Column

توازن، تطہیر اور خود سازی

توازن، تطہیر اور خود سازی

شہر خواب ۔۔۔

صفدر علی حیدری۔۔۔

انسان محض گوشت و پوست کا پیکر نہیں، بلکہ ایک نہایت نازک اور پیچیدہ امتزاج ہے، عقل، دل اور نفس کی قوتوں کا جغرافیہ۔ یہ تین بنیادی ستون اس کے داخلی وجود کے ڈھانچے کی بنیاد ہیں، اور انہی پر انسان کی تمام ترقی، کمال، یا زوال کا دارومدار ہے۔

عقل روشنی ہے۔ چراغ راہ ہے ۔ جو انسان کے لیے رہنمائی کرتی ہے، حق و باطل میں تمیز پیدا کرتی ہے، فیصلہ سازی کو ممکن بناتی ہے، اور شعور کی راہ دکھاتی ہے۔ عقل کے بغیر انسان اندھی تقلید میں بہہ جاتا ہے، اپنے وجود کی پہچان کھو دیتا ہے، اور اپنی زندگی کی حکمت سے دور ہو جاتا ہے۔

دل توازن ہے۔ وہ انسان کے احساسات، اخلاق، ہمدردی اور محبت کا مرکز ہے۔ دل کے بغیر انسان صرف مشین کی طرح عمل کرنے لگتا ہے، اسکی نرمی اور ہمدردی مر جاتی ہے، اور وہ اپنی فطرت کے لطیف پہلوئوں سے محروم رہ جاتا ہے۔

نفس تحریک ہے۔ وہ انسان کی خواہشات، ارادے، حرکت اور زندگی کے شوق کو جنم دیتا ہے۔ نفس کے بغیر انسان کا عمل جامد ہو جاتا ہے، وہ محض نظریاتی تصورات کا قیدی رہ جاتا ہے، اور دنیا میں کوئی اثر پیدا نہیں کر پاتا۔

مگر یہ تین قوتیں جب اپنی حد سے تجاوز کرتی ہیں، تو انسان کے اندر ایک خاموش انتشار جنم لیتا ہے۔

جب نفس غالب آتا ہے، انسان خواہشات کا غلام بن جاتا ہے۔ وہ جانتے بوجھتے غلط راستے اختیار کرتا ہے، اپنی داخلی روشنی سے دور ہو جاتا ہے، اور دنیا کے بہائو میں اپنی شناخت کھو دیتا ہے۔

جب عقل کمزور پڑتی ہے، انسان کی فیصلہ سازی دھندلا جاتی ہے۔ وہ حق و باطل میں فرق نہ کر پاتا، اندھی تقلید اور جذباتی فیصلوں کا شکار ہو جاتا ہے، اور اس کی زندگی میں حقیقت کا معیار کمزور پڑ جاتا ہے۔

جب دل آلودہ ہو جائے، تو انسان کے احساسات کی لطافت مر جاتی ہے۔ وہ ظلم اور بے انصافی کو معمول سمجھنے لگتا ہے، محبت و ہمدردی سے محروم ہو جاتا ہے، اور اس کی شخصیت کی جمالیات متاثر ہوتی ہیں۔

یہاں اصل کمال اس میں نہیں کہ انسان ان قوتوں کو دبائے، بلکہ کہ انہیں ایک لڑی میں پروے، ایسا توازن قائم کرے، جہاں : نفس محرک ہو، مگر حاکم نہ ہو: عقل رہنما ہو، مگر بے حس نہ ہو: دل نرم ہو، مگر کمزور نہ ہو۔

یہ توازن محض اتفاق سے پیدا نہیں ہوتا۔ یہ ایک مسلسل محنت، تدریجی مجاہدہ اور شعوری کوشش کا نتیجہ ہے۔انسان کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ خود احتسابی کرے۔ ہر روز اپنے آپ سے یہ سوال کرے: ’’ میرا عمل میری خواہشات کا نتیجہ تو نہیں؟ کیا میرا فیصلہ صرف نفس کی پیروی تو نہیں؟‘‘۔

یہی داخلی تنقید، انسانی شعور کو مضبوط کرتی ہے۔ جیسے نقد تبصرے میں کھوٹے اور خالص کو الگ کیا جاتا ہے، اسی طرح انسان کو اپنے اندر جھانک کر اپنی صفات، خواہشات اور اعمال کا جائزہ لینا ہوتا ہے۔

یہ پہلا قدم ہے خود سازی کی طرف، اپنے نفس کو پہچاننے، اپنی خواہشات کو جانچنے، اور اپنے دل و عقل کو یکساں کر کے زندگی میں عملی رنگ دینے کا انسان کے اندر جو صفات اور خواہشیں کھلی ملی ہوئی ہیں، وہ اکثر بے لگام ہوتی ہیں۔ اگر ان کو قابو میں نہ لایا جائے، تو وہ انسان کو اندھیری طرف لے جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شریعت نے انسان کے لیے حدود و اصول مقرر کیے ہیں، یہ حدود انسان کے نفس، دل اور عقل کی صفائی اور تطہیر کے لیے ہیں۔

نفس کی اصلاح، دل کی تطہیر اور عقل کی روشنی کا یہ عمل محض اخلاقی عمل نہیں، بلکہ روح کے مطابق زندگی گزارنے کی ضرورت ہے۔

