Column

حزبُ اللہ

حزبُ اللہ
شہر خواب ۔۔۔
صفدر علی حیدری ۔۔۔
اسلامی فکر میں ’’ حزبُ اللہ‘‘ کا تصور محض ایک اصطلاح نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ حیات، ایک فکری شناخت اور ایک روحانی مقام ہے۔ یہ وہ جماعت ہے جو نہ کسی نسل سے پہچانی جاتی ہے، نہ کسی خطے سے، بلکہ اس کی پہچان اس کے اوصاف، اس کے اعمال اور اس کے تعلق باللہ سے ہوتی ہے۔ قرآنِ مجید میں جہاں ’’ حزبُ اللہ‘‘ کا ذکر آتا ہے، وہاں اس کے مقابل ’’ حزبُ الشیطان‘‘ بھی آتا ہے، گویا انسان کی زندگی ایک مسلسل کشمکش ہے، ایک طرف وہ قوت جو اسے اللہ کی طرف لے جاتی ہے اور دوسری طرف وہ میلان جو اسے دنیا، نفس اور شیطان کے جال میں پھنسا دیتا ہے۔
’’ حزبُ اللہ‘‘ میں شامل ہونا کوئی رسمی اعلان نہیں، نہ ہی یہ کسی جماعتی رکنیت کا نام ہے، بلکہ یہ ایک داخلی انقلاب کا نتیجہ ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان اپنی خواہشات، اپنے مفادات اور اپنی انا کو اللہ کی رضا کے تابع کر دیتا ہے۔ اس راستے میں سب سے بڑی آزمائش ’’ مال‘‘ اور ’’ نفس‘‘ کی قربانی ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں ’’ انفاق فی سبیل اللہ‘‘ ایک مرکزی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔
یہ سطور انہی دو بنیادی پہلوئوں، حزبُ اللہ کے اوصاف اور انفاق فی سبیل اللہ کے آداب‘ کا ایک جامع، فکری اور روحانی جائزہ پیش کرتا ہے۔
حزبُ اللہ وہ لوگ ہیں جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں، اس پر کامل بھروسہ کرتے ہیں، اس کے احکامات کے سامنے سرِ تسلیم خم کرتے ہیں، اور اپنی زندگی کو اس کی رضا کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا تعلق محض عبادات تک محدود نہیں ہوتا، بلکہ ان کی پوری زندگی ایک عبادت بن جاتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو: حق کو پہچانتے ہیں اور اس پر قائم رہتے ہیں۔ باطل سے ٹکراتے ہیں مگر تکبر سے نہیں، حکمت سے۔ دنیا میں رہتے ہیں مگر دنیا کو دل میں نہیں رکھتے۔
حزبُ اللہ کی پہلی نمایاں صفت ’’ فراخ دلی‘‘ ہے۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو دل کے کشادہ ہوتے ہیں، جو چھوٹی چھوٹی باتوں پر رنجیدہ نہیں ہوتے، جو بدلہ لینے کے بجائے معاف کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
معاف کرنا بظاہر ایک آسان لفظ ہے، مگر حقیقت میں یہ نفس کے خلاف ایک عظیم جہاد ہے۔ جب انسان کے پاس بدلہ لینے کی طاقت ہو اور پھر بھی وہ معاف کر دے، تب وہ دراصل اللہ کی ایک صفت ’’ غفور‘‘ کا مظہر بن جاتا ہے۔معاشرے میں اکثر جھگڑے، رنجشیں اور فاصلے اسی لیے پیدا ہوتے ہیں کہ انسان معاف کرنا نہیں سیکھتا۔ حزبُ اللہ کا فرد اس دائرے سے اوپر اٹھ جاتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اگر وہ معاف کرے گا تو اللہ اسے معاف کرے گا۔
