Column

’’ پاکستان بنایا تھا، پاکستان بچائیں گے

’’ پاکستان بنایا تھا، پاکستان بچائیں گے‘‘
منزل عقاب
تحریر: یاسر دانیال صابری
23 مارچ محض ایک تاریخ نہیں، ایک عہد ہے، ایک ایسا عہد جو برصغیر کے مسلمانوں نے اپنے خون، اپنے خوابوں اور اپنی دعائوں سے لکھا۔ یہ وہ دن ہے جب ایک بکھری ہوئی قوم نے اپنے وجود کا شعور پایا، جب غلامی کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی امت نے آزادی کا خواب دیکھنے کی جرات کی، اور جب ایک نظریہ کاغذ سے نکل کر دلوں میں اتر گیا۔
’’ پاکستان بنایا تھا، پاکستان بچائیں گے‘‘ صرف ایک نعرہ نہیں، بلکہ ایک ذمہ داری ہے، ایک امانت ہے جو ہمیں ہمارے بزرگوں نے سونپی ہے۔
1940 ء کی اس قرارداد میں صرف ایک ریاست کا تصور پیش نہیں کیا گیا تھا، بلکہ ایک ایسا نظام مانگا گیا تھا جہاں انصاف ہو، جہاں مساوات ہو، جہاں ہر انسان کو اس کا حق ملے۔ یہ وہ خواب تھا جس میں ایک ایسا معاشرہ دکھایا گیا جہاں مذہب، نسل، زبان اور علاقے کی بنیاد پر کوئی تفریق نہ ہو، بلکہ ہر فرد کو عزت اور وقار کے ساتھ جینے کا حق حاصل ہو۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اس خواب کی حفاظت کی؟ کیا ہم نے اس امانت کو سنبھالا؟
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ قومیں یا تو اپنے نظریات کو مضبوط کرتی ہیں یا پھر ان سے دور ہوتی جاتی ہیں۔ بدقسمتی سے ہم نے ترقی کے نام پر اپنے اصل مقصد کو کہیں نہ کہیں پسِ پشت ڈال دیا۔ ہم نے آزادی تو حاصل کر لی، مگر اس آزادی کی روح کو برقرار رکھنے میں کمزور پڑ گئے۔ کرپشن، ناانصافی، لسانی تعصب، فرقہ واریت اور ذاتی مفادات نے اس نظریے کو دھندلا دیا جس کے لیے لاکھوں قربانیاں دی گئی تھیں۔
آج جب ہم 23مارچ مناتے ہیں تو ہمیں صرف پریڈ، جھنڈے اور تقاریر تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ ہمیں اپنے اندر جھانکنا ہوگا۔ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ ہم نے اس ملک کے لیے کیا کیا؟ ہم نے اپنی ذمہ داریوں کو کس حد تک نبھایا؟ کیونکہ وطن صرف زمین کا ٹکڑا نہیں ہوتا، بلکہ یہ ایک نظریہ، ایک احساس اور ایک مشترکہ خواب ہوتا ہے۔
’’ پاکستان بنایا تھا، پاکستان بچائیں گے‘‘ کا مطلب یہ نہیں کہ صرف دشمن کے خلاف لڑنا ہے، بلکہ اس کا اصل مفہوم یہ ہے کہ ہمیں اپنے اندر کے دشمنوں کو بھی پہچاننا ہوگا۔ وہ دشمن جو بدعنوانی کی شکل میں ہیں، جو جھوٹ اور دھوکے کی صورت میں ہیں، جو نفرت اور تقسیم کی شکل میں ہمارے معاشرے کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔ اگر ہم نے ان دشمنوں کا مقابلہ نہ کیا تو پھر بیرونی خطرات سے لڑنے کا کوئی فائدہ نہیں۔
