تازہ ترینخبریںدنیاسپورٹسپاکستان

پاکستانی کھلاڑیوں کے لیے نئے پیشہ ورانہ راستے ناگزیر

*پاکستانی کھلاڑیوں کے لیے نئے پیشہ ورانہ راستے ناگزیر ہیں، عمر احمد*

 

*کھیل اب صرف مقابلہ نہیں ایک عالمی صنعت ہے: صدر پاکستان ایم ایم اے فیڈریشن*

 

لاہور: پاکستان مکسڈ مارشل آرٹس فیڈریشن کے صدر عمر احمد نے کھیلوں میں کامیابی کو پیشہ ورانہ مواقع سے جوڑنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ دور کی عالمی اسپورٹس انڈسٹری میں ایتھلیٹس کی بقا کے لیے محض تمغے جیتنا کافی نہیں ہے۔

 

عمر احمد نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اگرچہ پاکستان مختلف کھیلوں میں باصلاحیت کھلاڑی اور میڈل جیتنے والے پیدا کر رہا ہے، لیکن منظم پیشہ ورانہ راستوں کی عدم موجودگی کے باعث بہت سے کھلاڑی معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا، "کھیل اب محض ایک مقابلہ نہیں بلکہ ایک صنعت بن چکا ہے۔ اگر تمغے کھلاڑیوں کے لیے معاہدوں، رینکنگ یا آمدنی کا ذریعہ نہیں بنتے، تو ہمیں اپنے موجودہ نظام کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔”

 

صدر پی ایم ایم اے ایف نے اس بات کی نشاندہی کی کہ پاکستان کا اسپورٹس ایکو سسٹم اب بھی زیادہ تر داخلی سطح کی پہچان تک محدود ہے اور بین الاقوامی پیشہ ورانہ مارکیٹوں کے ساتھ اس کا الحاق نہ ہونے کے برابر ہے۔ ان کے بقول، قومی سطح کی فتوحات اور ایونٹس میں شرکت اکثر کھلاڑیوں کے لیے طویل مدتی کیریئر میں تبدیل نہیں ہو پاتی۔

 

مارشل آرٹس کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے عمر احمد نے اولمپک ڈسپلنز اور ابھرتے ہوئے پیشہ ورانہ کھیلوں کے درمیان فرق کو واضح کیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ تائیکوانڈو، کراٹے، ریسلنگ اور باکسنگ جیسے کھیل بین الاقوامی نمائش اور اولمپک کے مواقع تو فراہم کرتے ہیں، لیکن بڑے مقابلوں کے بعد ان میں اکثر مستحکم پیشہ ورانہ آمدنی کے ذرائع میسر نہیں ہوتے۔

 

اس کے برعکس، انہوں نے مکسڈ مارشل آرٹس کو ایک تیزی سے بڑھتی ہوئی عالمی صنعت قرار دیا جس کا ترقیاتی ڈھانچہ نہایت واضح ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انٹرنیشنل مکسڈ مارشل آرٹس فیڈریش بڑے پیمانے پر شوقیہ چیمپئن شپ منعقد کرتی ہے، جو کھلاڑیوں کو بین الاقوامی سطح پر اپنی شناخت بنانے اور پیشہ ورانہ کیریئر کی طرف بڑھنے کا راستہ فراہم کرتی ہے۔ عمر احمد نے مزید کہا، "IMMAF ایک ایسے فیڈر سسٹم کے طور پر کام کرتا ہے جہاں باصلاحیت کھلاڑیوں کی نشاندہی کی جاتی ہے اور پیشہ ورانہ پروموشنز ان کے ساتھ معاہدے کرتی ہیں، جس کے بعد ایک فائٹر پروفیشنل سطح پر فی مقابلہ 25 سے 30 ہزار ڈالر تک کما سکتا ہے۔”

 

عمر احمد نے مزید کہا کہ پاکستان مکسڈ مارشل آرٹس فیڈریشن نے ملک کے اندر اسی طرح کا راستہ بنانے کے لیے کام کیا ہے۔ فیڈریشن نے مستقل بنیادوں پر بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کی، عالمی اور براعظمی سطح پر تمغے حاصل کیے اور بڑے علاقائی ایونٹس کی میزبانی کی۔ انہوں نے ‘پاکستان اوپن’ کو ایک کلیدی قومی پلیٹ فارم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بین الاقوامی چیمپئن شپ کے لیے کھلاڑیوں کے انتخاب کا ذریعہ ہے اور عالمی سطح پر اسکاؤٹنگ کے لیے فائٹرز کو نمایاں کرتا ہے۔

 

صدر پی ایم ایم اے ایف کے مطابق، فیڈریشن کی حکمت عملی ایسے نظام بنانے پر مرکوز ہے جو نچلی سطح کے مقابلوں کو بین الاقوامی مواقع سے جوڑ سکے۔ انہوں نے اختتام کرتے ہوئے کہا، "ہمارا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ تمغہ کھلاڑی کے سفر کا اختتام نہیں بلکہ ایک پیشہ ورانہ دور کا آغاز ہو۔” انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کا مجموعی اسپورٹس سیکٹر ایسے ماڈلز اپنا کر فائدہ اٹھا سکتا ہے جو ایتھلیٹس کی طویل مدتی ترقی اور انہیں عالمی منڈیوں کا حصہ بنانے کو ترجیح دیتے ہیں۔

جواب دیں

Back to top button