آبنائے ہرمز پر تنازع، امریکہ کے سخت لہجے نے عالمی امن کے لیے نئے سوال کھڑے کر دئیے

آبنائے ہرمز پر تنازع، امریکہ کے سخت لہجے نے عالمی امن کے لیے نئے سوال کھڑے کر دئیے
کالم نگار: غلام مصطفیٰ جمالی
موجودہ صورتحال نے مشرق وسطیٰ کو ایک بار پھر دنیا کے ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ہر فیصلے کے اثرات صرف ایک خطے تک محدود نہیں رہتے، بلکہ پورے عالمی نظام کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ آبنائے ہرمز، جو طویل عرصے سے عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے سب سے اہم سمندری گزرگاہوں میں سے ایک رہا ہے، اب طاقت کی سیاست کا مرکز بن چکا ہے۔ جب ایسے حساس مقام پر تنازع پیدا ہوتے ہیں اور ساتھ ہی سخت بیانات سامنی آتے ہیں، تو عالمی امن کے بارے میں تشویش پیدا ہونا فطری امر ہے۔
تاریخی طور پر دیکھا جائے تو سمندری راستے ہمیشہ تجارت، ثقافتوں کے تبادلے اور اقتصادی ترقی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز بھی انہی راستوں میں سے ایک ہے، جس کی اہمیت وقت کے ساتھ مزید بڑھتی گئی ہے۔ آج کے دور میں جب دنیا کی معیشت بڑی حد تک توانائی کی فراہمی پر منحصر ہے، اس راستے کی اہمیت کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ روزانہ لاکھوں بیرل تیل اس گزرگاہ سے گزر کر دنیا کے مختلف ممالک تک پہنچتا ہے، جس سے صنعتوں کے پہیے چلتے ہیں اور معیشتیں زندہ رہتی ہیں۔
موجودہ کشیدگی میں اختیار کیا گیا لہجہ صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ جب بڑی طاقتیں ایک دوسرے کو سخت الفاظ میں خبردار کرتی ہیں اور بنیادی ڈھانچوں کو نشانہ بنانے کی باتیں کرتی ہیں، تو اس سے نہ صرف علاقائی سطح پر بے چینی پیدا ہوتی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی غیر یقینی ماحول جنم لیتا ہے۔ ایسے ماحول میں تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں، جس کے اثرات عام لوگوں تک پہنچتے ہیں۔
توانائی کی فراہمی میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کے اثرات فوراً مارکیٹ میں ظاہر ہوتے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں اضافہ، اور پیداوار کی قیمت بڑھنا جیسے عوامل پوری معیشت کو زنجیر کی صورت میں متاثر کرتے ہیں۔ جب قیمتیں بڑھتی ہیں تو مہنگائی کا دبا بھی بڑھتا ہے، جس سے عام آدمی کی خریداری کی طاقت کم ہو جاتی ہے۔ خاص طور پر وہ ممالک جو اپنی ضروریات کے لیے درآمد شدہ توانائی پر انحصار کرتے ہیں، ان کے لیے یہ صورتحال زیادہ مشکل بن جاتی ہے۔
مشرق وسطیٰ پہلے ہی کئی تنازعات کا مرکز رہا ہے، جہاں مختلف مفادات اور طاقت کے کھیل کی وجہ سے امن قائم رکھنا ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔ موجودہ صورتحال ان تنازعات کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے، کیونکہ ہر فریق اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے جارحانہ موقف اختیار کر سکتا ہے۔ ایسے ماحول میں کوئی بھی چھوٹی سی غلطی یا غلط فہمی بڑے تنازع کا سبب بن سکتی ہے، جسے بعد میں سنبھالنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔
فوجی لحاظ سے بھی ایسی کشیدگی خطرناک نتائج پیدا کر سکتی ہے۔ اگر صورتحال بگڑتی ہے اور عملی کارروائی شروع ہوتی ہے، تو اس کے اثرات صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ جدید جنگوں کا دائرہ بہت وسیع ہوتا ہے، جہاں نہ صرف فوجی اہداف بلکہ اقتصادی اور سماجی ڈھانچے بھی متاثر ہوتے ہیں۔ ایسی جنگ کا نتیجہ تباہی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔
