
وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے افغان طالبان رجیم کی جانب سے پاکستان پر کابل میں منشیات کی بحالی کے اسپتال کو نشانہ بنانے کے الزام اور جھوٹے دعوے کو سراسر بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغان طالبان رجیم جھوٹ بول رہی ہے ‘ کابل اور ننگرہار میں 16 مارچ 2026ء کی رات کو کئے گئے حملے قطعی، دانستہ اور پیشہ وارانہ تھےجس میں کامیابی سے اہداف کو نشانہ بنایاگیا ہے ۔ تاہم کسی ہسپتال‘منشیات بحالی کے مرکز اورشہری سہولت کی عمارت کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔
اہداف میں فوجی اور دہشت گردی کا بنیادی ڈھانچہ تھا جس میں گولہ بارود اور تکنیکی آلات کے ذخیرہ کرنے کی جگہیں اور پاکستان کے خلاف دشمنی کی سرگرمیوں سے منسلک دیگر تنصیبات شامل تھیں‘ کابل میں آگ کے شعلے اور ثانوی دھماکے مزید اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ گولہ بارود کے ذخیرہ کرنے کی جگہ کو درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا‘ منشیات کے عادی افراد اور معصوم بچوں کا خودکش بم حملوں سمیت گھناؤنے مقاصد کے لئے استحصال کیا جا رہا ہے‘ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنی جاری جنگ میں صرف ان عسکری اور دہشت گرد اہداف بشمول افغان طالبان رجیم کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہا ہے جو پاکستان کے اندر دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی، سہولت کاری، پناہ گاہ، تربیت یا حوصلہ افزائی کے لئے براہ راست یا بالواسطہ طور پر استعمال ہو رہے ہیں







