
ایران نے امریکا کے ساتھ ممکنہ زمینی تصادم کے خدشے کے پیشِ نظر 1 ملین سے زائد فوجیوں کو متحرک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے ’تسنیم‘ کے مطابق نوجوان رضاکار بڑی تعداد میں بسیج، پاسدارانِ انقلاب اور ایرانی فوج کے بھرتی مراکز کا رُخ کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں ایک فوجی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ زمینی افواج کو منظم کر کے جنگ کے لیے تیار کر لیا گیا ہے اور امریکی افواج کی ایران میں ممکنہ آمد کی صورت میں سخت ردِعمل دیا جائے گا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی حکام نے امریکا کے ساتھ کسی بھی سفارتی پیشکش کو عوامی سطح پر مسترد کر دیا ہے۔
ادھر امریکا کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں فوجی سرگرمیاں بڑھا دی گئی ہیں جہاں امریکی 82 ویں ایئر بورن ڈویژن کے دستے جَلد خطے میں پہنچنے والے ہیں جبکہ ہزاروں میرینز پہلے ہی تعینات ہیں۔







