ٹرمپ صدمات میں اضافہ

ٹرمپ صدمات میں اضافہ
صورتحال
سیدہ عنبرین
امریکہ نے دنیا کا تیل لوٹنے کا فیصلہ قریباً سو برس قبل کیا تھا، اس کی حکمت عملی بنانے میں اسے پندرہ، بیس سال لگے، پہلے اس نے دنیا کے مختلف حصوں میں تیل کے ذخائر تلاش کئے، پھر اپنا ٹائم ٹیبل بنایا کہ وہ کب اور کون سے ملک میں ڈکیتی کیلئے جائے گا۔ آج سے پون صدی قبل ایران پر ڈاکٹر مصدق کی حکومت تھی، ان کی حکومت کا تختہ الٹ کر اپنے ایجنٹ پہلوی خاندان کو تخت پر بٹھایا گیا، پھر ستائیس برس تک ایرانی تیل کی لوٹ کا سلسلہ جاری رہا۔ ایرانی انقلاب کے بعد امریکہ کو وہاں سے دیس نکالا ملا تو وہ عرب ممالک اور خلیج کے تیل کے ذخائر کی طرف متوجہ ہوا۔ عراق، کویت، لیبیا، مصر، شام، سوڈان، یمن اور وینزویلا تیل ڈکیتی کے وہ سلسلے ہیں جو آج تک جاری ہیں، اس کی حریص نظریں ایک مرتبہ پھر ایران کے تیل پر ہیں، جنہیں وہ مختلف بہانوں سے ہتھیانے کی متعدد کوششیں کر چکا ہے، اس مرتبہ اس کی طاقت ایران کی وسعتوں میں دفن ہو جائے گی۔
امریکہ کی تیل کے معاملے میں حرص کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ اگر اسے اطلاع ملے کہ دنیا میں کہیں کسی پکوڑوں کی دکان میں ایک کڑاہی تیل سے بھری رکھی ہے تو امریکہ کسی نہ کسی بہانے وہاں بھی یہ جانے بغیر حملہ کر دے گا کہ وہاں کھانے پکانے کیلئے استعمال ہونے والا تیل موجود ہے یا گاڑیاں، جہاز چلانے کیلئے کارآمد تیل۔
بنگلہ دیش کے پاس تیس روز کیلئے تیل کے ذخائر موجود رہتے ہیں، پاکستان اور بھارت تین ماہ کا پٹرول ذخیرہ رکھتے ہیں ۔ یورپی ممالک پانچ ماہ، سائوتھ کوریا سات ماہ، جاپان نو ماہ کی سٹوریج رکھتا ہے۔ کینیڈا کے پاس پچاس برس کیلئے تیل کے ذخائر موجود ہیں۔ روس کے پاس پچاس برس جبکہ امریکہ کے پاس اپنے ذخائر آئندہ پندرہ، بیس برس کیلئے موجود ہیں۔ امریکہ اپنے تیل کے ذخائر کو محفوظ رکھ کر دنیا کے دیگر تیل رکھنے والے ممالک کے ذخائر لوٹ کر انہیں استعمال کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ اس کی تیل لوٹ ترجیحات میں عرب ممالک کے تیل پر ہاتھ صاف کرنا ترجیح اول ہے، جہاں تیل کے وسیع ذخائر ہیں، وہ ان ملکوں کا تیل خود بھی استعمال کرتا ہے اور سستے داموں خرید کر دنیا کے دیگر کمزور ملکوں کو مہنگا فروخت کرتا ہے۔ ایران پر حملے کے بعد اس کی بھرپور کوششیں ہے کہ اس کے اتحادی کسی نہ کسی طرح اس جنگ میں حصہ دار بنیں، تاکہ بعد ازاں وہ اس جنگ کا مالی بوجھ ان ممالک پر تقسیم کر دے۔
امریکی صدر اپنے اتحادی ممالک کے سربراہوں سے ہنگامی بنیادوں پر ملاقاتیں کرتے اور انہیں اپنا ہمنوا بنانے کی کوششوں میں مصروف نظر آتے ہیں۔ چند روز قبل جاپان کی خاتون وزیراعظم امریکہ کے دورے پر آئیں، تو مہمانوں سے بدتمیزی کیلئے مشہور ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا کے سامنے انہیں بٹھا کر بے عزت کرنے کی کوششیں کی۔ انہوں نے جاپانی وزیراعظم سے پوچھا آج آپ ہمیں ’’ پرل ہاربر‘‘ کے بارے میں کچھ بتائیں۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپانیوں نے پرل ہاربر پر ایک خوفناک حملہ کیا، جس پر امریکہ بوکھلا گیا، اسے اپنی شکست سامنے نظر آنے لگی، جس پر اس نے جاپان کے دو شہروں ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم برسائے، جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد ہلاک ہوئے۔