انسان کے اندر کی خواہشات کو شریعت کے دائرے میں لانا، انہیں نیکی کی طرف مائل کرنا اور اعمال کو صاف کرنا، سب ایک سلسلے میں بندھ جاتے ہیں۔ یہ سلسلہ انسان کو روحانی توازن عطا کرتا ہے۔

دل کی صفائی ایک نازک عمل ہے۔ دل میں اگر حسد، کینہ، نفرت یا خود غرضی ہو، تو انسان کے اعمال بوجھل اور ظالم بن جاتے ہیں۔ دل کے پاک ہونے کا مطلب صرف منفی جذبات کا ختم ہونا نہیں، بلکہ حقیقت کا آئینہ بن جانا ہے، حق کی عکاسی کرنا۔

پیر نصیر الدین شاہ نے فرمایا تھا

دل اگر بے غبار ہو جائے

حق کا آئینہ دار ہو جائے

یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کی داخلی روشنی واضح ہوتی ہے۔ نفس کی تحریک اور عقل کی رہنمائی دل کے آئینے میں صاف نظر آتی ہے، اور انسان کا عمل ایک متوازن اور باوقار شخصیت کی صورت اختیار کرتا ہے۔

انسان کی اعلیٰ ترین کوشش یہ ہونی چاہیے کہ وہ اپنے اندر توازن قائم کرے۔ اگر وہ یہ نہ کرے، تو وہ اپنے اندرونی تضادات، خواہشات اور جذبات کی آگ میں خود کو جلا دیتا ہے۔

جیسا کہ میں نے سنگ ریزے میں لکھا تھا: ’’ جو خود سازی نہیں کرتا، خود سوزی کرتا ہے‘‘۔

یہی وہ حقیقت ہے جو انسان کی زندگی کو کامیاب یا ناکام بناتی ہے۔ خود سازی، تطہیرِ نفس، دل کی صفائی اور عقل کی روشنی کے بغیر انسان محض اپنے اندرونی انتشار کا شکار رہتا ہے۔

یہ عمل فوری نہیں، بلکہ تدریجی ہے۔ جیسے ہیرے کو تراشا جاتا ہے، جیسے سونے کو آگ میں تپایا جاتا ہے، انسان کو بھی اپنے اندر کی میل، کثافت اور بے لگام خواہشات سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہ تدریجی صیقل، انسان کو متوازن، نکھرا اور مکمل بناتی ہے۔

خواہشیں بذات خود بری نہیں ہیں، مگر ان کی تربیت اور تطہیر ضروری ہے۔ اگر ان پر قابو نہ پایا جائے، شریعت کی لگام نہ ڈالی جائے ، شعور کی کاٹھی نہ رکھی جائے ، ادب کی لاٹھی نہ دکھائی جائے تو وہ انسان کو اندھیروں میں دھکیلتی ہیں۔ اگر انہیں شعور اور تربیت کے تحت ڈھالا جائے، تو وہ انسان کی تعمیرِ ذات اور روحانی کمال کا سبب بن جاتی ہیں۔ انسان محض ایک معمولی ذرّہ نہیں۔ ظاہری طور پر وہ کائنات کے مقابلے میں چھوٹا ہے، مگر باطنی طور پر وہ ایک کائنات ہے، خیالات، جذبات، ارادوں اور شعور کی وسعتوں کا مجموعہ۔

یہی وہ مقام ہے جہاں انسان اپنی حقیقی شناخت پاتا ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ اس کے اندر موجود تضاد اس کی کمزوری نہیں بلکہ اس کی اصل طاقت ہے۔ یہ تضاد اسے انتخاب کی آزادی دیتا ہے، اور یہی انتخاب اسے اخلاقی اور شعوری ہستی بناتا ہے۔

انسان کا مقصد محض بقا نہیں، بلکہ تکمیل ہے۔ یہ تکمیل تب ممکن ہے جب وہ: اپنے نفس کو پہچانے، اپنے دل کو پاک کرے، اپنی عقل کو روشن رکھے، اپنی روح کو بیدار کرے۔

یہی وہ سفر ہے جو انسان کو ایک عام مخلوق سے ایک باوقار، شعوری اور مکمل انسان میں بدل دیتا ہے۔

اور جب انسان اس مقام تک پہنچتا ہے، تو اسے یہ راز معلوم ہوتا ہے کہ اصل کامیابی دنیا کو جیتنے میں نہیں، بلکہ اپنے اندرونی انتشار کو ہم آہنگ کرنے میں ہے۔

اصل بلندی دوسروں پر غالب آنے میں نہیں، بلکہ اپنے نفس کو نیکی کی طرف مائل کرنے میں ہے۔

اور جب وہ اس مقام تک پہنچتا ہے تو اسے وہ حقیقت منکشف ہوتی ہے جو اہلِ حکمت دہراتے آئے ہیں: مولا علیؓ نے کیا خوب فرمایا ہے کہ ’’ تو کیا سمجھتا ہے کہ تو ایک ننھا سا وجود ہے؟، درآں حالیکہ تیرے اندر ایک کائنات لپٹی ہوئی ہے‘‘۔

جواب دیں

Back to top button