسی کو مکمل مان لیا جائے آدھا جہاں بھی اگر شکر کے جذبے سے قبول کر لیا جائے تو وہی پورا محسوس ہونے لگتا ہے ہم اکثر اپنی نظریں دوسروں کی زندگیوں پر جما لیتے ہیں کسی کی خوشحالی، کسی کی کامیابی، کسی کی آسائش ہمیں اپنی کمیوں کا احساس دلاتی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ سکون نہ زمین میں ہوتا ہے نہ آسمان میں، بلکہ انسان کے اپنے دل کے اندر بستا ہے دل کو شکر گزار رکھنا، میسر پر مطمئن ہونا اور اپنی راہ پر قائم رہنا ہی اصل کامیابی ہے کیونکہ جیسے ہی انسان نے دائیں بائیں دیکھنا شروع کیا، سکون اس سے دور ہونے لگتا ہے زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اپنا جہاں خود بنانا پڑتا ہے یہ جہاں کسی بازار میں نہیں ملتا کہ قیمت دے کر خرید لیا جائے اس میں ہمیں اپنے پسندیدہ رنگ خود بھرنے ہوتے ہیں کبھی چھوٹی خوشیوں سے، کبھی سادہ لمحوں سے اور کبھی خاموشی کی چادر اوڑھ کر دل کو خوش رکھنے کے لیے بڑے بڑے جتن ضروری نہیں ہوتے بلکہ معمولی سی باتیں بھی اسے چہکا دیتی ہیں بس شرط یہ ہے کہ ہماری سوچ کا زاویہ درست ہو آج کا انسان جسمانی تھکن سے تو ڈرتا ہے مگر دل کی تھکن کو نظر انداز کر دیتا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پاں تھک جائیں تو آرام مل جاتا ہے گھٹنے جواب دے دیں تو علاج ممکن ہے مگر جب دل تھک جائے تو انسان کی روح بھی بوجھل ہو جاتی ہے اور جسم بھی بے معنی لگنے لگتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے دل کو تھکنے نہ دیں اور سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ جن کے لیے ہم خود کو تھکا دیتے ہیں وہ ہمیشہ ہمارا سہارا نہیں بنتے اس لیے خود اپنا خیال رکھنا سیکھنا ہوگا اپنی ذات کو اہمیت دینا خود غرضی نہیں بلکہ زندگی کی ایک بنیادی ضرورت ہے اگر زندگی خاموشی سے گزر رہی ہے تو اسے گزرنے دیں ہر خوشی قہقہوں کی محتاج نہیں ہوتی کبھی دل کا سکون، تنہائی کا نور اور آنکھوں کی نمی بھی زندگی کو ایک خوبصورت معنی دے دیتی ہے اصل خوشی وہ ہے جو اندر اتر کر انسان کو مطمئن کر دے نہ کہ وہ جو صرف لمحاتی شور پیدا کرے قسمت بھی انہی کا ساتھ دیتی ہے جو خود اپنی راہیں بناتے ہیں جو صرف انتظار کرتے رہتے ہیں وہ خوابوں کی دنیا میں ہی رہ جاتے ہیں جبکہ عمل کرنے والے اپنی تقدیر خود لکھتے ہیں زندگی ہمیں روز ایک نیا موقع دیتی ہے یہ ہم پر ہے کہ ہم اسے شکایت میں ضائع کرتے ہیں یا شکر میں سنوار لیتے ہیں میری بات بس اتنی سی ہے کہ اپنے دل کو زندہ رکھیں، اسے تھکنے نہ دیں اور اپنے حصے کی دنیا کو خوبصورت بنانے کی کوشش کریں کیونکہ آخرکار زندگی وہی ہے جو ہم اپنے لیے بنا لیتے ہیں آئیں عہد کریں کہ ہم زندگی کو خوش دلی، مثبت سوچ اور شکرگزاری کے ساتھ گزاریں گے کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو اس سفر کو واقعی سہانا بنا دیتا ہے آخر میں یہی کہنا مناسب ہوگا کہ حسد، منافقت اور بے جا مخالفت وہ زنجیریں ہیں جو ہمیں اپنے ہی سفر سے باندھ دیتی ہیں اگر ہم واقعی خوشحالی اور کامیابی چاہتے ہیں تو ہمیں ان زنجیروں کو توڑنا ہوگا اور مثبت سوچ، خلوص اور محنت کو اپنا شعار بنانا ہوگاکیونکہ زندگی کا سفر انہی کے لیے سہانا بنتا ہے جو دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہیں نہ کہ مشکلات۔





