سندھ کی محرومیاں اور حکومتی بے حسی

سندھ کی محرومیاں اور حکومتی بے حسی
کاشف سعید شیخ ( امیر جماعت اسلامی سندھ)
باب الاسلام سندھ اس وقت بدامنی لاقانیت ڈاکو راج تعلیم کی تباہی قبائلی جھگڑے اور خراب حکمرانی کی وجہ بے شمار مسائل کا شکار ہے۔ سندھ میں گزشتہ 18سال سے تسلسل کے ساتھ پیپلزپارٹی کی حکومت ہے مگر مسائل حل ہونے کی بجائے ’’ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی‘‘ کے مصداق ایسا لگتا ہے کہ صوبہ کے عوام کو پتھر کے دور میں دھکیل دیا گیا ہے۔ حکومتی جبر اور وڈیرہ شاہی نظام نے سندھ کے عوام کو سالوں سے یرغمال بنا رکھا ہے۔ صوبہ سندھ وسائل سے مالا مال ہے مگر حکومتی نااہلی کرپشن اور تمام اختیارات اپنے پاس رکھنے کی وجہ سے صوبہ کے عوام غربت و افلاس کا شکار ، صحت و تعلیم کی بنیادی سہولیات سے محروم اور پورا سندھ کھنڈرات بنا ہوا ہے انفرا سٹرکچر تباہ ہے۔ تعلیم سے محرومی اور صنعتوں کی بندش سے نوجوان منشیات کے عادی اور جرائم کی دنیا میں دھکیلے جارہے ہیں۔ اصولی طور پر سندھ کے قدرتی وسائل پر پہلا حق صوبے کے عوام کا ہونا چاہئے، مگر آئین کے برعکس سندھ کے عوام کو بجلی گیس پٹرول کوئلے پر اپنے حق سے محروم اور سندھ کے پانی پر ڈاکہ زمینوں پر غیر قانونی قبضے سے اسٹیبلشمنٹ اور ان کے مسلط کردہ قیادت عوام کو بغاوت پر مجبور کر رہے ہیں۔ لاپتہ افراد کا مسئلہ بھی دن بدن بڑھتا جارہا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ گمشدہ افراد کا مسئلہ حل کرکے ریاست حقیقی طور پر ماں کا حق ادا کرے۔ اسی طرح تھر کے کوئلے سے بننے والی بجلی اور سندھ سے نکلنے والی گیس دوسرے صوبے میں تو روشنیاں اور صنعتیں چلائی جارہی ہیں۔ جبکہ سندھ میں بجلی اور گیس کی بدترین لوڈ شیڈنگ کرکے عوام کے زخموں پر نمک پاشی کی جا رہی ہے۔ اس تمام تر صورتحال پر مفاہمت کی بادشاہ پیپلز پارٹی کا کردار نہ صرف مجرمانہ ہے بلکہ وہ اس میں سہولت کار بنی ہوئی ہے۔ جس دن سندھ کے عوام بیدار اور اپنے حقوقِ کے لیے میدان میں نکلے تو اسٹیبلشمنٹ اور ان کی مسلط کردہ قیادت کو جائے پناہ بھی نہیں مل سکے گی۔ سندھ ایک ہے اور ایک رہے گا۔ یاد رکھیں کفر کی حکومت چل سکتی ہے مگر ظلم کی نہیں ، عدل و انصاف کے بغیر کوئی بھی ملک و معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا، سانحہ مشرقی پاکستان سے سبق حاصل کیا جائے۔
اللہ تعالیٰ نے سندھ کو 26بہترین قسم کی معدنیات اور وسائل سے نوازا ہے پاکستان سے نکلنے والی 70فیصد گیس سندھ سے نکلتی ہے، 65فیصد ریونیو بھی سب سے زیادہ سندھ جمع کرتا ہے، تیل کی پچاس فیصد پیداوار بھی سندھ میں ہے، ملٹی نیشنل کمپنیوں کا سب سے زیادہ حصہ اور زیادہ بینکنگ سسٹم بھی سندھ سے ہے آئی ٹی کا بزنس بھی پچاس فیصد اور تین ہزار کمپنیاں سندھ کی ہیں دنیا کا ساتواں کوئلے کا بڑا ذخیرہ بھی سندھ میں ہے، جس سے آئندہ تین سو سال تک توانائی کی ضروریات پوری ہوسکتی ہیں، 171ارب ڈالر کی انرجی حاصل کی جاسکتی ہے، ونڈ پاور کا محور جہمپیر بھی سندھ میں ہے، کارونجھر میں گرے نائٹ کے قیمتی پہاڑ بھی سندھ میں ہیں، اس سب کچھ کے باوجود کراچی تا کشمور سندھ کو دیوار سے لگایا جارہا ہے۔ صوبے اور ملک کا سب سے بڑا شہر کراچی کچرا کنڈی عوام پانی بجلی اور بہتر ٹرانسپورٹ کی سہولت جبکہ سندھ موٹر وے سے محروم ہے، دنیا بھر میں یہ اصول ہوتا ہے کہ پورٹ و ساحلی شہروں کو موٹر وے سے منسلک کیا کاتا ہے، سندھ کی 44فیصد آبادی آج بھی لکڑیوں پر کھانا پکاتی ہے، شہروں کی بڑی آبادی کو پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں ہے 59فیصد آبادی ایسی ہے جنہیں رہنے کے لئے پختہ مکانات نہیں ہیں، سندھ کے 45فیصد عوام غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں، یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق روزانہ 7لاکھ بچے بھوکے