
ابوظہبی میں حکام نے تصدیق کی ہے کہ ایک میزائل کا ملبہ گرنے سے دو افراد ہلاک اور تین زخمی ہو گئے ہیں۔ حکام کے مطابق متعدد کاروں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری لڑائی کے دوران ابو ظہبی کو بھی متعدد حملوں کا سامنا رہا ہے اور یہاں ایران نے اب تک 2100 سے زائد میزائل اور ڈرونز لانچ کیے ہیں۔
اگرچہ وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ زیادہ تر حملوں کو روک دیا گیا ہے، لیکن معلومات تک رسائی میں یہاں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔
حملوں سے ہونے والے نقصانات کی تصاویر لینے اور ویڈیو ریکارڈ کرنے کی پاداش میں اب تک 100 سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
برطانیہ کے دفتر خارجہ نے برطانیہ کے شہریوں کو متنبہ کیا ہے کہ یہاں کی حکومت پر تنقید کرنے والے مواد کو پوسٹ کرنا بھی غیر قانونی ہے۔
لیکن ابوظہبی میں ہونے والے یہ حملے متحدہ عرب امارات میں تحفظ اور استحکام کی کھینچی گئی تصویر کو دُھندلا کر رہے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کی بات چیت کے دوران اس کے میزائل اور ڈرون پروگرام پر طویل مدت تک پابندی ہونی چاہیے







