یومِ پاکستان: عسکری قوت، اتحاد اور قومی وقار کا جشن

یومِ پاکستان: عسکری قوت، اتحاد اور قومی وقار کا جشن
تحریر: عبدالباسط علوی
یومِ پاکستان جو 23مارچ کو منایا جاتا ہے، قوم کے جذبے اور اتحاد کی عکاسی کرتا ہے اور کوہِ قراقرم سے لے کر بحیرہ عرب تک پاکستان کے ماضی، حال اور مستقبل کو آپس میں جوڑتا ہے۔ یہ دن 25کروڑ شہریوں کے اس اجتماعی عہد کی تجدید کرتا ہے جو نظریہ پاکستان کی صورت میں سب سے پہلے علامہ محمد اقبال کی شاعری اور فلسفے میں ظاہر ہوا اور بعد ازاں قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت میں ایک خودمختار ریاست کے طور پر حقیقت بنا۔ 2026ء کی یہ تقریبات حالیہ جیو پولیٹیکل تنائو اور ٹکرائو کے بعد فخر کے ایک مضبوط احساس کے ساتھ منائی جا رہی ہیں جن کے نتیجے میں پاکستان بین الاقوامی سطح پر پہلے سے زیادہ مضبوط اور نمایاں ہو کر ابھرا ہے اور اس یقین کو تقویت ملی ہے کہ ایمان اور اتحاد کی بنیاد پر قائم ہونے والی قوم محفوظ رہتی ہی اور اپنے بانیوں کے خواب کی تکمیل جاری رکھتی ہے۔ اس دن کی تاریخی بنیاد 23مارچ 1940ء میں پنہاں ہے جب برصغیر کے مسلمانوں نے لاہور کے منٹو پارک میں جمع ہو کر قراردادِ لاہور منظور کی تھی جو خود مختار خطوں کے مطالبے سے بڑھ کر ایک الگ آزاد وطن کی پکار بن گئی جہاں مسلمانوں کی ثقافتی، مذہبی اور سیاسی شناخت پروان چڑھ سکے۔ اقبال نے اس سے قبل شمال مغربی ہندوستان میں ایک متحد مسلم ریاست کا تصور پیش کر کے فکری تحریک فراہم کی تھی جو سماجی انصاف، مساوات اور انسانی وقار کے اسلامی نظریات پر مبنی تھی جبکہ جناحؒ نے پرعزم قیادت اور ایک ایسے آئینی ڈھانچے کے ذریعے اس تصور کو سیاسی حقیقت میں بدل دیا جس نے شہریوں کو اپنی روایات کو پروان چڑھانے اور اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گزارنے کا موقع فراہم کیا۔ پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری پر اعتماد بھارت کے ساتھ تنائو کے دوران اس کی مسلح افواج کی کارکردگی سے مزید مستحکم ہوا ہے جہاں سرجیکل اسٹرائیکس اور فضائی معرکوں جیسے نپے تلے اور فیصلہ کن اقدامات نے تیاری اور پیشہ ورانہ مہارت کا ثبوت دیا، شہریوں کو تحفظ کا احساس دلایا، دفاعی اخراجات کو امن کے لیے سرمایہ کاری کے طور پر درست ثابت کیا اور اس یقین کو پختہ کیا کہ فوج ملک کے نظریات کی حفاظت کرتے ہوئے جارحیت کے تدارک اور علاقائی وقار میں اضافہ کرتی ہے۔ یہ عسکری طاقت اقبال کے اس خواب کی تعبیر کے وسیع تر مقصد کی حمایت کرتی ہے جس میں مسلمان عزت کے ساتھ زندگی گزاریں اور جناحؒ کے اس ہدف کو پورا کرتی ہے جس میں ایک ایسی جمہوری، ترقی پسند اور منصفانہ ریاست قائم ہو جو امتِ مسلمہ کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہو۔ جی ایچ کیو کی اسٹریٹجک منصوبہ بندی اور لائن آف کنٹرول پر چوکسی سے لے کر فضائی دفاع کے جدید نظام اور سمندری راستوں کے بحری تحفظ تک پاکستان کے مربوط دفاع نے اس کے سفارتی وزن میں اضافہ کیا ہے جس کی وجہ سے علاقائی امن، افغان امن عمل، تجارت و توانائی کے مواقع اور مسئلہ کشمیر جیسے اصولی موقف کے ساتھ ساتھ معاشی سفارت کاری میں پاکستان کی مشاورت کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ اسی دوران ایران اور امریکہ، اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی خطے کے لیے خطرات پیدا کر رہی ہے جو پاکستان کے لیے داخلی اتحاد اور تیاری کو مضبوط بنانے کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے کیونکہ مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام سرحدی سیکیورٹی، اسٹریٹجک اثاثوں، توانائی کی فراہمی اور خلیج میں مقیم پاکستانی برادری کو متاثر کرتا ہے۔ یہ صورتحال اس بات پر زور دیتی ہے کہ قومی سلامتی کا انحصار خود انحصاری اور ہم آہنگی پر ہے اور یوں یومِ پاکستان ایک یاد دہانی بن جاتا ہے کہ اندرونی تقسیم، سیاسی انتشار اور سماجی بکھرائو قومی لچک کو کمزور کرتے ہیں جبکہ ملک کے 25کروڑ شہریوں کے درمیان اتحاد، جس کا مظاہرہ بھارت کے ساتھ تنازعات کے دوران عوام نے سیاسی اور نسلی تفریق سے بالاتر ہو کر مسلح افواج کی حمایت کر کے کیا تھا، ملک کی سب سے بڑی طاقت ہے اور قائد اعظمؒ کے اس قول کی عکاسی کرتا ہے کہ برصغیر کے مسلمان اپنی ثقافت، روایات، قوانین، اقدار اور طرزِ زندگی کے ساتھ ایک الگ قوم ہیں۔
یومِ پاکستان پر جب جھنڈے لہرائے جاتے ہیں اور سڑکوں پر قومی ترانہ گونجتا ہے تو یہی احساس ہر دل کو فخر سے بھر دیتا ہے، یہ فخر ماضی پر ہے کہ ان لوگوں نے قربانیاں دیں جنہوں نے ہمارے کل کے لیے اپنا آج قربان کر دیا، یہ فخر حال پر ہے کہ وردی پوش مرد و خواتین قوم کی حفاظت کے لیے جانیں قربان کرنے کو تیار کھڑے ہیں اور یہ مستقبل کے لیے ایک امید ہے کہ کل کا پاکستان مزید مضبوط، خوشحال اور متحد ہوگا۔ قائدؒ کا وژن محض ایک آزاد ملک نہیں بلکہ ایک ایسی ریاست تھی جہاں قانون کی حکمرانی ہو، جہاں کمزور اور غریب کو انصاف ملے اور ریاست اپنے شہریوں کے لیے ایک امین کے طور پر کام کرے۔ اس منزل کی طرف سفر طویل ہے لیکن بنیادی طاقت یعنی ریاست کی خودمختاری اور سلامتی کو محفوظ کر لیا گیا ہے۔ حالیہ جیو پولیٹیکل محرکات، براہِ راست تنازعات اور منڈلاتے ہوئے خطرات نے اس بنیادی طاقت کو مزید چمکایا ہے، انہوں نے دنیا کو اور سب سے بڑھ کر ہمیں یاد دلایا ہے کہ پاکستان کوئی ایسی ناکام ریاست نہیں جو تباہی کا انتظار کر رہی ہو بلکہ ایک ایسی لچکدار قوم ہے جس نے بار بار تباہی کی پیشگوئیوں کو غلط ثابت کیا ہے۔ یہ وہ قوم ہے جو المیوں کی راکھ اور غیر یقینی کی دھند سے بار بار ابھری ہے تاکہ اپنی شناخت منوا سکے۔
