ColumnRoshan Lal

کھیل، تفریح اور بے کیف زندگیاں 

تہوار، کھیل، تفریح اور بے کیف زندگیاں

تحریر : روشن لعل

اگر ہم اپنے ارد موجود لوگوں کے روزمرہ معمولات دیکھیں تو ان کی زندگیاں بے کیف یکسانیت میں الجھی ہوئی نظر آتی ہیں۔ اگر مزید غور کیا جائے تو کچھ ایسے چھوٹے چھوٹے وقفے دکھائی دینے لگتے ہیں، جن میں روشنیوں کے حالے بے کیف زندگیوں پر چھائے یکسانیت کے بادل چیر کر انہیں خوشیوں کے رنگوں سے آویزاں کر رہے ہوتے ہیں۔ بے کیف زندگیوں میں خوشیوں کے رنگ بھرنے والے یہ وقفے کسی مذہبی، علاقائی یا ثقافتی تہوار یا پھر کھیلوں کی سرگرمیوں سے موسوم ہوتے ہیں۔ عید، بسنت اور ثقافتی ایام سے موسوم یہ تہوار، نئے کپڑوں، مختلف قسم کے پکوانوں، تحفے تحائف اور عزیز و اقارب کی محبتوں سے مزین ہو کر معاشرتی سطح پر رونقیں بکھیرتے ہوئے اجتماعی خوشیوں کو دوبالا کر تے ہیں۔ یہ تہوار بچھڑے ہوئوں کو قریب لانے کا وسیلہ بنتے ہیں۔ ان تہواروں سے جڑی ہوئی لوگوں کے بچپن کی یادیں ، زندگی کا خوبصورت اثاثہ بن کر آخری سانسوں تک ساتھ نبھاتی رہتی ہیں۔ یہ تہوار ہمیں آپس میں محبتیں اور خوشیاں بانٹنے اور رشتوں کی اہمیت کو محسوس کرنے کی راہ دکھاتے ہیں۔ یوں یہ تہوار ، ثقافتی رشتوں اور سماجی روابط کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔

انسانوں کو خوشیوں فراہم کرنے کا ذریعہ صرف تہوار نہیں بلکہ کھیل کے میدان بھی ہیں۔ اگر کھیلوں کی بات کی جائے تو جو جوش جذبہ یہاں کرکٹ میچوں کے دوران نظر آتا ہے وہ کسی اور کھیل کے مقابلے میں دیکھنے کو نہیں ملتا۔ کرکٹ کے میدانوں میں بھی اگر مقابلہ بھارت کے ساتھ ہو تو پھر ہمارا جوش و جذبہ ساری دنیا کے لیے دیدنی ہوتا ہے۔ بھارت کے ساتھ کرکٹ میچ کھیلتے ہوئے اگر پاکستان کی ٹیم اتفاقیہ بھی جیت جائے تو پاکستانیوں کی خوشی ناقابل بیان ہو جاتی ہے۔ قصہ مختصر یہ کہ لوگ خوشی و تفریح کی غرض سے جب کوئی بھی میچ دیکھتے ہیں تو مزید خوشی کے حصول کے لیے وہ اپنی ٹیم کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ خوش ہونے کے لیے انہیں ہر حال میں بھارت کے خلاف جیت مطلوب رہتی ہے۔ مگر کیا کیا جائے کہ لوگوں کو تفریح مہیا کرنے والی کھیلوں کی سرگرمیاں یہاں دہشت گردوں کی وجہ سے ایک عرصہ تک مفقود رہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک المیہ یہ بھی ہے کہ لوگوں کو صحت مند تفریح کے مواقع فراہم کرنا یہاں کبھی بھی حکام بالا کی ترجیح نہیں رہی۔ یہ بات درست ہے کہ ہمارے ارد گرد لوگوں کی زندگیاں تفریح کے مناسب مواقع نہ ہونے کی وجہ سے بے کیف نظر آتی ہیں مگر ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ پاکستان میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو تفریح کی قدر و قیمت کا احساس کرنے سے عاری ہیں۔تفریح کے لیے بنجر ہو تی جارہی ہماری سر زمین پر کھیلوں کی سرگرمیاں امید کی کرن بن کر چھوٹے چھوٹے پودے اگاسکتی ہیں۔ گو کہ کھیلوں کی سرگرمیوں کو تفریح فراہم کرنے کا بہت بڑا ذریعہ سمجھا جاتا ہے مگر ان کے متعلق یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان سے حاصل ہونے والی تفریح اور خوشی صرف من پسند ٹیم کی جیت سے مشروط ہوتی ہے۔ جیت کے بعد تو کھیلوں سے وابستہ خوشیاں تادیر قائم رہتی ہیں مگر شکست کا زخم ہر کسی کو تادیر غمزدہ کیے رکھتا ہے۔ تفریح کے حصول کے لیے کھیلوں کی اہمیت اپنی جگہ مگر وہ لوگ جو کسی بھی قسم کے اضطراب کے بغیر خوش ہونا چاہتے ہیں انہیں چاہیے کہ کھیلوں کے علاوہ تفریح کے دیگر دستیاب ذریعوں کی طرف بھی راغب ہوں۔