خاتون جاپانی وزیراعظم کو ڈونلڈ ٹرمپ سے اس بدتمیزی کی توقع نہ تھی، لیکن انہوں نے ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس بدتمیزی کا جواب نہ دیا، حالانکہ وہ بھی ٹرمپ سے پوچھ سکتی تھیں کہ جناب پرل ہاربر پر جاپان کا حملہ اور امریکہ کے ایٹم بم تو ماضی بعید کا قصہ ہیں، آپ دنیا کو اپنی آج کی کہانی سنائیں اور بتائیں ’’ ایپسٹین فائلز‘‘ کا معاملہ کہاں تک پہنچا ہے۔ اس کے تازہ ترین ریلیز کردہ ایڈیشن میں ٹرمپ پرفارمنس کے بہت چرچے ہیں، وہ چاہتیں تو بیگم ٹرمپ کے برہنہ میگزین کیلئے ماڈلنگ کے شوق کے بارے میں بھی پوچھ سکتی تھیں، لیکن ایک مہذب خاتون ہونے کے ناطے انہوں نے ایسی کوئی بات نہ کی، لیکن بعد ازاں انہوں نے جو کچھ کیا، اسے چھتر اتار کر سو مار کر یا ننانوے پر پہنچ کر بھول جانے کے بعد دوبارہ گنتی شروع کرنے کے مترادف قرار دیا جا سکتا ہے۔ جاپانی وزیراعظم نے امریکہ کا اتحادی ہونے کے باوجود جاپان پہنچنے کے فوراً بعد ایران سے براہ راست رابطہ کرنے کے بعد آبنائے ہرمز سے اپنے جہاز بخیر و عافیت گزارنے کیلئے ایرانی شرائط پر معاہدہ کر لیا ہے، جس کے مطابق ہر گزرنے والے بحری جہاز، آئل ٹینکر پر دس فیصد ٹیکس ادا کیا جائے گا۔ امریکی صدر کو یہ خبر ملی تو وہ بے حد پریشان ہوئے، لیکن جو ہونا تھا وہ ہو چکا تھا، ٹرمپ کو بد زبانی کا مزہ چکھایا جا چکا تھا۔ امریکی صدر پے در پے صدمات کی زد میں ہیں۔ سوئٹزر لینڈ نے امریکہ کو ہتھیاروں کی برآمد روک دی ہے، اس کا موقف ہے کہ یہ ہتھیار کسی حقیقی تنازعے میں تو استعمال ہو سکتے ہیں لیکن امریکہ کا ایران پر حملہ بلاجواز ہے، لہٰذا اسے ہتھیاروں کی سپلائی بند کی جا رہی ہے۔ امریکی ذرائع اس بات کی تصدیق کر چکے کہ امریکہ کے پاس میزائل ختم ہو رہے ہیں، ایسی ہی کیفیت اسرائیل کی ہے، جس کے پاس اب ایرانی میزائل حملوں کو روکنے والے انٹر سیپٹر میزائل ختم ہو گئے ہیں، جبکہ اس کا فضائی دفاعی نظام ایرانی میزائلوں نے تباہ کر دیا ہے۔
امریکہ کو پہنچنے والے تازہ ترین صدمات میں بڑا صدمہ یہ ہے کہ ایک ہفتے میں اس کے شہرہ آفاق تین ایسے جہاز گرائے گئے ہیں جو اس کیلئے کمانے والے بیٹے سمجھے جاتے تھے، ان میں ایف 15، ایف 16اور فینٹم 35جہاز شامل ہیں۔ امریکی سر پکڑے بیٹھے ہیں کہ ریڈار پر نظر نہ آنے والا طیارہ ایرانیوں کو کیسے نظر آ گیا۔ امریکہ کے بعض دکھ ایسے ہیں جنہیں وہ کسی سے بیان بھی نہیں کر سکتا۔ اس کے پندرہ عدد ایف سولہ جہاز ایران پر حملہ کرنے گئے مگر پھر واپس نہ آئے، یہ معمہ کئی روز سے حل نہیں ہو سکا کہ ایران کے پہاڑ انہیں کھا گئے یا ایرانی صحرائوں نے انہیں نگل لیا۔ رات گئے ایک امریکی بحری جہاز نے آبنائے ہرمز سے چپ چپیتے گزرنے کی کوششیں کی، جسے ناکہ لگائے لوگوں نے فل فرائی کر دیا ہے، کئی گھنٹے تک اس میں ایرانی میزائل سے لگی آگ نہ بجھائی جا سکی۔
امریکہ اور اسرائیل اپنے گھٹنوں پر آ چکے ہیں، وہ عرب ممالک کو اس جنگ میں گھسیٹنا چاہتے تھے، ان کی کوششیں ناکام ہوئیں، اب انہوں نے برطانیہ اور یورپی ممالک کو اس جنگ میں اپنا ساتھی بنانے کی کوششیں کی ہے۔ امریکہ یا اسرائیل کے کسی اڈے سے ڈیگو گارشیا کے فوجی اڈے پر میزائل حملہ کیا گیا، اور کہا گیا کہ یہ حملہ ایران نے کیا ہے، اس جھوٹ کا مقصد یہ تھا کہ امریکہ جس طرح ستر برس تک ایران کا نام لے کر عرب ممالک کو ڈراتا رہا اور ان کا مال بٹورتا رہا، اب وہ برطانیہ اور یورپ کو ایرانی میزائلوں سے ڈرا کر ان کا مال کھانے کا راستہ ڈھونڈ رہا ہے، اور انہیں شریک جنگ بنانا چاہتا ہے۔ ایران نے واضع کر دیا کہ اس نے برطانیہ اور امریکہ کے مشترکہ اڈے ڈیگو گارشیا پر حملہ نہیں کیا، جس کے بعد ٹرمپ صدمات میں اضافہ ہوا ہے۔