یہاں ایک گہرا نفسیاتی پہلو بھی ہے: معاف کرنے والا شخص اندر سے آزاد ہو جاتا ہے، جبکہ کینہ رکھنے والا شخص اپنے ہی بوجھ تلے دب جاتا ہے۔
حزبُ اللہ کی دوسری اہم صفت ’’ عالی ظرفی‘‘ ہے، یعنی دوسروں کے لیے جینا، بغیر کسی صلے کی امید کے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو بھوکے کو کھانا دیتے ہیں، یتیم کے سر پر ہاتھ رکھتے ہیں، قیدی کے دکھ کو محسوس کرتے ہیں،اور یہ سب کچھ صرف اس لیے کرتے ہیں کہ اللہ راضی ہو جائے۔
یہاں ایک نہایت اہم فکری نکتہ یہ ہے کہ جب انسان بندوں سے صلہ لینا چھوڑ دیتا ہے، تو اس کا تعلق براہِ راست اللہ سے جڑ جاتا ہے۔ یہی اصل آزادی ہے، کہ آپ کا عمل کسی انسان کی تعریف یا شکریے کا محتاج نہ رہے۔
ایسی خدمت انسان کے اندر ایک نور پیدا کرتی ہے، ایک سکون پیدا کرتی ہے، جو دنیا کی کسی تعریف یا انعام سے نہیں مل سکتا۔
پاک دل اور بہترین مال کی قربانی
انفاق کا تعلق صرف مال سے نہیں، بلکہ دل سے ہوتا ہے۔ اللہ کے نزدیک وہی صدقہ قبول ہوتا ہے جو: حلال کمائی سے ہو خالص نیت سے ہو اور اپنی پسندیدہ چیز میں سے ہو، یہ ایک بہت بڑا امتحان ہے۔ کیوں کہ انسان عموماً وہ چیز دیتا ہے جو اس کے لیے غیر اہم ہو، مگر اللہ چاہتا ہی کہ انسان وہ دے جس سے وہ محبت کرتا ہے۔
یہاں اصل قربانی مال کی نہیں، بلکہ ’’ وابستگی‘‘ کی ہے۔
جب انسان اپنی پسندیدہ چیز اللہ کی راہ میں دیتا ہے، تو وہ دراصل اپنے دل کو دنیا کی قید سے آزاد کرتا ہے۔
ہر حال میں انفاق: تنگی اور فراخی دونوں میں، حزبُ اللہ کے افراد صرف خوش حالی میں نہیں دیتے، بلکہ تنگی میں بھی دیتے ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ایمان کی اصل حقیقت ظاہر ہوتی ہے۔
تنگی میں دینے والا شخص دراصل یہ اعلان کر رہا ہوتا ہے کہ: ’’ میرا رزق میرے ہاتھ میں نہیں، میرے رب کے ہاتھ میں ہے۔ ’’ یہی ‘‘ توکل ’’ ہے‘‘ اور یہی ایمان کی روح ہے۔
ایسا شخص کبھی محتاج نہیں ہوتا، کیونکہ وہ اللہ پر یقین رکھتا ہے، اور اللہ اپنے بندوں کو ضائع نہیں کرتا۔
اخلاصِ نیت اور ریاکاری سے پاک عمل
اخلاص ہر عمل کی روح ہے۔ اگر عمل میں اخلاص نہ ہو، تو وہ محض ایک خالی خول رہ جاتا ہے۔
ریاکاری ایک ایسا زہر ہے جو: عمل کو ضائع کر دیتا ہے، دل کو کھوکھلا کر دیتا ہے اور انسان کو خود فریبی میں مبتلا کر دیتا ہے۔ ریاکار شخص دوسروں کو دکھانے کے لیے دیتا ہے، جبکہ مخلص شخص اللہ کے لیے دیتا ہے، فرق یہ ہے کہ:ریاکار کو تعریف چاہیے، مخلص کو رضا چاہیے اور اللہ کے نزدیک وہی عمل قابلِ قبول ہے جس میں صرف اسی کی خوشنودی مطلوب ہو۔