سوتے ہیں، 78لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہیں، 5سال تک کی عمر کے بچوں کا خوراک کی کمی کے باعث قد نہیں بڑھ رہا ہے، خواندگی ایک فیصد کم ہوگئی ہے، 69فیصد سکولوں میں بجلی کی سہولت نہیں ہے، 45فیصد میں واش روم کی سہولت میسر نہیں، سندھ کی تعلیم کا بیڑا غرق کر دیا گیا ہے، سندھ میں امن و امان کا بڑا مسئلہ ہے، سندھ پولیس کی جاری کردہ رپورٹ کیمطابق 1332افراد قتل ہوئے ہیں، 2981حملے سندھ پولیس پر ہوئے ہیں، 1056افراد کو پولیس مقابلوں میں ہلاک کیا گیا ہے، سندھ میں کوئی صنعت نہیں ہے کراچی کے علاوہ سندھ کی زراعت کو تباہ کر دیا گیا ہے نوجوانوں سے تعلیم ختم کی جارہی ہے ، روزگار نہیں دیا جارہا، انہی وجوہات کی وجہ سے فرسٹریشن جنم لیتا ہے اور نوجوان منشیات کے عادی ہوتے جارہے ہیں۔ اس صورتحال میں جماعت اسلامی عوامی مسائل کے حل اور عوامی بیداری کے لیے عیدالفطر کے بعد جماعت اسلامی سندھ کے بڑے شہروں سے احتجاجی دہرنوں کا آغاز کریگی، پاکستان کو خوشحال اور ترقی یافتہ ملک بنائیں گے۔ جماعت اسلامی الخدمت کے تحت بنو قابل پروگرام کے ذریعے 13 لاکھ بچوں کو رجسٹر کر چکے ہیں، جنہیں ہنرمند پروگرام کے تحت نوجوانوں کو تربیت فراہم کرینگے۔ حیدرآباد میں 40ہزار بچوں نے انٹری ٹیسٹ دیا جبکہ اگلے مرحلے میں نواب شاہ سکھر اور لاڑکانہ میں بنوقابل انٹری ٹیسٹ کا انعقاد کرکے نوجوانوں کو ہنر مند بناکر سندھ کو ترقی و خوشحالی کی طرف لے جائیں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ہو یا دودھ دینے والے جانوروں کی تقسیم سے نہیں بلکہ حکومتی گڈ گورننس، کرپشن کے خاتمے اور عدل و انصاف پر مبنی اسلامی نظام کے قیام سے ہی غربت کا خاتمہ، سندھ کی ترقی اور عوام کے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ سندھ میں گزشتہ 18سال سے مسلسل پیپلز پارٹی کی حکومت ہے، مگر کرپشن، جیالا نوازی اور ناقص کارکردگی کے باعث عوام اور سندھ کے حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی سندھ بھر میں ایک یو سی اور تحصیل ماڈل کے طور پر پیش نہیں کر سکتی کہ جہاں پر صاف پانی سمیت عوام کو بنیادی سہولیات میسر ہوں۔ سندھ کا دوسرا بڑا شہر حیدرآباد اور تیسرا بڑا شہ سکھر دریا کے کنارے پر آباد ہونے کے باوجود عوام پینے کے پانی، اسٹریٹ کرائم سمیت بے شمار مسائل کا شکار ہے۔
جماعت اسلامی سندھ کی وحدت پر یقین رکھتی ہے، ہمارے سندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر محمد فاروق فرحان نے سندھ کی تقسیم کے خلاف ووٹ دیا مگر حکمران کب تک قرار دادوں کے ذریعے اپنی ناکامیوں، کرپشن اور عوام کی محرومیوں کو چھپاتے رہیں گے۔ اس لیے بااختیار و با وسائل بلدیاتی نظام، کرپشن کے خاتمہ اور ہر سطح پر عدل و انصاف پر مبنی اقدامات سے ہی محرومیوں اور غیر آئینی مطالبات کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ پھر 18ویں ترمیم رول بیک، کراچی کو وفاق کے حوالے یا نئے صوبے کے مطالبے کا کوئی جواز نہیں ہوگا۔ کراچی میں جماعت اسلامی کے ٹائونز چیئرمین نے محدود وسائل اور اختیارات سے بڑھ کر کام کیا ہے۔ سندھ میں بلدیاتی نمائندوں کی اکثریت پیپلز پارٹی سے وابستہ ہے اب مدت بھی ختم ہونے والی ہے مگر وہ بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات دینے کے لیے تیار نہیں ہے تاکہ وہ مزید کرپشن کے ریکارڈ توڑ سکی جو عوام اور صوبہ سندھ کے ساتھ ظلم ہے۔ جماعت اسلامی سندھ میں حقیقی تبدیلی اور عوام کے مسائل کے حل کے لیے عید کے بعد بدل دو نظام کو سنوار دو سندھ کو کے عنوان سے تحریک شروع کرے گی، بڑے بڑے شہروں میں دھرنوں و احتجاجی مظاہروں سے حکومتی نااہلی کو عیاں، سندھ کے حقوق اور عوام کے سلگتے مسائل کو اجاگر کیا جائے گا۔۔ ظالمانہ نظام کے خاتمے اور عادلانہ نظام کے قیام کے لیے عوام جماعت اسلامی کا ساتھ دیں۔





