انٹیلی جنس کی کامیابی بمقابلہ میزائل ٹیکنالوجی سے لاعلمی

انٹیلی جنس کی کامیابی بمقابلہ میزائل ٹیکنالوجی سے لاعلمی
قادر خان یوسف زئی
واشنگٹن اور تل ابیب کے ایوانوں میں یہ خام خیالی اور سٹریٹجک فریب پختہ ہو چکا تھا کہ ایران پر ایک اچانک، تباہ کن اور فیصلہ کن فضائی حملہ کر کے نہ صرف اس کی جوہری تنصیبات کو ہمیشہ کے لیے خاکستر کیا جا سکتا ہے بلکہ اس کی اعلیٰ قیادت کا صفایا کر کے فوری طور پر ایک ’’ رجیم چینج‘‘ کا خواب بھی شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اور اسرائیلی ڈیفنس فورسز کے اندازے ایران کی ادارہ جاتی گہرائی اور سٹرکچرل لچک کو سمجھنے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔ آج جب ہم اس جنگ کے شعلوں کو پورے مشرق وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لیتے دیکھ رہے ہیں، تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ جدید ترین ٹیکنالوجی، اسٹیلتھ بمبار طیاروں اور کروز میزائلوں کی بوچھاڑ کسی قوم کی نفسیات اور کئی دہائیوں پر محیط ریاستی ڈھانچے کو راتوں رات تسخیر نہیں کر سکتی۔ اس امریکی اور اسرائیلی حکمت عملی کا سب سے بڑا اور بنیادی محور ایرانی قیادت کو براہ راست نشانہ بنانا تھا۔ جنگ کے پہلے ہی دن سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ فوجی و انٹیلی جنس کمانڈرز کو نشانہ بنا کر یہ گمان کر لیا گیا تھا کہ ایران کا ریاستی ڈھانچہ تاش کے پتوں کی طرح بکھر جائے گا۔ لیکن ایران کے نظام نے ثابت کیا کہ وہ کسی ایک فردِ واحد کی ذات سے کہیں زیادہ گہرا اور متبادل قیادت کے نظام سے لیس ہے۔ ان خوفناک قاتلانہ حملوں کے باوجود، ماہرین کی اسمبلی نے انتہائی سرعت کے ساتھ مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر منتخب کر لیا، جنہوں نے اقتدار سنبھالتے ہی ریاست کے اعصاب کو مجتمع رکھا۔ جب علی لاریجانی اور غلام رضا سلیمانی جیسے اہم رہنماں کو نشانہ بنایا گیا، تو یہ مزید واضح ہو گیا کہ امریکہ سفارت کاری کے تمام راستے بند کر کے صرف بارود کے ذریعے نتائج حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اس جنگ نے نہ صرف پرانے عسکری مفروضوں کو غلط ثابت کیا ہے بلکہ ایران کی نئی، غیر متوقع اور حیران کن فوجی صلاحیتوں کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔ یہاں انٹیلی جنس کی کامیابی بمقابلہ میزائل ٹیکنالوجی سے لاعلمی کا ایک انتہائی حیران کن تضاد ابھر کر سامنے آتا ہے۔ یہ درست ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے غیر معمولی انٹیلی جنس کامیابی حاصل کی، جس کا ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے جنگ کے پہلے ہی دن دن دہاڑے سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ قیادت کے خفیہ اجلاس کی درست نشاندہی کر کے انہیں نشانہ بنایا۔ تاہم، وہ ایران کی میزائل ٹیکنالوجی میں ہونے والی اس پیش رفت سے یکسر غافل رہے۔ اس لاعلمی کی بنیادی وجہ ایران کی جانب سے معلومات کو انتہائی خفیہ رکھنا اور دانستہ طور پر غلط فہمی پھیلانا تھا۔ فروری 2026ء میں ہی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے یہ بیان دیا تھا کہ ایران نے اپنے میزائلوں کی رینج خود 2000کلومیٹر تک محدود کر رکھی ہے۔ امریکی ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی کی 2025ء کی رپورٹ میں بھی یہی اندازہ لگایا گیا تھا کہ ایران 2035ء سے پہلے بین البراعظمی یا انتہائی طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل نہیں بنا پائے گا۔ لیکن ایران نے انتہائی رازداری کے ساتھ اپنے ’’ خرم شہر۔4‘‘ (Khorramshahr۔IV) میزائل پر ہلکا وار ہیڈ نصب کر کے اس کی رینج 3800سے 4000کلومیٹر تک بڑھا لی، جو امریکی انٹیلی جنس ریڈار سے مکمل طور پر اوجھل رہی۔ بادی النظراس غفلت کا نتیجہ مارچ 2026ء میں بحر ہند کی وسعتوں میں واقع دور دراز امریکی و برطانوی مشترکہ فوجی اڈے ’’ ڈیاگو گارشیا‘‘ پر ہونے والے حملے نے ثابت کیا کہ اب خلیج کے محفوظ سمجھے جانے والے امریکی اڈے اور مغربی یورپ کے دارالحکومت بھی ایران کی براہ راست زد میں ہیں۔
یہ تاثر قطعی غلط ہے کہ ایران نے اس میزائل حملے سے انکار یا تردید کی تھی۔ اس کے برعکس، زمینی حقائق یہ ہیں کہ ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ’’ مہر‘‘ نے باقاعدہ اس حملے کی تصدیق کی اور اسے ایک ’’ اہم قدم‘‘ قرار دیتے ہوئے یہ فخریہ دعویٰ کیا کہ اس کارروائی سے ثابت ہوتا ہے کہ ایران کے میزائلوں کی پہنچ اور صلاحیت دشمن کے سابقہ تصورات سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ محض ایک میزائل کا تجربہ نہیں تھا، بلکہ عالمی طاقتوں کے لیے دو ٹوک پیغام تھا کہ جدید غیر متوازی جنگ میں اب کوئی جغرافیائی خطہ محفوظ پناہ گاہ نہیں رہا۔ تنازع کے قریبی محاذ پر، جنوبی اسرائیل کے انتہائی حساس شہروں ڈیمونا اور عراد پر ایرانی بیلسٹک میزائلوں کے حملوں نے خطے کے دفاعی اور نفسیاتی توازن کو بری طرح مجروح کیا ہے۔ ڈیمونا، جسے اسرائیل کے غیر اعلانیہ جوہری ہتھیاروں کی جائے پیدائش سمجھا جاتا ہے، پر ہونے والے حملے محض شہری اہداف پر فائرنگ نہیں تھے، بلکہ نطنز میں ایرانی جوہری تنصیب پر ہونے والے حملے کا عین جواب تھے۔ اسرائیل کا کثیرالجہتی اور اربوں ڈالر مالیت کا ایئر ڈیفنس سسٹم ان بھاری روایتی وار ہیڈز کو فضا میں تباہ کرنے میں ناکام رہا، جس سے ثابت ہوا کہ جدید ترین دفاعی ٹیکنالوجی بھی غیر متناسب حملوں کے سامنے بے بس ہو سکتی ہے۔
جون 2025ء کے ’’ آپریشن مڈ نائٹ ہیمر‘‘ کی تاریخ پر نظر دوڑانا ضروری ہے۔ اس وقت امریکہ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔ لیکن ایٹمی تنصیبات پر ان خوفناک حملوں کے باوجود ایران کی جوابی صلاحیت برقرار رہنے کی وجہ اس کے حساس اثاثوں کا زیرِ زمین ہونا اور انہیں مسلسل منتقل کرنے کی حکمت عملی ہے۔ 2025ء کے حملوں کی لیک ہونے والی انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق، امریکی بنکر بسٹر بموں نے صرف سطح زمین پر موجود انفراسٹرکچر تباہ کیا تھا، جبکہ ایٹمی پروگرام کے بنیادی حصے، جیسے سینٹری فیوجز اور افزودہ یورینیم، یا تو تباہ نہیں ہوئے تھے یا پھر انہیں حملے سے پہلے ہی خفیہ مقامات پر منتقل کر دیا گیا تھا۔ ایٹمی مواد کو زیرِ زمین مخصوص اور نامعلوم ٹھکانوں پر محفوظ رکھنا عالمی طاقتوں کے لیے ان کی مکمل تباہی کو انتہائی مشکل بنا دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 2025 ء کی مبینہ تباہی کے محض چند ماہ بعد ہی ایران 60فیصد افزودہ یورینیم کے 440کلوگرام کے ذخیرے کے ساتھ واپس ابھرا۔جنگ کے زمینی محاذ پر، امریکہ اس دلدل میں باقاعدہ فوج اتارنے سے گریزاں ہے، کیونکہ ایران کا جغرافیہ اور آبادی ایک نہ ختم ہونے والی گوریلا جنگ کو دعوت دے سکتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کی جنگ امریکہ نے شروع کی تھی، یورپ کا ایران سے مطالبہ کرنا حیران کن ہے کہ وہ اس امر سے خود کو کیوں غافل رکھنا چاہتے ہیں کہ اس وقت دنیا کو جن حالات کا سامنا ہے اس کا ذمے دار ایران نہیں ہے۔