بخل ایک خطرناک بیماری ہے، جو انسان کو اندر سے کھا جاتی ہے۔ بخیل شخص: مال جمع کرتا ہے مگر سکون نہیں پاتا دیتا نہیں، اور کھو دیتا ہے۔ اللہ پر یقین کا دعویٰ کرتا ہے مگر دل میں خوف رکھتا ہے۔ بخل دراصل ’’ عدمِ تحفظ‘‘ کی علامت ہے۔ جو شخص اللہ پر یقین رکھتا ہے، وہ جمع کرنے کے بجائے بانٹنے میں سکون محسوس کرتا ہے۔ نفاق کا تعلق بھی اسی سے جڑا ہے۔ منافق خرچ تو کرتا ہے، مگر دل سے نہیں۔ وہ دکھاوے کے لیے دیتا ہے، یا مجبوری میں دیتا ہے۔ایسا عمل نہ دنیا میں برکت لاتا ہے، نہ آخرت میں اجر۔
انفاق: ایمان کا آخری امتحان
انفاق فی سبیل اللہ محض ایک مالی عمل نہیں، بلکہ ایمان کا امتحان ہے، یہ وہ مقام ہے جہاں: زبان کا دعویٰ عمل میں بدلتا ہے، محبت کا دعویٰ قربانی میں ڈھلتا ہے، مال انسان کے دل کے بہت قریب ہوتا ہے۔ جب وہ اسے اللہ کے لیے قربان کرتا ہے، تو وہ دراصل اپنے ایمان کی سچائی ثابت کرتا ہے۔ اور یہی قربانی آگے چل کر انسان کو اس مقام تک لے جاتی ہے جہاں وہ اپنی جان بھی اللہ کے لیے قربان کرنے کو تیار ہو جاتا ہے۔
انفاق کے چند بنیادی آداب یہ ہیں: اخلاص ، صرف اللہ کے لیے دینا۔ حلال مال ، پاک کمائی میں سے خرچ کرنا۔ بہترین چیز دینا، ردی نہیں، پسندیدہ چیز۔ احسان نہ جتانا، دینے کے بعد بھول جانا۔ تکلیف نہ دینا، لینے والے کی عزت کا خیال رکھنا۔ پوشیدہ دینا، جہاں ممکن ہو، خاموشی سے دینا۔ تسلسل، کبھی کبھار نہیں، بلکہ مسلسل دینا۔
حزبُ اللہ: ایک داخلی انقلاب
آخر میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ حزبُ اللہ بننا کسی ایک عمل کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک مسلسل جدوجہد کا نام ہے۔ یہ ایک ایسا سفر ہے جس میں: انسان اپنے نفس سے لڑتا ہے، اپنی خواہشات کو قابو میں لاتا ہے اور اپنے دل کو اللہ کے لیے خالص کرتا ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا میں رہتے ہوئے بھی دنیا کے اسیر نہیں ہوتے۔ حزبُ اللہ کے اوصاف کا خلاصہ یہ ہے کہ: دل کشادہ ہو، نیت خالص ہو، مال پاک ہو، عمل بے لوث ہو اور زندگی اللہ کے لیے ہو۔ ایسے لوگ ہی دراصل کامیاب ہیں، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔
انفاق فی سبیل اللہ اس راستے کا ایک اہم ستون ہے۔ یہ نہ صرف معاشرے میں توازن پیدا کرتا ہے، بلکہ انسان کے اندر ایک روحانی انقلاب بھی برپا کرتا ہے۔ یہ انسان کو خود غرضی سے نکال کر ایثار کی طرف لے جاتا ہے، اور دنیا کی محبت سے نکال کر اللہ کی محبت میں داخل کر دیتا ہے۔
اب ان سطور میں پیش کردہ اوصاف کی روشنی میں ہر انسان اپنے بارے بخوبی یہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ اس کا تعلق کس لشکر سے ہے۔۔۔

جواب دیں

Back to top button