بین الاقوامی سطح پر آج دنیا تیزی سی بدل رہی ہے۔ قومیں علم، ٹیکنالوجی اور معیشت کے میدان میں آگے بڑھ رہی ہیں۔ ایسے میں پاکستان کو بھی اپنے قدم مضبوطی سے آگے بڑھانے ہوں گے۔ ہمیں تعلیم کو اپنی اولین ترجیح بنانا ہوگا، کیونکہ یہی وہ ہتھیار ہے جو ہمیں عالمی برادری میں باوقار مقام دلا سکتا ہے۔ ہمیں اپنی نوجوان نسل کو وہ شعور دینا ہوگا جو انہیں صرف نوکری کے لیے نہیں بلکہ قوم کی خدمت کے لیے تیار کرے۔
پاکستان کا سب سے بڑا سرمایہ اس کی نوجوان آبادی ہے۔ اگر یہی نوجوان اپنے مقصد کو پہچان لیں، اگر یہی نوجوان اپنے اندر حب الوطنی اور دیانتداری کو جگہ دے دیں، تو کوئی طاقت پاکستان کو ترقی سے نہیں روک سکتی۔ مگر اگر یہی نوجوان مایوسی، بے راہ روی اور خود غرضی کا شکار ہو گئے تو پھر مستقبل تاریک ہو سکتا ہے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ وطن سے محبت صرف الفاظ تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ یہ محبت عمل میں نظر آنی چاہیے۔ جب ہم ایمانداری سے اپنا کام کرتے ہیں، جب ہم قانون کی پاسداری کرتے ہیں، جب ہم دوسروں کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں، تو ہم دراصل پاکستان کو مضبوط کر رہے ہوتے ہیں۔ ایک مضبوط قوم وہی ہوتی ہے جہاں ہر فرد اپنی ذمہ داری کو سمجھتا ہے اور اسے پورا کرتا ہے۔
23 مارچ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ ہم ایک عظیم مقصد کے لیے اکٹھے ہوئے تھے۔ یہ دن ہمیں اتحاد، ایمان اور تنظیم کا درس دیتا ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ اگر ہم ایک ہو جائیں تو ناممکن کو بھی ممکن بنا سکتے ہیں۔ مگر اگر ہم تقسیم ہو گئے، تو ہماری کمزوری ہمارا سب سے بڑا نقصان بن سکتی ہے۔
آج دنیا ہمیں دیکھ رہی ہے۔ وہ یہ دیکھ رہی ہے کہ کیا ہم اپنے نظریے کے ساتھ کھڑے ہیں یا نہیں۔ کیا ہم اپنے اصولوں پر قائم ہیں یا نہیں۔ اگر ہم نے خود کو سنبھال لیا، اگر ہم نے اپنی سمت درست کر لی، تو پاکستان نہ صرف ایک مضبوط ریاست بنے گا بلکہ دنیا کے لیے ایک مثال بھی بن سکتا ہے۔
’’ پاکستان بنایا تھا، پاکستان بچائیں گے‘‘، دراصل ایک عہد ہے جو ہمیں ہر دن، ہر لمحہ یاد رکھنا چاہیے۔ یہ عہد ہمیں یاد دلاتا ہے کہ یہ ملک ہمیں وراثت میں نہیں ملا بلکہ یہ قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ اس کی حفاظت کرنا ہماری ذمہ داری ہے، اس کی ترقی ہمارا فرض ہے، اور اس کی عزت ہماری پہچان ہے۔
آئیں! اس 23مارچ کو صرف ایک دن کے طور پر نہ منائیں، بلکہ اسے ایک نئے آغاز کے طور پر لیں۔ اپنے اندر عزم پیدا کریں، اپنے کردار کو مضبوط کریں، اور اپنے وطن کے لیے وہ کریں جو ہمارے بزرگوں نے ہم سے توقع کی تھی۔ کیونکہ اگر ہم نے آج اپنے فرائض کو پہچان لیا، تو کل کا پاکستان یقیناً روشن، مضبوط اور باوقار ہوگا۔
پاکستان بنایا تھا، اب اسے بچانا، سنوارنا اور دنیا کے سامنے سربلند کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔

جواب دیں

Back to top button