تازہ ترینخبریںدنیاسیاسیاتپاکستان

خلیج میں جنگی تیاریاں تیز: امریکا ایران کیخلاف کون سی فوج لا رہا ہے؟

مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے خلاف جاری جنگ کے دوران امریکا نے خلیج میں اپنی فوجی موجودگی میں بڑا اضافہ کر دیا ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے ایک طرف ایران کے ساتھ مذاکرات کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ دوسری جانب ہزاروں فوجیوں اور جنگی جہازوں کو خطے کی طرف بھیجا جا رہا ہے۔

28 فروری سے جاری امریکی اسرائیلی کارروائیوں میں ایران کے 9 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے، جس میں میزائل مراکز، ڈرون تنصیبات اور فوجی اڈے شامل ہیں۔

اس کے جواب میں ایران نے میزائل اور ڈرون حملے تیز کر دیے ہیں اور اہم عالمی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو مؤثر طور پر بند کر دیا ہے، جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے
امریکا نے خلیج کی طرف جدید بحری بیڑے روانہ کیے ہیں، جس میں یو ایس ایس تریپولی اور یو ایس ایس باکسر شامل ہیں، جبکہ 82 ویں ایئربورن ڈیویژن کے تقریباً 2 ہزار فوجیوں کو بھی فوری تعیناتی کے لیے بھیجا جا رہا ہے، مجموعی طور پر تقریباً 7 ہزار اضافی امریکی فوجی خطے میں پہنچ رہے ہیں۔

دفاعی ماہرین کے مطابق یہ تعیناتی مکمل زمینی جنگ کے لیے نہیں بلکہ محدود اور تیز رفتار آپریشنز کے لیے ہے، جس میں خارگ جزیرے پر کنٹرول، آبنائے ہرمز کو کھولنا اور ایران کی جوہری تنصیبات جیسے نطنز کو محفوظ بنانا شامل ہو سکتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button