مدینہ سے بدر تک

مدینہ سے بدر تک
محمد مبشر انوار
قارئین کرام! گزشتہ ہفتہ سفر میں رہا گو کہ رمضان میں گزشتہ کئی برسوں سے، اللہ رب العزت کے بے پایاں عنایات میں اس خصوصی عنایت کا شکر ادا کرنے کے لئے الفاظ میرے پاس نہیں کہ مجھ گنہگار کو اپنے محبوبؐ کے روضہ پر حاضری کے لئے منتخب کر رکھا ہے، وگرنہ میں کہاں اور میری اوقات کیا، یہ سب تمہارا کرم ہے آقا۔ تاہم امسال ہمیشہ کی طرح مصروفیات کچھ زیادہ رہی اور تحریر کے لئے وقت نہ مل سکا، جس کے لئے قارئین سے معذرت خواہ ہوں، گو کہ برادرم عامر خورشید کو قبل از وقت آگاہ کر چکا تھا کہ اس مرتبہ مدینہ حاضری کے دوران، ایک ہفتہ کے لئے رخصت درکار ہے، جو انہوں نے کمال مہربانی سے قبول کر لی اور یوں تمام توجہ دوسرے امور کی جانب مرکوز رہی۔ دوسری مصروفیات میں، بنیادی اہم مصروفیت تو خیر در نبیؐ پر حاضری ہی تھی لیکن اس کے علاوہ، اپنے یو ٹیوب چینل کے حوالے سے بھی کچھ مصروفیت رہی اور اس سلسلے میں آسٹرولوجی کی معروف شخصیت محمد اسامہ علی سے بھی ملاقات رہی اور ان کے ایکو ماڈل سٹی کا وزٹ اور ان سے گفتگو بھی اچھی خاصی مفید رہی، تاہم اس معاملے میں ہم دونوں کا اتفاق اس بات پر رہا کہ آسٹرولوجی ایک علم ہے اور اس پر سو فیصد یقین کرنا ممکن نہیں کہ خالق کائنات ان ستاروں کی چالوں پر مکمل طور پر قادر ہے ،جن کی بنیاد پر،آسٹرولوجر پیش گوئیاں کرتے ہیں۔ لہذا ستاروں کی چالوں کا اندازہ تو لگایا جا سکتا ہے لیکن ان کی حتمی چالوں سے متعلق کہنا بعید از قیاس ہے کہ وہ جس نظام کے تحت محو حرکت ہیں، اس پر کامل کنٹرول اللہ رب العزت کا ہے اور وہ جیسے چاہے اور جہاں چاہے، ان چالوں کو بدلنے پر قادر ہے، اس لئے ان پیش گوئیوں کے متعلق یہ کہنا کہ یہ سو فیصد درست ہے،ممکن نہیں۔ مدینہ کش شب و روز ایسے روح پرور ہیں کہ ان کو بیان کرنا ممکن نہیں، فضا میں چارسو رحمتوں و برکتوں کی ایک چادر تنی ہے جس سے جو جتنا چاہے مستفید ہو سکتا ہے اور عبادات میں مشغول اللہ کے بندے، مسلسل اپنے لئے ان رحمتوں، برکتوں کو سمیٹتے نظر آتے ہیں۔ کہیں نوافل کی ادائیگی ہے تو کہیں تلاوت قرآن سے دلوں کے زنگ کو اتارنے کی کوشش ہے تو کہیں کوئی ذکر الہی میں غرق اپنے تار رب سے اور رب کے محبوب سے جوڑنے میں مستغرق دکھائی دیتا ہے،تو کہیں کوئی خدمت خلق میں ڈوبا ایک سرے سے دوسرے سرے تک گھومتا دکھائی دیتا ہے تو کہیں کوئی افطار کے انتظامات میں جتا نظر آتا ہے۔ روضہ رسولؐ میں مسجد نبوی کی اندرونی حصہ ہو یا بیرونی صحن، ہر جگہ پر مدینہ کے شہری تو دستر خوان سجائے ہوئے ہیں مگر دیگر ممالک کے مسلمان بھی اس بابرکت مہینے میں جابجا، اپنی استطاعت کے مطابق روزہ داروں کی افطاری کا سامان لئے موجود ہیں ۔ آج بھی مدینہ کے شہری ،انصار مدینہ کی یاد تازہ کرتے دکھائی دیتے ہیں اور جیسے انصار مدینہ نے مہاجرین کو کھلے بازوئوں کے ساتھ خوش آمدید کہا تھا اور ان کی خدمت میں اپنے وسائل مہیا کئے تھے، شہر مدینہ میں آج بھی سعودی شہری اسی سنت پر عمل پیرا ہیں اور اس شہر کے مہمانوں کے لئے اپنے بازو ہمیشہ کھلے رکھتے ہیں، مدنی شہریوں کا دست سخا آج بھی ویسا ہی ہے اور کسی بخل سے کام نہیں لیتے بشرطیکہ ان کی دسترس میں ہو۔ مجھے آج بھی ایک ذاتی تجربہ بہت زیادہ ہانٹ کرتا ہے کہ کیا کمال سخاوت ان مدنی شہریوں کی ہے، غالبا رمضان ہی کے دن تھے، مدینہ حاضری کے لئے پہنچا ہوا تھا، روضہ رسولؐ پر سلام پیش کرکے، واپس مسجد نبویؐ میں داخل ہوا اور اپنے ہوٹل کی جانب جا رہا تھا کہ ( باہر سے گھوم کر آنا خاصہ طویل ہوجاتا ہے، جبکہ میرا ہوٹل روضہ کے عقبی جانب تھا لہذا لمبے چکر سے بچنے کے لئے، مسجد کے اندر سے گزر رہا تھا، جو ایک نارمل بات ہے)، وہیں مسجد کے اندر غالبا ایک مصری اپنے کفیل کو عطر پیش کر رہا تھا، جبکہ سعودی شہری نجانے کیوں اس سے اعراض برت رہا تھا، پاس سے گزرتے گزرتے یونہی میں نے سعودی سے کہہ دیا کہ یہ عطر مجھے دے دو اگر تم نہیں لینا چاہتے۔ میں یہ کہہ کر پاس سے گزر تو گیا مگر بمشکل دو قدم ہی چلا ہوں گا کہ پیچھے سے سعودی نے آواز لگائی، یا محمد ( بالعموم انجان کو یا محمد کہہ کر بلایا جاتا ہے) میرے واپس گھومنے پر، سعودی شہری نے وہ عطر اپنے مصری عمال سے لے کر مجھے تھما دیا، میری حیرت کی انتہا نہ رہی جبکہ مصری کے چہرے پر شدید رنج و غصہ کی کیفیت دکھائی دی، بہرحال بتانے کا مقصد صرف اتنا تھا کہ کس طرح سعودی شہری عموما اپنی سخاوت و فیاضی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
عید کے روز، برادرم محمد اسامہ علی نے اپنے ایکو ماڈل سٹی میں کھانے کی دعوت دے رکھی تھی، ماشاء اللہ، اللہ نے وسعت نظر کے ساتھ وسعت قلب بھی عطا کر رکھی ہے اور جو میسر ہوتا ہے دسترخوان کی زینت نظر آتا ہے، عموما بہترین اور لذت سے بھرپور، جس میں خلوص و چاہت بھی بھرپور شامل ہوتی ہے، مہمانوں کی ضیافت کے لئے پیش کر دیا جاتا ہے۔ عموما محمد اسامہ علی کی اہلیہ یہ سارے امور تن تنہا سرانجام دیتی دکھائی دیتی ہیں، جس میں نہ صرف مہمانوں کی ضیافت شامل ہے بلکہ برادرم اسامہ نے جو لنگر کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے، اس کے لئے بھی ان کی اہلیہ قدم بقدم اپنے مجازی خدا کے ساتھ دکھائی دیتی ہے اور مسجد قبا اور مسجد نبویؐ کے درمیانی راستے میں اس لنگر کو مستحقین میں اپنے ہاتھوں سے اس یقین کے ساتھ تقسیم کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ اپنے ہاتھ سے تقسیم کرنے میں جو لطف ہے اور جو اجر ہے، اس کو بیان کرنا ممکن نہیں، اور حقیقت بھی یہی ہے۔ بہرحال اسی شام، اس ضیافت میں آئے ایک نوجوان مہمان سے ملاقات انتہائی دلچسپ رہی اور آج کا عنوان بھی اسی نوجوان کی کاوش پر رکھا ہی جس کو ابھی بیان کرنے جا رہا ہوں، مہمانوں میں اس نوجوان کا تعارف بطور سید ہنزلہ کے طور پر ہوا، اور دوران گفتگو صحابی رسول سید ہنزلہؓ کا ذکر بھی ہوا کہ وہ واحد صحابیؓ ہیں کہ جن کو غسل فرشتوں نے دیا، جس کی نظیر اس سے قبل اور بعد نہیں ملتی۔ سید ہنزلہ کافی عرصہ سے مدینہ رسول میں مقیم ہیں اور سخت تگ و دو کے بعد اس وقت اپنا گھوڑوں کا اصطبل رکھتے ہیں، جس میں وہ نہ صرف گھوڑوں کی افزائش بلکہ نوجوانوں کی تربیت کے لئے بھی مواقع فراہم کرتے ہیں، اس کا موقع بھی سید ہنزلہ کو ایک برطانوی کی معرفت میسر آیا کہ اولا تو جس شراکت دار کے ساتھ مل کر اصطبل کھڑا کیا، اس نے حسب روایت، کاروبار مستحکم ہونے پر سید ہنزلہ کو بے دخل کر دیا۔ یہ معاملات یہاں عام ہیں اور اکثر یکطرفہ ہی نظر آتے ہیں دوسری جانب کا موقف سامنے نہیں آتا لہذا اسی کو تسلیم کرکے آگے بڑھتے ہیں ، بعد ازاں سید ہنزلہ ایک برطانوی کے اشتہار پر اس سے منسلک ہوئے اور اب دوبارہ سے مستحکم حالت میں ہیں اور اپنے روزگار کو مسلسل بڑھا رہے ہیں۔ گھوڑوں کی افزائش پر، نسب پر اور دیگر امور پر بات چیت ہوتی رہی کہ کس طرح سعودی عرب میں گھوڑوں کے نسب کو محفوظ رکھا جاتا ہے اور کیسے ان کی دستاویز بنائی جاتی ہے، جو بہرحال دیگر ممالک میں بھی نسب کے حوالے سے ایسے ہی ترتیب دیا جاتا ہے جبکہ سعودی عرب میں گھوڑوں کی نسل و نسب کے حوالے سے دستاویزی ریکارڈ اب رکھا جانے لگا ہے اور اسی نسبت سے گھوڑوں کی قیمت کا تعین بھی ہوتا ہے، عربی گھوڑے بیش قیمت فروخت ہوتے ہیں بشرطیکہ ان کی نسل و نسب کا ریکارڈ درست ہو، گھوڑوں کے شوقین منہ مانگی قیمت پر خریدتے ہیں۔
دوران گفتگو، مدینہ سے بدر کے سفر کی بات ہوئی تو ساڑھے چودہ سو سال قبل نبی اکرمؐ کی قیادت میں، مسلمانوں کی قلیل جماعت نے، کن مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے، مدینہ سے بدر تک کا سفر کیا اور مشرکین مکہ کی دھمکیوں کا جواب دیا۔ سید ہنزلہ نے بتایا کہ وہ اور ان کے چند دوست، جن کی تعداد تیرہ تھی، نے آج کے آسائشوں سے بھرپور دور میں ، سنت رسولؐ کو تازہ کرنے کا سوچا اور بعینہ اس راستے سے مدینہ سے بدر کا سفر اختیار کیا جس راستے سے آقائے دو جہان نبی اکرمؐ ، اپنے صحابہؓ کے ساتھ گئے تھے، سبحان اللہ۔ آج کے نوجوان میں یہ الفت، یہ قربت، یہ قرینہ اور یہ سلیقہ کہ اپنے آقا ؐ کی سنت کو دہرانے کی نیت، کہ کیسے ہمارے آقاؐ نے اس دین کی آبیاری کی اور کیسے اس دین کو ہم تک پہنچانے کے لئے تکالیف برداشت کی، ان کا تجربہ خود کرنے کی ٹھانی، گو کہ اس وقت میں نہیں مگر اس کا ہلکا سا اندازہ کرنے کے لئے ہی سہی، میرے نزدیک تو یہ بھی کسی سعادت سے کم نہیں۔ بہرکیف، سید ہنزلہ کا کہنا تھا کہ پانچ دن کی اس مسافت نے انہیں اور ان کے ساتھیوں کو توڑ کر رکھ دیا، تاہم اس کا فائدہ یہ ہوا کہ بقول ان کے، سعودی حکومت نے ان کی کاوش کو سراہتے ہوئے، اس راستے کو باقاعدہ راستہ بنانے کا اعلان کیا ہے، یعنی مدینہ سے بدر تک کا وہ راستہ جس سے نبی اکرمؐ اور صحابہ کرامؓ نے اسلام کے ابتدائی دنوں میں سفر کا قصد کیا تھا۔





