ایرانیوں کی بقائ، امریکہ کی تنہائی

ایرانیوں کی بقائ، امریکہ کی تنہائی
نقارہ خلق
امتیاز عاصی
امریکہ ایران جنگ چوتھے ہفتہ میں داخل ہو چکی ہے۔ پاسداران انقلاب بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اس جنگ میں تیس لاکھ ایرانی بے گھر ہو چکے ہیں جن کی آبادی کاری میں برسوں لگ سکتے ہیں۔ امریکہ نے ایران کو عراق سمجھ کر حملہ تو کر دیا اسے لینے کے دینے پڑ رہے ہیں۔ خلیجی ملکوں کو بھی علم ہو گیا ہے امریکی اڈے ان کی حفاظت کے لئے نہیں تھے بلکہ ایک مسلمان ملک کی توڑنے کی سازش تھی جسے ایران کے عوام نے کامیاب نہیں ہو نے دیا۔ ایک زمانے میں مصر پر فرانس اور اسرائیل نے حملہ کیا تو امریکہ مصر کے حق میں ڈٹ کیا اور ظلم کے خلاف کھڑا ہوگیا مگر اب امریکہ کی ترجیحات بدل گئیں ہیں۔ صدر ٹرمپ اس جنگ میں کودنے کی ذمہ داری اپنے وزیر دفاع پر ڈال کر ذمہ داری سے جان چھڑانے کی کوشش میں ہیں۔ عجیب تماشا ہے نہ کانگریس سے منظوری لی اور بلا سوچے سمجھے ایران پر حملہ کر دیا۔ حقیقت میں دیکھا جائے تو امریکہ کے پلے کچھ نہیں رہا۔ وہ آبنائے ہرمز کھلوانے کے لئے نیٹو ملکوں کی مدد کا منتظر تھا لیکن انہوں نے بھی اسے جواب دے دیا۔ صدر ٹرمپ سپر پاور کے گھمنڈ میں ایرانیوں پر حملہ آور ہور کر ہاتھ مل رہا ہے اس سے بہت بڑی غلطی ہو گئی ہے۔ ایران کی دو ہزار سال پرانی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ایرانیوں کی تاریخ فتوحات سے بھری ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے ایرانیوں کے سامنے فلسفہ کربلا ہے، جس میں امام عالی مقام سیدنا حسین ؓ نے اپنے کنبہ کی جانوں کی قربانی دے دی مگر یزید کی بیعت نہیں کی۔ پاسداران انقلاب کے سپریم لیڈر کی شہادت نے ایرانی قوم کو مزید یکجا کر دیا ۔امریکہ کو کردوں اور پاسداران انقلاب کے مخالفوں سے بڑی امیدیں وابستہ تھی لیکن ٹرمپ کی ساری امیدیں خاک میں مل گئیں ایرانی قوم اپنے وطن کے دفاع میں متحد ہو گئی۔ امریکہ نے خلیجی ملکوں کے ساتھ کیسا ہاتھ کیا اڈے بھی قائم کئے اور ان کے اخراجات انہی ملکوں کے ذمے ڈال دیئے۔ مشرق وسطیٰ کے مسلمانوں کو دیر سے سمجھ آئی یہ اڈے ان کی حفاظت کی بجائے اسرائیل کا ایران پر غلبہ کرنے کی کوشش تھی لیکن ایراینوں نے امریکہ کوششوں کو جواں مردی سے ناکام بنا دیا۔ اس وقت امریکہ رجیم چینج کو بھول چکا ہے بلکہ منہ چھپاتا پھر رہا ہے۔ مذاکرات کی بات وہ ضرور کر رہا ہے ایرانی سمجھ چکے ہیں امریکہ مزید وقت لینے کی سازش کر رہا ہے۔ خلیجی ملکوں کو ایران پر شکوہ نہیں ہونا چاہیے جب کسی ملک پر میزائل گریں گے وہ جواب میں پھول تو نہیں بھیجے گا اس کا جواب دینا ضروری ہوتا ہے۔ عرب ملکوں کے مسلمان روپے پیسے کی فراوانی سے عیش و عشرت میں مگن تھے انہیں کیا پتہ تھا میزائل ان پر بھی گر سکتے ہیں البتہ انہیں اب سمجھ آچکی ہے ان کے ساتھ بہت بڑا ہاتھ ہو گیا ہے۔ امریکہ ایک طرف جنگ بندی کی باتیں کر رہا ہے دوسری طرف ایران کے مختلف شہروں پر حملے بھی ہو رہے ہیں جو امریکی صدر کے دوہرے معیار کا عکاس ہے۔ پاکستان کی حکومت اس وقت احسن طریقہ سے سفارت کاری کا فریضہ انجام دے رہی ہے۔ ٹرمپ جیسا مغرور صدر جو کسی حکمران سے بات کرنے پر راضی نہیں تھا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے مذاکرات کی بات کرنے پر مجبور ہوچکا ہے۔ کہا جا رہا ہے جنگ بندی ہو جائے گی مگر ایران کی شرائط کون پوری کرے گا۔ ایران نے جنگ کے اخراجات کے ساتھ جنگ بندی کی گارنٹی اور خلیج سے امریکی اڈے ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے یہ شرائط کون پوری کرے گا؟۔ عربوں کو بھی سمجھ آگیا ہے جن پتوں پر تکیہ کیا تھا وہی ہوا دینے لگے ہیں۔ اسرائیل تو گریٹر اسرائیل کے خواب دیکھ رہا تھا اس کا خواب پورا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ پاسداران انقلاب نے اس جنگ میں نئی تاریخ رقم کی ہے اور دنیا کو بتا دیا ہے ایرانی قوم سپر پاور سے ٹکرانے میں کوئی عار نہیں سمجھتی۔ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز چوبیس گھنٹے میں کھولنے کا الٹی میٹم دیا اس کا الٹی میٹم ایرانیوں نے ہوا میں اڑا دیا۔ پوری دنیا میں ایرانی عوام کے چرچے ہیں جو ایک سپر پاور کے سامنے سینہ سپر کھڑی ہے۔ امریکہ کبھی سوچ سکتا تھا ایرانی ایسا بھی کر دکھائیں گے۔ جنگ جذبوں سے لڑی جاتی ہے ایرانی قوم جہاد کے جذبے سے سرشار قوم ہے۔ صدر ٹرمپ کی اس سے زیادہ اور کیا سبکی ہوگی آبنائے ہرمز چوبیس گھنٹے میں کھولنے کا الٹی میٹم دھرے کا دھرا رہ گیا۔ پاکستانی عوام کی تمام تر ہمدردیاں ایرانی عوام کے ساتھ ہیں۔ آیت اللہ خمینی کے انقلاب نے ایران کی کایا پلٹ دی۔ جو بے حیائی کبھی ایران میں ہوا کرتی تھی انقلاب ایران کے بعد زمین بوس ہو چکی ہے۔ مکہ مکرمہ میں ایک دوست معلم سے میں نے پوچھ لیا تم ایران بھی جاتے ہو۔ بولا شاہ کے دور میں ہم جایا کرتے تھے مگر اب توبہ توبہ کبھی نہیں گئے۔ پاسداران انقلاب نے ایرانی معاشرے سے بے حیائی اور غیر اخلاقی رسموں کو خاتمہ کرکے ایران کو صحیح معنوں میں ایک اسلامی ریاست بنا دیا ہے ۔ جن حالات سے ایران اور امریکہ اور مشرق وسطیٰ کے ملک گزر رہے ہیں یہ بات یقینی ہے عالمی سطح پر کساد بازاری کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ ان حالات میں پاکستان کو اپنی برآمدات بڑھانے پر زور دینے کی اشد ضرورت ہے۔ گو ہمارا ملک ایٹمی ریاست تو ہے مگر معاشی طور پر ہم بہت کمزور ہیں۔ جب دوست ملکوں سے ڈالر لے کر اسٹیٹ بنک میں رکھے جائیں تو یہ سمجھ لینا ضروری ہے ملک کے معاشی حالات حوصلہ افزا نہیں ہیں۔ حکمرانوں کو سرکاری اخراجات کم سے کم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے نہ کہ اربوں کے جہاز خرید کر عوام کا مذاق اڑانا چاہیے۔ اے کاش ملک میں کوئی حکمران تو آئے جو لوٹ مار کرنے والوں کا کڑا احتساب کرے۔ اب تھوڑا ذکر افغانستان کا ہو جائے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن غضب للحق نے افغانستان کو بتا دیا ہے پاکستان کوئی کمزور ملک نہیں ہے۔ جن افغانوں کو عشروں تک پناہ دی وہی ہمارے دشمن ہیں۔ خبروں کے مطابق ٹی ٹی پی والے افغانستان کے وسطی علاقوں میں چھپتے پھر رہے ہیں۔ حق تعالیٰ ہماری بہادر افواج کو دشمن پر برتری دے، آمین۔
.