کچھ عرصہ پہلے تک ملک کے زرعی سماج میں میلے ٹھیلے تفریح کا اہم ذریعہ ہوا کرتے تھے لیکن مشینی کاشت اور دیہاتوں سے شہروں کی طرف اندھا دھند نقل مکانی کے رحجان نے دیہی زندگی کے شب و روز اسطرح سے متاثر کیے کہ روایتی تفریح کا عنصر غیر محسوس طور پر دیہاتوں سے تقریباً غائب ہو کر رہ گیا ہے۔ شہری آبادیوں میں بھی تفریح لوگوں کی ترجیحات کا حصہ نہیں ہے۔ شہروں میں متمول لوگ تفریح کے نام پر جو کچھ کرتے ہیں اسے تفریح سے زیادہ فضول خرچی اور عیاشی سمجھا جاتا ہے ۔ مگر یاد رہے کہ بچوں کی وجہ سے اب بھی دیہاتوں اور شہروں میں تفریح اپنے حقیقی رنگوں میں کہیں نہ کہیں نظر آہی جاتی ہے۔ تفریح کے تناظر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ تفریحی مقامات پر اگر گہما گہمی اور رونق نظر آتی ہے تو اس کا محرک زیادہ تر بچے ہی ہوتے ہیں ۔ اس سلسلے میں اولاد کی محبت کے جذبے سے سرشار والدین کا اپنے بچوں کے لیے وقت صرف کرنا اور انہیں سیر و سیاحت کے مواقع فراہم کرنا بھی یقیناً قابل قدر عمل ہے۔ جن والدین کو اپنے بچوں کی خوشیاں عزیز ہیں انہیں چاہیے کہ وہ اپنی مصروفیات میں سے کچھ وقت نکال کر اندرون یا بیرون شہر محفوظ تفریحی مقامات کی سیر کو جائیں۔

تفریح کا عنصر صرف کھیلوں اور سیر و سیاحت میں ہی نہیں، فنون لطیفہ ، تھیٹر، فلم ، گائیکی، رقص اور دیگر ہر قسم کی ثقافتی سرگرمیوں میں بھی موجود ہے۔ یہ تمام شعبے تفریح کی فراہمی کے ساتھ اس لیے بھی اہم ہیں کے ان کے اظہار کے مقامات پر مختلف قسم کے لوگ ایک جگہ اکٹھے ہوتے ہیں ، ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں، باتیں کرتے ہیں، آپس میں معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں اور یہ سب کچھ کرتے ہوئے انہیں ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقعہ بھی ملتا ہے۔ دور حاضر میں زندگی اس قدر مصروف ہوتی جارہی ہے کہ اپنے پیاروں کے ساتھ گزارنے کے لیے وقت نکالنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ خواہش کے باوجود تفریح کے لیے وقت کی عدم دستیابی لوگوں میں ذہنی تنائو پیدا ہونے یا اس میں اضافہ کی وجہ بن رہی ہے۔ اس صورتحال سے گریز یا اس سے باہر نکلنے کے لیے ضروری ہے کہ ان لوگوں کے ساتھ سیاحتی مقامات پر جانے، فلم ، تھیٹر یا میچ دیکھنے اور دیگر تفریحی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لیے وقت نکالا جائے۔ ایک صحت مند معاشرے کی تعمیر کے لیے لوگوں کا تفریح کی طرف راغب ہونا بہت ضروری ہے۔ تفریح چاہے جس بھی ذریعے سے حاصل کی گئی ہو یہ انسانوں کو خوشیوں کی فراہمی کا باعث بنتی ہے۔ خوشیوں سے وابستہ یہ کہاوت جس قدر پرانی ہے اسی قدر درست بھی ہے کہ جب کوئی خوش ہوتا ہی تو اس وقت اس سے زیادہ متمول کوئی دوسرا نہیں ہوتا۔ خوشی ہی وہ عنصر ہے جو تنائو اور پریشانیوں کے خاتمے کے لیے کسی بھی مہنگی سے مہنگی دوائی سے زیادہ پر اثر ہے۔

لہذا یاد رہے کہ تفریح کرنا یا لطف اندوز ہونا اصل میں سوچ سمجھ کر کیا گیا وقت کا ایسا استعمال ہونا چاہیے جس کے دوران ذہنی اور جسمانی تازگی کا احساس پیدا ہو ۔ دنیا میں لوگوں کی اکثریت سیر سیاحت کے ساتھ کھیلوں کی سرگرمیوں، فلم اور تھیٹر وغیرہ کو بھی تفریح کے اہم ذریعے خیال کرتی ہے۔ جدید سوچ کے مطابق کہا جاتا ہے کہ تفریح کو فرصت کے لمحات سے مشروط نہیں کیا جانا چاہیے کیونکہ فرصت کے لمحات تو بہت سے لوگ سو کر یا آرام کر کے بھی گزار دیتے ہیں اس لیے سونے اور آرام کرنے کو کسی صورت تفریح نہیں کہا جاسکتا ۔ تفریح کا انحصار کبھی بھی فرصت کے لمحات پر نہیں ہونا چاہیے بلکہ جس طرح روزگار ، کام اور دوسرے روزمرہ امور کے لیے منصوبہ بندی کی جاتی ہے اسی طرح تفریح کے لیے بھی پہلے سے وقت مختص کیا جانا چاہیے تاکہ زندگی کا توازن برقرار رہے۔

جواب دیں

Back to top button