Column

ایران، امریکہ اور طاقت کا نیا توازن: حقیقت یا بیانیہ؟

ایران، امریکہ اور طاقت کا نیا توازن: حقیقت یا بیانیہ؟
تنقیدی جائزہ
نایاب جاوید
ہم بچپن سے یہ سنتے آئے ہیں کہ اگر پوری دنیا بھی کسی کے خلاف ہو جائے تو وہ اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی جب تک اللہ نا چاہے، اور حالیہ حالات کو دیکھ کر بظاہر یہی تاثر ابھرتا ہے کہ ایران نے عالمی طاقتوں کے سامنے ایک غیر معمولی مزاحمت دکھائی ہے، مگر اگر اس پوری صورتحال کو جذبات کے بجائے تنقیدی نظر سے دیکھا جائے تو تصویر کچھ زیادہ پیچیدہ نظر آتی ہے، ایران کی جانب سے امریکہ کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے لیے جو شرائط سامنے آئی ہیں، جیسے خلیجی ممالک سے امریکی فوجی اڈوں کا خاتمہ، بھاری مالی ہرجانہ، عالمی پابندیوں کا مکمل خاتمہ اور کسی قابلِ اعتماد ثالث کی موجودگی یہ بظاہر ایک مضبوط اور خودمختار موقف لگتا ہے لیکن عملی طور پر یہ مطالبات اتنے سخت ہیں کہ ان کا تسلیم کیا جانا تقریباً ناممکن دکھائی دیتا ہے، جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ واقعی مذاکرات کی پیشکش ہے یا ایک ایسی حکمت عملی جس کے ذریعے وقت حاصل کیا جا رہا ہے اور عالمی دبائو کو اپنی شرائط پر موڑا جا رہا ہے۔
اسی تناظر میں آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz)کی صورتحال کو دیکھنا ضروری ہے جہاں ایران کا اثر و رسوخ اس تنازعے کو عالمی سطح پر لے آیا ہے، دنیا کی بڑی تیل سپلائی اسی راستے سے گزرتی ہے اور اس پر دبائو ڈال کر ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ صرف دفاعی پوزیشن میں نہیں بلکہ عالمی معیشت کے ایک حساس نکتے کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے، بعض واقعات جیسی تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنانا یا مخصوص ممالک کو محدود اجازت دینا یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ ایک ’’ کنٹرولڈ پریشر‘‘ کی پالیسی ہے، یعنی مکمل جنگ کے بغیر بھی دنیا کو متاثر کیا جا سکتا ہے، لیکن یہاں بھی ایک اہم سوال ہے کہ کیا یہ حکمت عملی طویل مدت میں ایران کے لیے فائدہ مند ہوگی یا اس سے مزید عالمی تنہائی اور معاشی دبائو بڑھے گا۔
اگر ہم وسیع تر عالمی تناظر کو شامل کریں تو یہ معاملہ صرف ایران اور امریکہ تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس میں بڑی طاقتوں کی خاموش پوزیشننگ بھی شامل ہے، ایک طرف امریکہ اپنی عالمی برتری برقرار رکھنا چاہتا ہے تو دوسری طرف چین اور روس جیسے ممالک ایسے مواقع کو اپنے اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے استعمال کرتے ہیں، اس طرح یہ تنازع ایک بڑی جیو پولیٹیکل کشمکش کا حصہ بن جاتا ہے جہاں ہر فریق براہِ راست نہیں بلکہ اسٹریٹیجک انداز میں کھیل رہا ہے، اسی لیے یہ کہنا کہ ’’ ایران نے امریکہ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا‘ شاید ایک جذباتی بیانیہ تو ہو سکتا ہے لیکن مکمل حقیقت نہیں، کیونکہ عالمی سیاست میں طاقت کا توازن ایک واقعے سے نہیں بلکہ مسلسل دبا، مذاکرات اور مفادات کے توازن سے طے ہوتا ہے۔
مزید یہ کہ اگر اس صورتحال کو خطے کے دیگر حالات کے ساتھ جوڑا جائے جیسے غزہ کی جنگ، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی اور جنوبی ایشیا کی حساس جغرافیائی حیثیت تو یہ واضح ہوتا ہے کہ ہر واقعہ ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے، ایران کا سخت مقف جہاں ایک طرف مزاحمت کی علامت ہے وہیں دوسری طرف یہ بھی ممکن ہے کہ یہ ایک لمبی اسٹریٹیجک گیم ہو جس میں براہِ راست تصادم کے بجائے عالمی نظام پر دبائو ڈال کر اپنے مفادات حاصل کیے جائیں، لیکن اس حکمت عملی کا ایک خطرناک پہلو بھی ہے کیونکہ اگر یہ کشیدگی مزید بڑھی تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ توانائی کے بحران، مہنگائی اور معاشی عدم استحکام کی صورت میں جنوبی ایشیا خصوصاً پاکستان جیسے ممالک کو بھی متاثر کریں گے۔
میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ ہمیں اس پوری صورتحال کو نہ مکمل فتح کے بیانیے کے طور پر دیکھنا چاہیے اور نہ ہی مکمل شکست کے، بلکہ اسے ایک جاری اسٹریٹیجک کشمکش کے طور پر سمجھنا چاہیے جہاں ہر فریق اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے، ایران کا موقف اپنی جگہ اہم ہے لیکن عالمی حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی ملک مکمل طور پر تنہا ہو کر طویل عرصے تک عالمی نظام کو چیلنج نہیں کر سکتا، اسی لیے ضروری ہے کہ ہم ان حالات کو جذباتی نعروں کے بجائے حقیقت پسندانہ اور تنقیدی نظر سے دیکھیں تاکہ ہم نہ صرف عالمی سیاست کو بہتر سمجھ سکیں بلکہ اپنے خطے کے مستقبل کے بارے میں بھی زیادہ واضح اور باشعور موقف اختیار کر سکیں۔

جواب دیں

Back to top button