پاکستان کے ایک خطرناک جگہ ہونے کے بیانیے کی جگہ اب یہ حقیقت لے رہی ہے کہ پاکستان خطرناک لوگوں کی جگہ ہے یعنی ان کے لیے جو اسے نقصان پہنچانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ پاکستان کی آواز جو کبھی عالمی طاقتوں کے ایوانوں میں ایک سرگوشی تھی اب ایک پر اعتماد دعویٰ ہے جو امن کی بات تو کرتا ہے لیکن طاقت کے مقام سے، جو مذاکرات کی وکالت کرتا ہے لیکن اس یقین کے ساتھ کہ وہ کمزوری کا شکار نہیں ہے، جو سفارت کاری میں مصروف ہے لیکن اپنی خودمختاری کے گرد ایک ایسی سرخ لکیر کے ساتھ جسے پار کرنے کی کوئی جرات نہیں کر سکتا۔ ایران، امریکہ اور اسرائیل کا تنازع ایک جیو پولیٹیکل امتحان کی طرح ہے اور پاکستان کا ردِعمل ایک نپی تلی پختگی کا عکاس رہا ہے جس نے تحمل کی اپیل کی، ثالثی کی پیشکش کی اور اپنی سرحدوں کی حفاظت کو ترجیح دی۔ یہ ایک ذمہ دار ایٹمی طاقت کی علامت ہے، ایک ایسی قوم جو اپنی اسٹریٹجک گہرائی اور ذمہ داریوں کو سمجھتی ہے۔ یہ یاد دہانی ہے کہ پاکستان کا دفاع محض خطرات پر ردِعمل دینے کا نام نہیں بلکہ انہیں بھانپنے، ڈیٹرنس پیدا کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے کا نام ہے کہ کسی بھی علاقائی یا عالمی صف بندی میں اس کے قومی مفادات محفوظ رہیں۔
پاکستان کا خواب دیکھنے والے علامہ اقبالؒ نے ایک ایسی منزل کا تصور کیا تھا جہاں مسلمانوں کو اپنا مقدر مل سکے اور اس کے معمار قائدِ اعظمؒ نے اس خواب کو نقشہ اور آئین دیا، آج پاکستان کے عوام اس خواب کے وارث اور اس کے محافظ ہیں۔ حالیہ برسوں نے ثابت کیا ہے کہ یہ حفاظت محفوظ ہاتھوں میں ہے، قوم نے جنگ اور امن کے چیلنجوں کا یکساں ہمت سے مقابلہ کیا ہے۔ مسلح افواج کی بہادری، سول سوسائٹی کی استقامت، میڈیا کے تحرک اور عوام کے غیر متزلزل ایمان نے مل کر پاکستان کو اس ہنگامہ خیز دنیا میں طاقت کا گڑھ بنا دیا ہے۔ جب یومِ پاکستان کا سورج غروب ہوتا ہے تو وہ اپنے پیچھے صرف ایک پریڈ کی یادیں نہیں بلکہ مقصد کا ایک نیا احساس چھوڑ جاتا ہے، یہ ایک ایسی قوم چھوڑتا ہے جسے پہلے سے کہیں زیادہ یقین ہے کہ اس کی بنیادیں گہری، اس کا دفاع مضبوط اور اس کا مستقبل روشن ہے۔ بھارت کے ساتھ تنازعات ایک آتش کی طرح ثابت ہوئے اور اس آگ سے پاکستان جلے ہوئے لوہے کی طرح نہیں بلکہ کندن بنے ہوئے فولاد کی طرح نکلا ہے۔ علاقائی جنگیں ایک تاریک پس منظر ہیں لیکن اس تاریک افق پر پاکستان کا عکس ایک ایسے پاسبان کا ہے جو چوکنا، مضبوط اور غیر متزلزل ہے۔ لہٰذا یہ یومِ پاکستان محض ایک جشن سے بڑھ کر ایک اعلان ہے، دنیا اور خود اپنے لیے یہ اعلان کہ علامہ اقبال کا خواب اور قائدِ اعظم ؒکا وژن نہ صرف محفوظ بلکہ خودمختار ہے، نہ صرف زندہ بلکہ توانا ہے اور نہ صرف مضبوط بلکہ ناقابلِ شکست ہے۔ آج کا فخر کل کی عظمت کی بنیاد ہے اور اس دن ہر پاکستانی کا سر فخر سے بلند ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ وہ ایک ایسی قوم سے تعلق رکھتا ہے جس نے اپنی دھاک بٹھا دی ہے اور جس کا مقدر عظمت ہے۔