انسانی نقطہ نظر سے بھی ایسی صورتحال انتہائی افسوسناک ہے۔ جب تنازعات بڑھتے ہیں، تو سب سے زیادہ متاثر عام لوگ ہوتے ہیں، جو پہلے ہی زندگی کے بنیادی مسائل کا سامنا کر رہے ہوتے ہیں۔ بے گھر ہونا، روزگار کا خاتمہ، خوراک کی کمی، اور صحت کی سہولیات کی عدم دستیابی جیسے مسائل شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں عالمی برادری کے لیے ضروری ہے کہ وہ انسانی اقدار کو مدنظر رکھ کر فیصلے کرے۔
سفارتی سطح پر بھی اس وقت سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنا ہی واحد راستہ ہے جس سے تنازع کو بڑھنے سے روکا جا سکتا ہے۔ اگر فریق ایک دوسرے کے موقف کو سمجھنے کی کوشش کریں اور مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کرنے کے لیے تیار ہوں تو ایک بڑے بحران سے بچا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر ضد اور انا کو ترجیح دی گئی تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔
عالمی سیاست میں طاقت کا استعمال ہمیشہ ایک حساس موضوع رہا ہے۔ جب بھی طاقت کو مسائل کے حل کے طور پر استعمال کیا گیا، اس کے نتائج زیادہ تر منفی نکلے ہیں۔ جنگیں نہ صرف جانی نقصان کرتی ہیں بلکہ اقتصادی اور سماجی تباہی بھی لاتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ موجودہ صورتحال سے سبق حاصل کیا جائے اور ایسا راستہ اختیار کیا جائے جو امن اور استحکام کو یقینی بنائے۔
معاشی ماہرین کے مطابق، اگر توانائی کی فراہمی میں بڑی رکاوٹ پیدا ہو تو دنیا ایک نئے اقتصادی بحران کی طرف بڑھ سکتی ہے۔ ایسے بحران کے اثرات طویل عرصے تک محسوس کیے جائیں گے، اور اس سے نکلنے کے لیے برسوں لگ سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ عالمی سطح پر ایسے اقدامات کیے جائیں جو توانائی کی فراہمی کو محفوظ بنائیں اور مارکیٹ میں استحکام قائم رکھیں۔
سیاسی طور پر بھی ایسی صورتحال کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ نئے اتحاد بن سکتے ہیں، پرانے اتحاد ٹوٹ سکتے ہیں، اور عالمی طاقت کا توازن تبدیل ہو سکتا ہے۔ ایسی تبدیلی نہ صرف علاقائی سیاست بلکہ عالمی سیاست کے رخ کو بھی بدل سکتی ہے۔ اس لیے ہر ملک کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں میں احتیاط اور سمجھداری کا مظاہرہ کرے۔
آخرکار یہ کہا جا سکتا ہے کہ آبنائے ہرمز پر پیدا ہونے والا تنازع صرف ایک سمندری راستے کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ عالمی امن، معیشت اور سیاست سے جڑا ایک بڑا سوال بن چکا ہے۔ اگر اس صورتحال کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا اور بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو اس کے نتائج انتہائی خطرناک ہو سکتے ہیں۔ دنیا پہلے ہی کئی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، اور ایک نیا بحران ان مسائل کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
اس لیے وقت کا اہم تقاضا یہ ہے کہ تمام فریق ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، تنازع کو کم کرنے کے لیے اقدامات کریں، اور ایسا ماحول پیدا کریں جہاں امن، استحکام اور ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔ صرف اسی راستے سے دنیا ایک محفوظ اور روشن مستقبل کی طرف بڑھ سکتی ہے، جہاں اختلافات کو جنگ کے بجائے بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے اور انسانی بھلائی ہر فیصلے کا مرکز ہو۔۔۔





